Home » وہ دور نہیں رہا

وہ دور نہیں رہا

by ONENEWS

ہوسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے، لیکن وہ دور بھی نہیں رہا کہ ایک گروہ یا طبقہ سب کو یرغمال بنا کر وسائل خود ہضم کرتا رہے، تازہ بحران ہے ہی ایسا کہ سب کو اپنی لپیٹ میں لئے بغیر ٹل نہیں سکتا، کل تک جو اپوزیشن جماعتیں سر جھکا کر ”سو جوتے سو پیاز“ کھانے کو تیار تھیں اب آنکھیں دکھارہی ہیں، یہ سب اسی لئے ممکن ہوا کہ ملک میں احتساب کا یکساں معیار لاگو ہے نہ ہی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا کوئی تصور موجود ہے، ملتان کے جلسے کو حکومت اور اس کے سرپرستوں نے بجا طور پر اپنی انا کا مسئلہ بنایا، ویسے تو پی ڈی ایم کی تحریک کے آغاز ہی سے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جو بار آور نہیں ہوسکیں، ملتان کے جلسے کے بارے میں منصوبہ سازوں نے پورا داؤ کھیلنے کا سوچا، ان کا پلان یہی تھا کہ قاسم باغ سٹیڈیم کے ساتھ پورا شہر سیل اور متحرک کارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریاں کرکے جلسے کا ماحول نہیں بننے دیا جائے گا، تاکہ 13 دسمبر کو لاہور کے مجوزہ جلسے سے پہلے ہی احتجاجی تحریک کو روک دیا جائے،

ریاستی اداروں نے تمام ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے زور آزمائی شروع کی تو پی ڈی ایم کی قیادت اصل منصوبہ فوری طور پر بھانپ گئی، مولانا فضل الرحمن ہنگامی طور پر ملتان جا پہنچے، یہ طاقت اور اعصاب کا کھیل تھا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا اعلان کردیا، منصوبہ ساز جلسہ روکنا چاہتے تھے،مگر بازی ہاتھ سے نکل گئی، پی ڈی ایم نے چوک گھنٹہ گھر میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا، حکومت تک یہ بات پہلے ہی پہنچائی جاچکی تھی کہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے دیا جائے گا، اس جلسے کی خاص بات آصفہ بھٹو زرداری کی انٹری تھی،انہوں نے حکومت کی رخصتی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹھوس پیغام دیا، مریم نواز نے جاندار تقریر کرتے ہوئے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا، وزیر اعظم اور حکومت کے حوالے سے مختلف کرپشن سکینڈل گنواتے ہوئے کھل کر کہا کہ سارے نہیں صرف دو سیلیکٹر حکومت کی بس کو دھکا لگانے کی کوشش کررہے ہیں، مگر بی آر ٹی (پشاور) کی طرح یہ بھی چل نہیں پا رہی، اختر مینگل نے جو کچھ ہفتے پہلے تک حکومت کے اتحادی تھے واضح کیا کہ اب گالی کا جواب تھپڑ سے دینگے، مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے ساتھ سرپرستوں کو بھی لپیٹا، انہوں نے ملتان جلسے سے ایک روز پہلے وزیراعظم عمران خان کے ”دورے“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا نِکّا اپنا اقتدار بچانے کے لئے ابے کے گھر کا طواف کر رہا ہے، لیکن حکومت بچ نہیں سکتی، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اب جلسوں میں کیسی کیسی باتیں ہونے لگی ہیں۔

کراچی کو چلانا مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، ماضی قریب میں نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کے دور میں کافی ترقیاتی کام ہوئے، اب اگر کراچی کی صورتحال خراب ہے تو اس کی وجوہات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،ویسے بھی ملک کا کون سا شہر یا علاقہ ہے جہاں معاملات اچھے یا حسب معمول ہوں، کراچی کے حوالے سے مستقبل قریب میں کچھ بڑا نہیں ہونے والا،ایسے میں عسکری قیادت کی کراچی کے متعلقہ اجلاسوں میں شرکت سے کیا حاصل ہو گا، جو اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا، اس میں بھی زیادہ سے زیادہ ایف ڈبلیو او کے سربراہ کو مدعو کیا جانا چاہیے تھا، ایک تجربہ سب کے سامنے ہے، چند ماہ قبل غیر معمولی بارشوں کے باعث تباہی کے دوران جب نیشنل ڈیزاسڑ مینجمنٹ اتھارٹی کو طلب کیا گیا تو وہ بھی کچھ نہ کرسکی، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ کے رہائشی تک احتجاج کے لئے سڑکوں پر آگئے، بعض حکومتی شخصیات کی اکڑ، کچھ عدالتی فیصلوں اور کچھ  اینکرز کی لائن سے سب کو پتہ چل ہی جاتا ہے کہ سب ایک پیج پر ہیں،اسی لئے تو اپوزیشن کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ احتساب، مقدمات، انتقامی کارروائیوں سے لے کر ہر طرح کی حکومتی ناکامیوں کا ملبہ براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہی ہے، مختلف ٹاک شوز میں دفاعی تجزیہ کاروں کو جو مشکلات پیش آنا شروع ہوگئی ہیں وہ بھی اسی تبدیلی کی ایک علامت ہے، ایک وقت تھا کہ ان ریٹائرڈ حضرات کے سامنے دوسرے شرکا محتاط ہو کر گفتگو کرتے تھے، مقدمات، کورونا حتیٰ کہ دھماکوں تک کی کھلی دھمکیاں ملنے کے باوجود پی ڈی ایم کے جلسوں میں رش صرف اس وجہ سے نہیں کہ حکومت کی پالیسوں سے تنگ ہیں، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیاسی کارکنوں میں پی ڈی ایم کا بیانیہ جڑ پکڑ رہا ہے،

جو باتیں اب جلسوں میں کہی جارہی ہیں یہ پہلے ڈرائنگ روموں اور کونوں کھدروں میں ڈر ڈر کر کی جاتی تھیں، پھر تھوڑی ہچکچاہٹ دور ہوئی تو مختلف مواقع پر بحث مباحثے ہونے لگے،اب تو کیا شہر، کیا گاوں ہر جگہ یہ باتیں ہو رہی ہیں، بظاہر اپوزیشن کے بیانیہ سے غیر متفق نظر آنے والے حکومت کے حامی بھی مانتے ہیں کہ جو معاملات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بے وزن نہیں، 73 برسوں میں ہم نے سب کچھ کرکے دیکھ لیا، لیکن تنزلی سے چھٹکارا نہ پاسکے، اب وہ کرنا ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوا، یہ محض اپوزیشن کا مطالبہ ہی نہیں، بلکہ حالات اس موڑ پر آچکے ہیں کہ اصل تبدیلی ناگزیر ہوچکی،اس عمل کو طاقت سے روکنے کی کوشش مزید بربادی لائے گی، یہ مان لینے میں ہی بہتری ہے کہ اب وہ پہلے والا دور نہیں رہا،سیاستدانوں کی طرح باقیوں کا احتساب بھی کرنا ہوگا، یہ کب تک ممکن رہے گا کہ جنرل مشرف اور عاصم باجوہ کو کوئی چھو نہ سکے، جسٹس ارشاد اور جسٹس ثاقب نثار کسی کو جوابدہ نہ ہوں، کٹھ پتلی سول حکمرانوں کی جانب کوئی آنکھ نہ اٹھا سکے،اینکرز تک کو کھلی چھوٹ ہو، سو آوازیں  تو اٹھیں گی اور جد و جہد بھی ہوگی، کیونکہ یہ باتیں اب عام لوگوں کو بھی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ اس حوالے سے پی ڈی ایم نے تاریخی کام کر دکھایا ہے, یہ محسوس ہورہا ہے کہ معاملہ جہاں تک آ پہنچا ہے اس مقام سے واپس نہیں جائے گا، بات بڑھتی نظر آرہی ہے، ہوسکتا ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد شفاف، منصفانہ اور آزادانہ نئے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ تسلیم کر لینا بھی غنیمت نظر آئے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment