Home » وہ اخلاق اور تہذیب کیا ہوئی؟

وہ اخلاق اور تہذیب کیا ہوئی؟

by ONENEWS

وہ اخلاق اور تہذیب کیا ہوئی؟

سوشل میڈیا اور سیاسی میدان میں جو ”دنگل“ جاری ہے اور اس میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے،اس سے شہری پریشان ہیں، تو ایسے حضرات کی تعداد بھی کچھ کم نہیں، جو مزے لیتے، بلکہ اپنی طرف سے بھی حصہ ڈالتے ہیں،لیکن ہم جیسے لوگ اس سے لطف اندوز نہیں،بلکہ بدمزہ ہو رہے ہیں کہ اندرون شہر لاہور اور خصوصاً اکبری دروازہ/موچی گیٹ کے رہنے والے ہونے کے باوجود بھی ہمیں اپنے نمائندوں سے ایسی زبان کی توقع نہیں ہوتی اور تعلیمی میدان کے بعد سندھ میں ملازمت اور پھر واپسی کے دوران جب ہم نے پیشہ ئ صحافت میں قدم رکھا تو تب بھی اقدار پر عمل ہوتا تھا اور مخالفین کے لئے تنقید بھی مہذب انداز ہی سے ہوتی تھی، ہمارے دورِ طالب علمی میں تو حسین شہید سہروری، میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، ولی خان جیسے رہنما تھے تو صحافت کے دوران بھی ہمارا واسطہ نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو،مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور،مخدوم زادہ حسن محمود، محمد خان جونیجو اور ذوالفقار علی بھٹو سمیت بھاری بھر کم سیاسی رہنماؤں، حتیٰ کہ دوسرے درجہ کی قیادت سے بھی واسط رہا، کبھی بھی سیاست میں گالم گلوچ یا ذاتی حملوں کی نوبت نہیں آئی تھی، پارلیمانی کارروائی کے دوران اگر کسی رکن کے کسی سخت ریمارکس پر اعتراض ہوتا تو سپیکر معزز رکن کو الفاظ واپس لینے کے لئے کہہ دیتے اور وہ تسلیم بھی کر لیتے تھے،

دوسری صورت میں سپیکر از خود فیصلہ کر کے الفاظ کارروائی سے حذف کرا دیتے تھے، چنانچہ شدید کشیدگی کے دوران بھی تہذیب کا دامن تار تار نہیں ہوتا تھا، اس سلسلے میں دو مثالیں کافی ہوں گی۔نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم انتہائی سخت کشیدگی کے دوران بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو اور جناب ضیاء الحق کہہ کر نام لیتے تھے، اسی طرح نوک جھونک بھی مہذیب ہوئی۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں پی این اے اور جنرل صاحب کا رومانس ختم ہوا تو تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا، ایک مرتبہ جنرل ضیاء الحق نے طنزاً کہا کہ مولانا شاہ احمد نورانی بھی تو پان کھاتے ہیں، اس کے جواب میں مولانا نے اسلام پورہ میں جمعیت علماء پاکستان کے دفتر والی ایک نشست میں ہمارے توجہ دلانے پر جواب دیا، جناب! ضیاء الحق بھی تو ”ڈن ہل“ کے سگریٹ پیتے ہیں، تب دونوں حضرات پان کھاتے اور سگریٹ پیتے تھے۔ یہ تو سیاست میں غیر مہذب انداز کی آمد ”اوئے،اوئے“ سے شروع ہوئی اور اب بڑھتے بڑھتے ذاتیات تک آ گئی ہے۔ یہ یقینا درست انداز نہیں، ہم اندرون شہر والوں کو بھی پسند نہیں، اب یہ کتنی ناگوار صورتِ حال ہے کہ ایوان میں کسی جماعت کے رہنما پر اس کے انداز کو جشن کے حوالے سے تشبیہہ دی جائے تو دوسری طرف سے ریحام خان کی کتاب سے انہی محترم وزیر کی ذات کے حوالے سے دیئے گئے ریفرنس کی بات کی جائے، ہماری خواہش اور درخواست ہے کہ سیاسی رہنما گریز کریں تو بہتر عمل ہو گا۔ یوں بھی آج تک ایسی پارلیمان نہیں دیکھی، جس میں دائیں اور بائیں والے ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرتے، ورنہ موقف اپنا اپنا ہوتے ہوئے بھی دوستیاں قائم رہتیں، ہنسی، مذاق ہوتا اور کیفیٹیریا میں تو حضرات اکٹھے چائے بھی مل کر پینے مل جاتے تھے۔

بات آج پھر کدھر سے کدھر نکل گئی، حالانکہ پختہ ارادہ تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمن کی حالیہ مہم جوئی کے پس منظر کا ذکر کریں اور ان کے بارے میں اپنی ذاتی رائے دیں گے،لیکنذ تازہ ترین محاذ آرائی نے تہذیب کی بات کرنے پر مجبور کر دیا، اس حوالے سے بھی مولانا فضل الرحمن کریڈٹ کے حامل ہیں کہ وہ شدید طعنہ زنی اور اپنے بارے میں غیر مہذب استعمال ہوتے ہوئے بھی اخلاق کا دامن تھامے رکھتے ہیں، البتہ طنز اچھی کرتے ہیں، ان کی جماجعت کے اہم رہنما حافظ حسین احمد بھی طنزیہ گفتگو کرتے ضرور ہیں،لیکن یہ دائرہ تہذیب سے باہر نہیں ہوتی،اِس لئے ہماری دِلی خواہش ہے کہ زمانہ پھر سے لوٹ آئے کہ اصول پر قائم رہتے ہوئے دشمنی تک نوبت نہ آئے۔

اب چونکہ بات ارادے سے باہر چلی ہی گئی تو ایک محترم کی اچھی تجویز کے حوالے سے بھی چند الفاظ کا اضافہ کر لیتے ہیں۔ رانا اکرام ربانی مہربان ہیں،وہ صوبائی وزیر تھے تو قائد حزبِ اختلاف بھی رہے، ان کی حزبِ اختلاف ننھی منھی تھی،اس کے باوجود ان کی کارکردگی بہترین تھی اور حزبِ اقتدار (مسلم لیگ ن) کو پنجاب اسمبلی میں ب ڑی مشکل پیش آتی تھی، رانا اکرام ربانی مطالعے کے بھی عادی ہیں اور وہ کالم وغیرہ پڑھتے اور مضامین بھی لکھتے رہے ہیں، محترم رانا ہمارے کالموں پر بھی تبصرہ کر دیتے ہیں، چنانچہ حالیہ کالموں کے حوالے بے جن میں عزیر بلوچ اور ایم کیو ایم کا بھی ذکر آیا اور جے آئی ٹیز کا ہنگامہ ہے، وہ فرماتے ہیں۔ ایک ایسی جے آئی ٹی کی بھی اشد ضرورت ہے جو بوری بند لاشوں سے تحقیق و تفتیش شروع کرے، ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر کسی برائی کو ختم کرنا ہے تو پھر اس کی جڑ تلف کرنا ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس جڑ کا پتہ چلا لیا جائے، اِس لئے ایسا کہا جائے تو بہتر ہو گا محض اس سے کام نہیں چلے گا کہ آپ چند روز بعد کسی نہ کسی مبینہ ”ٹارگٹ کلر“ کو گرفتار کر لیں، اسلحہ برآمد کریں اور یہ بتا کر بات ختم کر دیں کہ ملزم کا تعلق ”لندن گروپ“ سے ہے، محترم! ذرا عوام کو یہ تو بتا دیں کہ جب اس ”ٹارگٹ کلر“ نے قتل کئے تو وہ کس جماعت میں تھے، اور جماعت ایک ہی تھی۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment