Home » وزیر اعظم اور آرمی چیف میں ہم آہنگی اعتراض کیوں؟

وزیر اعظم اور آرمی چیف میں ہم آہنگی اعتراض کیوں؟

by ONENEWS

وزیر اعظم اور آرمی چیف میں ہم آہنگی، اعتراض کیوں؟

وزیر اعظم عمران خان جب ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے صبر، حوصلے اور کمالِ ضبط کی تعریف کر رہے تھے تو مجھے یوں لگا کہ وہ جیسے بہت سے پاکستانیوں کے دلوں کی ترجمانی کر رہے ہوں کسی وزیراعظم کی زبان سے چیف آف آرمی سٹاف کی تعریف ایک مشکل امر ہے۔البتہ ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ وہ وزیراعظم ہیں اور فوج ان کے ماتحت ہے۔ گویا آرمی چیف بھی آئینی طور پر ان کے حکم کی بجا آوری کے پابند ہیں کیا یہ کوئی غلط بیانیہ ہے کیا اس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک تابعدار وزیراعظم ہیں کیا اپنے فوجی سربراہ کی تعریف نہیں کی جانی چاہئے کیا بطور چیف ایگزیکٹو وزیراعظم کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ ریاستی اداروں کے سربراہوں کی اچھی کارکردگی پر ان کی تعریف کریں؟ میرے نزدیک تو یہ ایک خوشگوار تجربہ ہے جس سے ملک گزر رہا ہے۔ ہم نے تو ہمیشہ اس محاذ پر کھینچا تانی ہی دیکھی ہے اس میں قصور کس کا تھا، کس کا نہیں تھا، اس بات سے قطع نظر حقیقت یہی ہے کہ اس بے کار کی کشیدگی نے ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ جمہوریت بھی بار بار پٹری سے اتری اور ترقی کو بھی بار بار بریکیں لگیں۔

نوازشریف نے گوجرانوالہ کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر کئی باتیں ان سے منسوب کی تھیں کسی حاضر سروس فوجی سربراہ کے بارے میں شاید ہی پہلے کبھی ایسی باتیں کی گئی ہوں۔ خاص طور پر ایک ایسے آرمی چیف کے خلاف کہ جس نے نازک مواقع پر بھی جمہوریت کو نقصان نہ پہنچنے دیا ہو جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہو اور سیاست  سے دوری کی عملاً مثال قائم کی ہو، مگر اس کے باوجود ہر معاملے میں انہیں مداخلت کا الزام دینے کی کوششیں جاری رہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ مسئلہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے بلکہ معاملہ وہ ہے جو نظر نہیں آ رہا۔ اپنی لاہور کی تقریر میں نوازشریف یہ کہتے رہے کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں کسی کا نام نہ لوں تو پھر بتایا جائے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف کا قصہ بھی عجیب ہے اپنی صفائی دینے کی بجائے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے نا اہلی کے بعد یہ گردان شروع کر دی تھی کہ مجھے کیوں نکالا؟جب آپ سپریم کورٹ جیسے بڑے ادارے پر بھی یہ شک کریں گے کہ اسے آرمی چیف ڈکٹیٹ کراتا ہے تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا جمہوریت آئین اور ریاستی اداروں پر اعتماد ہے۔ کیا سب نے دیکھا نہیں کہ اس سپریم کورٹ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کے معاملے پر کس طرح اپنی اتھارٹی منوائی تھی اور بالآخر پارلیمینٹ کو ایکٹ میں ترمیم کرنی پڑی تھی۔ اگر آرمی چیف کا عہدہ اتنا ہی با اختیار اور بالائے آئین ہوتا تو کم از کم ان کے معاملے میں کسی کو مداخلت کی جرأت نہ ہوتی۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس وقت حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے اس ہم آہنگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میں بھی شخصی سطح پر مکمل انڈر سٹینڈنگ ہے۔ غلط فہمی کا وہ غبار جو ماضی کے وزرائے اعظم اورآرمی کے سربراہوں میں رہا ہے، یہاں موجود نہیں اس کی ایک وجہ تو وزیر اعظم عمران خان کا بے محا بہ اختیارات کے خبط میں مبتلا نہ ہونا ہے۔ نوازشریف کو جب نا اہل قرار دیا گیا تھا اور انہوں نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا صدر بنانے کی تقریب میں تقریر کی تھی اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ انہیں چار سال تک کام نہیں کرنے دیا گیا۔کیا آرمی یا کسی اور ادارے کی یہ بھی ڈیوٹی ہے کہ وزیراعظم کو کام کرنے کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں کیا حکمرانی کا فن یہ بھی نہیں ہوتا کہ آپ اپنے لئے حکمران بننے کی گنجائش خود پیدا کریں۔ اگر آپ کی ساری توجہ اس نکتے پر مرکوز رہے کہ مجھے بادشاہ سلامت کی طرح کام کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا تو پھر آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے سوائے کڑھنے، ڈرنے اور واویلا کرنے کے وزیراعظم عمران خان نے تو اپنے پونے تین سالہ اقتدار میں ایک بار بھی یہ شکوہ نہیں کیا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں اختیارات استعمال نہیں کرنے دیئے جا رہے بلکہ وہ تو ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ سارے فیصلے وہ خود کرتے ہیں کسی طرف سے ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ماضی میں فوجی سپہ سالاروں نے ہمیشہ اپوزیشن کو تھپکی دے کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کئے رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ وزرائے اعظم ہمیشہ شکوہ کناں رہے، مگر اس بار معاملہ بالکل الٹ ہے۔ اپوزیشن دہائی دے رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور فوج حکومت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا جا رہا ہے، نا اہل وزیر اعظم کو  سپورٹ کرنے کے طعنے دیئے جا رہے ہیں، یعنی جمہوریت کے جو دعویدار بنتے تھے اور 2014ء میں دھرنے کے موقع پر یہ کہتے تھے کہ کوئی طاقت غیر جمہوری، غیر آئینی طریقے سے حکومت ختم کرنے کی سازش نہ کرے، آج وہی یہ کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف اور اسٹیبلشمنٹ منتخب حکومت کو گھر کیوں نہیں بھیجتے، اس کی حمایت کیوں کر رہے ہیں کیا یہ عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی کامیابی نہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment