Home » وہ آٹھ منٹ

وہ آٹھ منٹ

by ONENEWS


دہشت گردوں کو آٹھ منٹ اور مل جاتے تو نجانے کیا قیامت برپا ہوتی، مگر ہمارے جاں بازوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صرف آٹھ منٹ میں چار دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردی کی بزدلانہ واردات کوئی معمولی واقعہ نہیں البتہ سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے باعث یہ ایک معمولی واقعہ بن کر رہ گئی ہے۔ دنیا بھر میں اس فوری کارروائی کو سراہا جا رہا ہے یورپ اور امریکہ میں بھی کہ جہاں کی سیکیورٹی کو بہت فول پروف کہا جاتا ہے کوئی ایک دہشت گرد اتنی تباہی پھیلاتا ہے کہ اس کی کوئی تاویل پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کسی شاپنگ سنٹر یا کسی سرکاری عمارت میں داخل ہو کر درجن ڈیڑھ درجن افراد کو مارنے کے بعد دہشت گرد کسی جوابی کارروائی میں مارا جاتا ہے، مگر یہاں چار مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گرد اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی جنہم واصل کر دیئے گئے۔ پولیس اور نجی گارڈز کی قربانیوں نے انہیں بری طرح ناکام کیا۔ پھر کوئیک رسپانس فورس کے دو جوانوں رفیق اور خلیل نے جس جوانمردی اور مہارت کے ساتھ آگے بڑھنے والے دو دہشت گردوں کو اپنے نشانے پر لیا، حالانکہ موت ان کے سامنے کھڑی تھی، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری فورسز میں بدی کی قوتوں سے لڑنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔

چاروں دہشت گرد بڑی منصوبہ بندی سے آئے تھے، انہوں نے دس بجے کا وقت منتخب کیا کیونکہ اس وقت تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں معمول کی سرگرمیاں شروع ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا ہوتا ہے، صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی گاڑی واحد کار تھی جو مرکزی گیٹ کے بیریئر کے پاس آ کر رکی۔ ظاہر ہے انہوں نے پہلی کوشش تو یہی کی ہو گی کہ بیریئر ہٹ جائے اور وہ گاڑی سمیت اندر داخل ہو سکیں۔ مگر وہاں موجود گارڈ نے ایسا نہیں کیا جس پر دہشت گردوں نے سب سے پہلے نشانہ اسے بنایا۔ اس کی لاش گاڑی کے سامنے پڑی تھی جب دہشت گرد گاڑی سے باہر نکلے گویا اس گارڈ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ان کی گاڑی کے سامنے بیریئر سے پہلے اپنی لاش کی دیوار کھڑی کر دی تھی۔ گویا وہ کہہ رہا ہو تم میری لاش سے گزر کر ہی اندر جا سکتے ہو، اس کے بعد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے دہشت گرد نے اتر کر کیبن میں بیٹھے ہوئے گارڈز پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور جھک کر بیریئر کراس کیا تو کیبن میں بیٹھے ہوئے گارڈ کی گولیوں نے نے اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔

دوسرا پیچھے سے آگے بڑھا تو اسے بھی پیش رفت کی مہلت نہ ملی اور وہ انجام کو پہنچ گیا۔ اس ہڑ بونگ میں دو دہشت گرد بیریئر سے اندر آنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ گولیوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے مگر انہیں پیش قدمی کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ کیونکہ سامنے سے سخت مزاحمت جاری تھی۔ اسی دوران یہ دونوں آر ایف ایف کے سنائپر محمد رفیق سومرو کے نشانے پر آ گئے۔ اگرچہ وہ بھی ان کے نشانے پر تھا، تاہم اس نے اپنے حواس برقرار رکھتے ہوئے ایک دہشت گرد کے سر کو نشانہ بنایا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا، جبکہ دوسرا دہشت گرد جو در اصل آخری بچا تھا، دور سے اس کی زد میں آیا اور اسے ایک قدم بھی آگے بڑھنے کا موقع نہ ملا۔ چاروں دہشت گرد رینجرز یا پولیس کی نئی کمک پہنچنے سے پہلے ختم ہو چکے تھے۔ اس ساری کارروائی میں آٹھ منٹ لگے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے مختصر وقت میں پہلے سے موجود دفاعی حصار کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک بڑے حملے کو نہ صرف ناکام بنایا ہو بلکہ چار دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کیا ہو۔ اس واقعہ میں پولیس کے سب انسپکٹر شاہد، اور دو نجی کمپنیوں کے گارڈز افتخار فضل اور سعید اکرم شہید بھی ہوئے۔ یقیناً وہ فرنٹ لائن سولجرز تھے جنہوں نے دہشت گردوں کو سب سے پہلے روکا اور آزادانہ آگے نہیں بڑھنے دیا۔

اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے، مگر یہ صرف بی ایل اے کی کارروائی نہیں ہو سکتی اتنی منظم کارروائی کسی بڑی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور ڈی جی رینجرز سندھ نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ اس کے پیچھے ”را“ کی مکمل سپورٹ نظر آتی ہے۔ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا کسی بھی ملک میں دہشت گردی کے ٹارگٹ کو سامنے رکھ کر بخوبی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا فائدہ کسے ہو سکتا ہے۔ جب کراچی ہی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا تھا تو اس کے ڈانڈے بھی بھارت کی ایجنسی ”را“ سے ملتے تھے، اس کا مقصد بھی یہ تھا کہ پاک چائنا تعلقات خراب کئے جائیں۔ پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنانے کا مقصد بھی دہشت پھیلانا نہیں بلکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان میں کچھ بھی محفوظ نہیں حتیٰ کہ ملک کا سب سے بڑا سٹاک ایکسچینج بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ اگر دہشت گردوں کو اگلے آٹھ منٹ مل جاتے اور بالفرض وہ سٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہو کر وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیتے تو یہ ڈرامہ نجانے کب ختم ہوتا کیونکہ دہشت گردوں کے پاس اسلحہ بھی وافر تھا اور وہ کھانے پینے کا سامان بھی ساتھ لائے تھے۔ اگر خدانخواسطہ ایسا ہوتا تو اسی بھارت کے میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کی جنت ہے اور سیکیورٹی ادارے انہیں روکنے میں بالکل ناکام ہو چکے ہیں مگر سب دشمنوں کے خواب خاک میں مل گئے اور یہ سارا ڈرامہ صرف آٹھ منٹ میں ختم ہو گیا۔

یہ دہشت گردی کی واردات تو کامیابی سے ناکام بنا دی گئی۔ تاہم خود احتسابی کا تقاضا ہے کہ کراچی میں کام کرنے والی خفیہ ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز کے شہر بھر میں پھیلے ہوئے سکیورٹی جال کے ذمہ داران اپنی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لیں یہ تو واضع ہے کہ ان دہشت گردوں نے چند دن کراچی میں قیام کیا ہوگا، اپنے ہدف کی ریکی کی ہو گی، آخر کیا وجہ ہے کہ ان کی کراچی میں موجودگی پولیس اور خفیہ والوں سے مخفی رہی، کراچی میں ان کے ٹھکانے کا کھوج لگانا از حد ضروری ہے۔ پھر ایک بڑا سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ دہشت گرد اپنے ٹھکانے سے اُٹھ کر آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اسٹاک ایکسچینج کی بلڈنگ تک آئے، کراچی کی مرکزی شاہراہوں سے گزرے، چاروں نے اسلحہ اور بارود کے بیگ بھی اپنے کاندھوں پر باندھ رکھے تھے یہ بڑا غیر معمولی منظر ہوتا ہے کہ ایک کار میں سوار چاروں افراد نے پشت پر بیگ لٹکا رکھے ہوں، حیرت ہے کسی جگہ بھی انہیں نہیں روکا گیا اور وہ بآسانی سٹاک ایکسیچنج کی عمارت کے مرکزی بیریئر تک پہنچ گئے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ریڈ الرٹ تھا اور دوسری طرف یہ غفلت، اس کا مطلب ہے ابھی مزید بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے اور اس واقعہ سے قومی سلامتی پر مامور ادارے سبق سیکھیں گے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment