0

ویسے تو یہ کھلا راز ہے؟

ویسے تو یہ کھلا راز ہے؟

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان جو غیر مرئی مفاہمت نظر آئی وہ دوسرے سیاسی امور تک نہیں چل سکی، اور  تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا خطاب فاصلوں میں اضافے کا سبب بن گیا۔ مشترکہ اجلاس اور صدر کا خطاب آئینی ضرورت تھی، اور قواعد کے مطابق اس سے پارلیمانی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اگرچہ اس ایوان میں سکون  والی روایت نہیں ہے، اور قریباً ہر صدارتی خطاب کے موقع پر احتجاج ہوا،لیکن حزبِ اختلاف کا بائیکاٹ زیادہ بار نہیں ہوتا رہا، تاہم جمعرات کو نہ صرف احتجاج ہوا بلکہ اپوزیشن والوں نے بائیکاٹ بھی کیا۔ اس بائیکاٹ کی معروضی حالات میں خصوصیت یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام نے بھی ساتھ دیا۔ حزبِ اختلاف کو اعتراض یہ ہے کہ صدارتی خطاب کے لئے مشترکہ اجلاس اچانک بلایا گیا، جیسے کوئی ایمرجنسی ہو، اس اجلاس کی نہ تو اطلاع دی گئی اور نہ ہی ایجنڈا بروقت جاری کیا گیا۔حزبِ اقتدار والوں نے تو یہ خطاب ڈیسک بجا بجا کر سنا اور ان کی طرف سے یہ وضاحت ہے کہ مشترکہ اجلاس طلب ہوا تو اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔بہرحال یہ تو اب سپیکر اسد قیصر کے سوچنے کی بات ہے کہ ان کی کوششوں سے قانون سازی میں جو فضا پیدا ہوئی وہ آگے نہیں بڑھ پائی اور حزبِ اختلاف نے صدارتی خطاب کا بائیکاٹ کر کے احتجاج بھی کیا۔

جہاں تک دونوں ایوانوں میں حالیہ قانون سازی کا تعلق ہے کہ متعدد تجربہ کار صحافی دوست بھی حیران تھے کہ حزبِ اختلاف جب اہم مواقع پر ”بڑی مفاہمت“ کا مظاہرہ کرے تو پھر ایوانوں کے باہر ان کے   احتجاج کی کیا وقعت ہے اور متحدہ اپوزیشن کا نعرہ لگا کر حکومت مخالف تحریک چلانے کی باتیں، یا تو اشک شوئی ہے اور یا پھر عوام کو مطمئن کرنا مقصود ہے، حالانکہ ایوانِ زیریں میں اپوزیشن کی تعداد اتنی ضرور ہے کہ کوئی بھی قانون آسانی سے منظور نہیں ہو سکتا، اور جہاں تک ایوانِ بالا کا تعلق ہے تو وہاں متحدہ اپوزیشن کی اکثریت ہے،لیکن اتحاد نہیں ہے۔میرے خیال میں یہ ایک کھلا  راز ہے جسے ہمارے دوست بوجوہ بیان نہیں کرتے،اب تو صدرِ مملکت نے اپنے خطاب میں بالکل واضح کر دیا وہ کہتے ہیں، سب ادارے ایک صفحہ پر ہیں، تو جناب!ایسی صورت میں قومی اہمیت کی قانون سازی میں رکاوٹ بہت ہی مشکل کام ہے، اس کے لئے تو پھر انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے تاہم یہاں نوجوانوں میں اب انقلابی روح بیدار نہیں  ہوتی اور اس کا احساس خود حزبِ اختلاف کو بھی ہے۔ یوں بھی جب بھوکا بٹیر زیادہ لڑتا تھا، وہ زمانہ بیت گیا کہ اب بٹیر بھی جانتے ہیں کہ ان کے مالک اصلی نہیں جعلی شہ دیتے اور حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ یہ بھوکے بٹیر جب مایوس ہوں اور ان کا رزق تنگ ہو گیا تو پھر؟؟

سوچا کچھ اور بات کسی اور طرف نکل گئی، سیاسی میدان اور حلقوں میں کشمکش اور ہنگامہ جاری ہے اور اسی دوران دور کی کوڑیاں بھی لائی جاتی اور درفنطنیاں بھی چھوڑی جاتی ہیں ایسی ہی ایک درفنطنی کی اب بزبان خود جہانگیر ترین نے تردید کر دی ہے، وہ لندن میں ہیں اور خبر دی گئی کہ ان کی وہاں محمد نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے،وہ کہتے ہیں، مَیں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ انٹرویو میں اپنے بارے میں ریمارکس کا بھی خیر مقدم کیا۔ہر دو دوستوں کی گفتگو اور فقروں سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ اختلاف سے خوش ہونے والوں کے لئے اچھی خبر نہیں اور ان کا اطمینان مزید تھوڑی دیر کے لئے ہے۔اسی حوالے سے ایک اور سیاسی پیشرفت بھی منظر عام پر آئی۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو  زرداری کو خود فون کیا اور ان سے کل جماعتی کانفرنس(اپوزیشن والی) بلانے کے حوالے سے تبادلہ  خیال کیا اور یقین دلایا کہ مسلم لیگ(ن) ایسی کانفرنس کے فیصلوں پر عمل بھی کرے گی۔اس سے قبل مریم نواز نے جب ایک بار زبان بندی ختم کی تو انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے والد محمد نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کر کے ان کی ناراضی دور کرنے کے لئے کہا ہے۔ یوں یہ سیاسی مدو جذر ہے جو جاری ہے،لیکن میڈیا کے حضرات (واقعی سینئر) یہ سوچتے ہیں کہ یہ تضادات کی سیاست کب تک اور کس طرح چلے گی۔

ان حالات کے حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید سرگرم عمل ہی رہتے ہیں، ان کو میڈیا والے فرزند ِ راولپنڈی اور ہمارے دیرینہ محلے دار حال مقیم اسلام آباد لال حویلی سے اُٹھے بقراط کا القاب دیتے ہیں۔ شیخ رشید نے پھر دہرایا کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے اور کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔یہ این آر او بھی کیا چیز ہے، اپوزیشن کے ہر احتجاج ے جواب میں حزبِ اقتدار کی طرف سے این آر او کا طعنہ دیا جاتا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کو چیلنج کیا کہ وہ این آر او مانگنے والوں کے نام بتائیں۔ شبلی  فراز نے قبول کر کے شام تک بتانے کا کہا تھا، تادم تحری ایسا ہوا نہیں، ممکن ہے جلد یہ راز بھی افشاء ہو جائے۔ ہم بھی  منتظر ہیں۔

اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے، اگر قائد حزبِ اختلاف محمد شباز شریف کا ذکر نہ کیا گیا تو بات مکمل نہیں ہو گی اور معروضی حالات کی مکمل آگاہی نہ ہو سکے گی۔محمد شہباز شریف کی پُراسرار بے عملی اور صرف بیان بازی کے ساتھ مریم نواز کی حالیہ گفتگو  کو ملا کر جو خیال آرائی  کی جا رہی ہے وہ شیخ رشید کی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اختلاف ہے، جو اب محمد شہباز شریف کے رویے کے بعد مریم نواز کے بیان اور محمد نواز شریف کی طرف سے فون والی کوشش سے ظاہر ہے۔یہ اندازہ درست ہے اور حقیقت بھی ہے کہ دونوں بھائیوں کی حکمت عملی میں فرق ہے اور یہ تو پرانی بات ہے،جو چودھری نثار کی علیحدگی سے ثابت ہو چکی ہوئی ہے، تاہم یہ امر محل نظر ہے کہ حکمت عملی کے اس اختلاف کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) بٹ گئی یا بٹ جائے گی۔ یہ ممکن ہوتا تو کب کا ہو چکا ہوتا، خصوصاً اس وقت جب محمد شہباز شریف کو واضح طور پر وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش ہوئی اور انہوں نے معذرت کر لی تھی، ایسی کوشش ایک سے زیادہ بار ہو چکی،لیکن علیحدگی نہیں ہوئی کہ دونوں بھائیوں میں احترام کا اتنا مضبوط رشتہ ہے کہ محمد شہباز شریف اس حد  کو پار نہیں کریں گے۔ یوں بھی مسلم لیگ(ن) محمد نواز شریف ہی کے بیانیہ پر قائم ہے،اِس لئے جو حضرات یہ سوچتے ہیں کہ بٹوارہ ہو گا،ان کی یہ سوچ خوش فہمی پر مبنی ہے۔ البتہ غور طلب بات یہی ہے کہ حزبِ اختلاف کا نیم دروں نیم بروں والا رویہ کیوں؟ اور مولانا فضل الرحمن کا جادو کب سر چڑھے گا، سوچتے رہئے غور کرتے جائیے، ویسے یہ کوئی بڑا راز بھی نہیں ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں