0

وفاقی کابینہ نے واٹس ایپ کے ذریعے آرڈیننس منظورکرکے انوکھی مثال قائم کردی

وفاقی کابینہ نے واٹس ایپ کے ذریعے آرڈیننس منظورکرکے انوکھی مثال قائم کردی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)  وفاقی کابینہ نے واٹس ایپ کے ذریعے آرڈیننسوں کی منظوری دیکر ملکی تاریخ میں پہلی بار انوکھی مثال قائم کردی۔

ایکسپریس کے مطابق کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سزاؤں اور تعمیراتی انڈسٹری کے لئے مراعات کے آرڈیننس واٹس ایپ کے ذریعے منظور کیے  جس کے بعد یہ منظوری کیلئے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیئے گئے ہیں   ، اس سے پہلے سرکولیشن سمری کابینہ ارکان کے گھر یا دفاتر میں بھجوائی جاتی تھی ، کابینہ ارکان کے دستخطوں کے بعد ایجنڈا آئٹمز کی منظوری ہوتی تھی ۔ آرڈیننس کااطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں ہوگا ، ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو 3 سال قیدکی سزاہوگی، ضبط شدہ سامان کی مالیت کا 50 فیصدبطورجرمانہ عائد ہوگا،ط ذخیرہ اندوزی پرملازمین کے بجائے مالک کیخلاف کارروائی ہوگی، ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی پرضبط اشیاکی مالیت کا10 فیصدبطورانعام ملے گا، آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنرکوبغیروارنٹ گرفتاری کااختیارہوگا۔وفاقی کابینہ نے ترمیمی آرڈیننس 2020کی بھی منظوری دیدی ہے آرڈیننس کے تحت تعمیراتی انڈسٹری کو ریلیف فراہم کیا جائے گا ، دونوں آرڈیننس منظوری کیلئے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیئے گئے ہیں ۔

ادھروزیر اعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا حکم دے دیا۔سمگلنگ اور ٹڈی دل کے حوالے سے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور ہے۔ اسی طرح ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ترین ایکشن نا گزیر ہے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے ان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ئیں دی جائیں تاکہ ایسی روش کی حوصلہ شکنی ہو ۔

انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاء کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ناجائز اضافے کا بوجھ غریب عوام برداشت کرتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے انٹیلی جینس ایجنسیوں کی خدمات سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے حاصل کی جائیں۔متعلقہ محکمے اپنے دیانتدار اور فرض شناس افسران کو ایسی جگہوں پر تعینات کریں جہاں سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کا خدشہ ہو۔ اس ضمن میں صوبوں کے ساتھ کوارڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے ۔ صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے اور کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ نہ آنے دی جائے ۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سمگلنگ کی روک تھام، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن، اور ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل اور سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سمگلنگ کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن، خصوصا ذخیرہ اندوزی کے خلاف متعارف کرائے جانے والے آرڈیننس کی بدولت اور دیگر اقدامات مثلاً سرحدیں سیل کیے جانے کی وجہ سے سمگلنگ میں نمایاں کمی کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی گئی۔

مزید :

قومیسیاست





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں