Home » وقت زندگی ہے

وقت زندگی ہے

by ONENEWS

”ہیلن کیلر“پیدائشی نابینا،مگر معروف ادبی اور علمی امریکی شخصیت تھی۔ دیگر تحریروں کے علاوہ، اُس کی ادبی وجہ ئ شہرت کا باعث اُس کا مشہور مضمون ”دیکھنے کے لئے تین دن“اہل ِ نظر اور سوچ کی گیرائی رکھنے والوں کو وقت کی انمول حیثیت سے بھر پور روشناس کراتا ہے۔ اپنے مضمون میں ”ہیلن کیلر“ احباب سے ملاقاتوں اور مناظرِ فطرت کو دیکھنے کے تصّور اورحسرت کو اس تفصیل سے بیان کرتی ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے،جتنا اور جس طرح ”ہیلن کیلر“صرف تین دنوں میں دیکھنے اور محسوس کرنے کی خواہش رکھتی ہے،اتنا تو وہ سالہا سال کی زندگی میں نہیں دیکھ سکا۔اس لئے مصنّفہ اختتامی تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ ”آنکھوں والے اندھے ہیں“۔

مضمون میں مصنّفہ نے تین دن کے ہر لمحہ کوجس مصروفیت سے منسوب کیا ہے، اُس نے وقت کی قدرکے فلسفہ کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ انیسویں صدی کے ”دانشور“بالخصوص اور موجودہ دور کے ”دانشور“بالعموم ”وقت دولت ہے“پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس ضرب المثل کے ”مومنوں“ نے حصولِ دولت کو خلاصہئ حیات سمجھ رکھاہے۔ جہاں بسااوقات انسانیت کا دامن شرمندگی کے آنسوؤں سے تر ہو جاتا ہے۔ چند سال پہلے اعلیٰ عہدہ سے ریٹائرڈایک افسر اپنے اکلوتے بیٹے سے،جو امریکہ میں ڈاکٹر ہے، ملنے کے لئے،بغیر پیشگی اطلاع،یہ سوچ کر چلے گئے کہ فرزند ِ ارجمندباپ کو ایک دم اپنے سامنے دیکھ کرخوشی سے جھوم اُٹھے گا، مگر جب برخوردار سے ملاقات ہوئی تو اُس نے خوشی پر مبنی ہیجانی کیفیت کا قطعاًاظہار نہ کیا،بلکہ والد سے کہنے لگا ”آپ کو پیشگی وقت لے کر آنا چاہئے تھا،معلوم ہے یہاں زندگی کتنی مصروف ہے؟ ہمارے پاس فارغ وقت بالکل نہیں ہوتا“بیٹے کے الفاظ بوڑھے والد کے احساس پِدرانہ کو کِرچی کِرچی کر گئے۔ دو دن کے سفر کی تھکان اتارنے کے بعد،اُنہیں وہاں ایک لمحہ بھی رُکنا بارِ گراں محسوس ہوا۔اس لئے بیٹے کا مزید وقت ”ضائع“ کئے بغیر واپس آگئے، جس پر بیٹے نے بالکل اعتراض نہ کیا۔

وقت اور اس کی حقیت کو سمجھنے کے لئے انسان انتہائی کو تاہ نظر ثابت ہوا ہے۔شایداسی لئے قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے ”بے شک انسان خسارے میں ہے“وقت کا سورج طلوع سے لے کر غروب تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ شروع میں ٹھنڈی، میٹھی کرنیں،پھرشعلے برساتی جوانی، پھر لاغر بڑھاپا اوربالآخر غروب کا سَماں، زمین کے باسیوں کے لئے ہر روز ایک توانا پیغام چھوڑ جاتا ہے۔

وقت زندگی ہے اور زندگی محدود سانسوں پر مبنی ہے۔ اس کو بے قدری، بے رحمی اور عدم توجہی سے گزارنا پچھتاوے پر منتج ہوتا ہے۔ انسان کے لئے لازم ہے کہ کسی کو وقت دیتے ہوئے یہ احساس رکھے کہ وہ اُسے زندگی کااہم حصہ دے رہا ہے، جوانمول اور ناقابل ِ واپسی ہے۔جب ہم کسی کے ہاں خوشی یا غمی کے مواقع پروقت گزارتے ہیں تو بنیادی طور پر ہم اُنہیں اپنی زندگی کا قیمتی حصہ دے رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا،جو دیئے گئے وقت کی قدر نہیں کرپاتے یا ایسے معاملات پر وقت گزارنا جن سے کوئی اخلاقی، معاشی، معاشرتی،روحانی یا مذہبی فائدہ کسی کو حاصل نہ ہوتا ہو زندگی کے اُس مخصوص حصہ کوضائع کرنے کے مترادف ہے۔اسی لئے شاعر نے کہا ہے   ؎

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

سَدا عیش دوراں دِکھاتا نہیں

ہمارے لئے وقت کے قدر دانوں اور بے قدرے لوگوں میں فرق کو سمجھنا لازم ہے۔اگر ہم اپنا وقت دوسروں کو بہ خوشی مہیا کرنے میں صَرف نہیں کر پاتے تو پچھتاوا ہمارا دامن کبھی نہیں چھوڑتا۔ چھوٹی عمر میں بچے ترستے ہیں کہ والدین ہمارے ساتھ وقت گزاریں،ہمیں توجہ دیں،مگر ”وقت دولت ہے“ کے فلسفہ کے پیروکار انہیں وقت نہیں دے پاتے۔ بالآخر، اولادجوان ہو جاتی ہے۔ پھر اُس کے پاس اپنے والدین کو دینے کے لئے وقت نہیں ہوتا،اور بوڑھے والدین دو طرفہ پچھتاوے میں دن رات کاٹ رہے ہوتے ہیں: ”کاش! ہم نے اپنے بچوں کو وقت دے کے اُن کے بچپن کو قیمتی بنایا ہوتا، کاش ہمارے بچے ہمیں وقت دیتے“ ماں باپ کی وفات کے بعد اولاد ترستی ہے، کاش! ہمارے والدین حیات ہوتے، ہم اُن کے پاس بیٹھتے،اُنہیں یہ کھلاتے، وہ کھلاتے وغیرہ۔

عموماًدیکھا گیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے دوران اعلیٰ عہدوں اور مرتبوں کے لوگ عام انسانوں کو ” جنس ِ صغیر“ سمجھتے ہیں،مگر ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ اُنہیں کوئی ملنے  کو آئے، کوئی بات کرے،مگرجو انہوں نے بویا ہوتا ہے وہی کاٹتے ہیں۔پھر ”جنس ِ صغیر“بھی اُن سے فاصلہ رکھتی ہے۔

کہا جاتا ہے، ایک شہر میں ایک اُدھیڑ عمر تاجر نے شب و روز کی محنت سے تیس لاکھ ڈالر اکٹھاکر لیا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک سال محنت سے دور رہے گا اور اپنی دولت کے استعمال سے عیش کرے گا،مگر جونہی یہ خیال اُس کے ذہن میں وارِد ہوا، موت کا فرشتہ آ پہنچا۔ تاجر چونکہ ایک ماہر سودے باز تھا، اُس نے ہر مناسب دلیل سے موت کے فرشتے کو مہلت دینے پرقائل کرنے کی کوشش کی۔مگر فرشتہ راضی نہ ہوا۔ عالم مایوسی میں تاجر نے فرشتے کو دس لاکھ ڈالر کے عوض، تین مزید دن زندہ رہنے کی مہلت کی درخواست کی۔ فرشتے نے انکار کر دیا۔ تاجر نے اگلا پتہ پھینکا اورفرشتے کو بیس لاکھ ڈالر کے عوض دو دن کی مہلت دینے کی درخواست کی۔فرشتہ پھر بھی نہ مانا۔تھک ہار کر تاجر نے تمام دولت کے عوض تھوڑا سا وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنے کے لئے مانگا، مگر فرشتہ تھاکہ ماننے میں نہ آیا۔ تاجر نے رو رو کر التجاکی کہ وہ اتنا وقت عنایت کر دے کہ تاجر اپنے بچوں کے لئے بطورِ وصیّت چند الفاظ لکھ سکے۔ فرشتہ اِس منت کو اِس کی آخری خواہش سمجھ کر مان گیا۔تاجر نے لکھا ”میرے پیارو! زمین پر اپنے وقت کا بہترین استعمال کر و۔ میں تیس لاکھ ڈالر کے عوض زندگی کا ایک گھنٹہ بھی نہ خرید سکا۔ اپنے دل میں صرف اُنہی چیزوں کو جگہ دو، جن کی آپ کی زندگی میں سچی اور حقیقی جگہ ہے“۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment