Home » وہیل چیئر والے بابا جی!

وہیل چیئر والے بابا جی!

by ONENEWS

وہیل چیئر والے بابا جی!

ای میل> kausarabbasalvi@gmail.com

اس نے کہا تھا:”آج میرے ساتھ آ جاؤ، میرے بعد تمہیں میرے جیسا کوئی نہیں ملے گا“۔ وہ ابر ِ کرم کی مانند آیا جو جم کر برسا، لیکن بقول شیخ سعدی؛

”باراں کہ در لطافتِ طبعش خلاف نیست

ٹیولپ باغ میں اور کینوس کے نمک میں اضافہ کریں “

آسمان سے برسنے والی بارش ایک جیسی ہی ہوتی ہے لیکن اسی بارش کو جب بنجر زمین اپنے دامن میں سمیٹتی ہے تو خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اُگتا جن سے فائدہ تو کجا اُلٹا انسانوں کے دامن تار تار ہوتے ہیں لیکن ایک گلستان جب اسی بارش کو اپنے وجود میں سموتاہے تو ایسے خوشبودار پھول کھلتے ہیں کہ جن سے انسانیت کا پورا وجود مہک اٹھتا ہے۔وہ بھی ایک ایسی ہی بارش تھا، جس سے ہر کسی نے اپنی فطرت کے مطابق فائدہ اٹھایا، کہیں پھول کھلے اور کہیں کانٹے۔اِدھرسرکاری سطح پر منایا جانے والا عشرہئ رحمۃ للعالمین ؐکا آخری دن تھا اور اُدھر اس عاشق صادق کا اس روئے زمین پر آخری دن تھا، واللہ کیا مطابقت ہے:

یہ خوشی زبردستی نہیں ہے

خادم حسین صرف نام کا خادم نہیں تھا بلکہ اس نے زندگی بھی واقعی  اپنے آقا کا خادم بن کر گزاری۔جب کبھی ماحول میں بے دینی کی حبس ڈیرے ڈالتی تو وہ تازہ ہوا کا جھونکا بن کر تنگ ہوتی سانسوں کو کشادگی عطاکر جاتا۔جب کبھی گلشن اسلام میں خزاں پنجے گاڑتی توبہار بن کے  قلب و نظر کے سوکھے گلشن میں عشق و مستی کے پھول کھلا جاتا۔جب بھی گھٹاٹوپ اندھیرے اس قوم کی منزل کھوٹی کرنے لگتے تووہ روشنی بن کر تاریک ماحول کافور کر دیتا۔جب کبھی الحاد کی دھوپ نے وجود کو جلانا چاہا تو وہ ابر سایہ دار بن گیا۔ وہ ابریشم کی طرح نرم تھا لیکن جب بات ناموس رسالت کی آتی تھی تو فولاد بن جاتا تھا۔وہ اقبال کا ایسا مرد مومن تھا جو خاکی تھا مگر خاک (کی آلودگی)سے آزاد تھا، افلاک (جیسا غرور رکھنے والوں)سے اس کی حریفانہ کشاکش تھی،ناموس رسالت کی خاطر اس نے نہ صرف بھاری تنخوا والی نوکری چھوڑی، کنجشک و حمام سے صرف نظرکیا بلکہ ٹھٹھرتی راتوں میں ننگی سڑکوں پر بھی جا سو یا۔وہ غیرت بلقیس کی زندہ مثال تھا جس کے بام تک مرغ ِحکمران کبھی نہ پہنچ پایا،بارہا آزمائش کا وقت آیاجس میں بڑے بڑے جبہ و دستار والوں کی ٹانگیں لرزنے لگیں،لیکن وہ بے خطر آتش نمرود میں کود گیا۔ وہ ختم نبوت جیسے حساس مسئلے کو الفاظ کی جادوگری کا نشانہ بنانے والوں کے لیے عصائے موسوی تھا۔وہ بے حیائی کے سیل رواں کے لیے کشتی نوح تھا۔اس عاشق صادق کی لغت میں روباہی کا لفظ ہی موجود نہیں تھا۔وہ ایسا خادم نہیں تھا کہ دن کو ختم نبوت کا نام لیتا اور رات کو محافل موسیقی سے لطف اندوز ہوتا بلکہ دن ہو یا رات، اس مردِ درویش کی کے ہونٹوں پر بس یہی نغمہ ہوتاتھا تاجدار ختم نبوت،زندہ باد زندہ باد۔

وہ کہتا تھا کہ ”حضور نال عشق کرنا ایں تے انّے واں کرنا ایں“……یعنی آقا سے عشق کرنا ہے اور اندھا دھند کرنا ہے۔اس نے صرف کہا ہی نہیں بلکہ اپنے آقا و مولا سے ”انّے واں“ عشق کر کے دکھایا بھی۔جب راہ عزیمت پر نکلا تو اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر گیااورنہ صرف انہیں سڑکوں پر سلایا، بلکہ خود بھی کارکنوں کے ساتھ ہی سڑک پر سوتا رہا۔ وہ چاہتا تو  اعلیٰ حلقوں سے بنا کر رکھتا اور اپنے بیٹوں کی شادیوں میں ان سے سلامیاں لیتا، یورپ میں پُرتعیش زندگی بسر کرتا،ایک آدھ سالانہ ”ختم نبوت کانفرنس“کر کے مریدوں کو بیوقوف بناتا، اپنے لیے محل تعمیر کراتا، مریدوں کے بچوں سے مدرسوں کو آباد کرکے اپنی اولادوں کو بیرون ملک بھیج دیتا لیکن اس نے خانقاہوں میں بیٹھ کر نذرانے وصول کرنے کی بجائے رسم شبیری ادا کرنا ضروری سمجھا۔اس کی ساری گفتگو نقطہ ”لولاک“ کے گرد گھومتی تھی۔ وہ خواہشات ِنفس کا مَرْکَبْ (سواری) نہیں بلکہ راکب(سوار) تھا۔اس کے رگ و پے میں شوخی ئگفتار کی بجائے مستیئ کردار کا سمندر موجزن تھا۔اس کی امیدیں قلیل، مقاصد جلیل، ادا دلفریب، نگاہ دلنواز، گفتگو نرم دم اور جستجو گرم دم تھی۔وہ ایک ایسا طوفان تھا جس سے دریاؤں تک کے دل لرزتے تھے۔اس کے خمیر میں قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت کے چاروں عناصر موجود تھے۔اس نے جان کے خوف سے کبھی جھوٹ نہ بولا کیونکہ وہ صدق سلیمان کاپرتو تھا،وہ کبھی کسی مشکل سے بھاگا نہیں کیونکہ وہ زور حیدر کی زندہ مثال تھا اورکسی نے اسے ہاتھ پھیلاتے نہیں دیکھا کیونکہ وہ فقر بوذر کا مصداق بھی تھا۔

اس مردِ مجاہد کے ہاتھوں میں یقین محکم، عمل پیہم اور محبت فاتح عالم جیسے سکہ بند ہتھیار تھے۔سفر عزیمت شروع ہوا تھا تو وہ اکیلا ہی تھا لیکن اس کے جنون نے ایک دنیا کواپنا بنا لیا۔وہ صحابہ کے عشق مصطفیٰ کی زندہ مثال تھا جسے دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ اپنا سب کچھ نبیؐ اکرم پر کیسے مٹایا جاتا ہے؟جب ناموس صحابہؓ کے مسئلے پر اپنے بھی اس کے مخالف ہو گئے اور بڑے بڑے قد والے حاکمان ِ وقت کی چوکھٹ پر جھک گئے،وہیل چیئر والا بابا تب بھی پورے قد سے کھڑا رہا،بقول بابا بلھے شاہ؛

”نہ علماں وچ پھنسا سانوں

کوئی عشق دی گل سنا سانوں“

لوگ اسے علم میں پھنسانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن وہ ”عشق دی گل“ سناتا رہا اور آخر کاربقول امام احمد بن حنبل، اس کے اور اس کے مخالفین کے درمیان فیصلہ اس کے جنازے نے ہی کیا۔ بابا جی کے جنازے کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں انہی کا ایک فقرہ مسلسل گونجتا رہا جو انہوں نے مینارپاکستان پر ہی منعقدہ ناموس صحابہ ؓکانفرنس میں بولا تھا:

”دس اوئے مینارِ پاکستان! ایہو جیا منظر کدی پہلے وی ویکھیا  ای؟“

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment