Home » وزیراعظم عمران صاحب کی خدمت میں کھلا خط

وزیراعظم عمران صاحب کی خدمت میں کھلا خط

by ONENEWS


وزیراعظم عمران صاحب کی خدمت میں کھلا خط

عزت مآب جناب وزیراعظم صاحب اسلامی جمہوریہ پاکستان!!!

امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ جناب والا آپ نئے اور ایک پاکستان کا نعرہ لیکر 2018 کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئے اس کی مبارک باد قبول فرمائیے۔ جناب والا آپ اپنی حکومت کی دوسری سالگرہ منا رہے ہیں اور آپ کی تین ابھی باقی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے ان دو سالوں میں نیا اور دو کی بجائے ایک پاکستان بنانے کی تیاری کر لی؟ اگر نہیں کی تو پھر باقی تین برس میں آپ کس طرح نیا پاکستان بنا سکیں گے؟ اگر آپ نے نئے پاکستان کی منصوبہ بندی کر لی ہے تو کیا وہ عوام کو بتانا پسند کریں گے؟؟ تاکہ لوگ مایوسی کا شکار ہوکر دوبارہ پرانے سیاستدانوں کی طرف دیکھنا نہ شروع کر دیں۔ جناب والا ابھی تک کی خبروں کے مطابق تو عوام میں مایوسی ہی پھیل رہی ہے۔ آپ کے آتے ہی امریکی ڈالر کی اونچی اڑان اور پھر مہنگائی کا طوفان، لیکن آپ کا حکم،گھبرانا نہیں، بہت جلد عوام کو ریلیف دیں گے۔ ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ آپ پہلی حکومتوں کی خامیوں پر جلد قابو پا لیں گے۔ لیکن ابھی تک کہیں دور دور تک ایسا نظر نہیں آرہا۔

بلکہ ایک کے بعد دوسرا طوفان، کبھی چینی مافیا عوام کی گردن پر سوار ہوتا ہے تو کبھی مارکیٹ سے تیل کے غائب ہونے کی خبر ملتی ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب پچھلے قرض اتارنے کے لیے آپ نے نئے قرضے لیے لیکن اب یہ دونوں قرضے عوام پر واجب الادا ہیں۔ آپ نے بجلی مہنگی کی فیول پر ٹیکس لگائے، تارکین وطن کی واپسی پر ان کے اپنے استعمال شدہ موبائل پر بھی ٹیکس لگا دیا لیکن مجھ ایسے آپ کے ہمدرد لوگوں کو حوصلہ دیتے رہے کہ ان تمام ٹیکسوں کے پیسے سے ہمارے قرض ادا ہوں گے اور پھر ملک میں خوشحالی آئے گی۔

جناب والا آپ نے ابھی مہینہ پورا ہونے کا انتظار کیے بغیر ایک دم پیٹرول کی قیمت 25 روپے بڑھا دی اتنا بڑا اضافہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ لیکن جناب والا ہم یہ بھی قبول کر لیتے ہیں بشرطیکہ اگلے تین برس میں ہمارے قرضے آدھے رہ جائیں۔ جناب ہم جانتے ہیں کہ قربانیاں دیئے بغیر کامیابی ممکن نہیں لیکن یہ یقین تو ہو نا کہ ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہماری قربانیوں کا فائدہ ذخیرہ اندوزی کرنے والے مافیاز نہیں لے جائیں گے۔

جناب وزیراعظم صاحب آپ کے سپورٹر اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ بیچارہ اکیلا وزیراعظم(خلوتوں میں لوگ آپ کو صیغہ واحد سے ہی یاد کرتے ہیں) کیا کرے ہر طرف مافیاز کا راج ہے آپ کی جیب میں “کھوٹے سکے، آپ کے مخالفین میں چور ڈاکو اور لٹیرے، بگڑی ہوئی بیوروکریسی اور اوپر سے فوج کا دباؤ تو پھر تو آپ واقعی اکیلے ہی ہیں۔ اب اس تنہائی کو کیسے دور کیا جائے؟

لیکن ایک بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ اقتدار میں آنے سے پہلے آپ جن کو چور چور پکارتے تھے۔ کیا پتا وہ بھی چور بنائے گئے ہوں۔ اور جنہوں نے ان کو چوری پر لگایا اور پھر چور بنایا پھر چور چور کہہ کر انہیں بھگایا کہیں وہی لوگ آپ کو بھی عوام کی نظروں میں چور بنانے کے درپے تو نہیں ہیں؟

اگر ایسا ہے تو آپ کو ابھی سے سنبھلنا ہوگا۔ اور پہلے والے چوروں سے مشورہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح چور بنے اور کیوں؟

ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

جناب وزیراعظم صاحب سوالات تو بہت زیادہ ہیں لیکن کالم کی طوالت سے بچنے کے لیے آخری سوال کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ جن شکایات پر آپ نے دھرنے دیکر اسلام آباد کی مٹی بھی اکھاڑ دی تھی۔ کیا ان میں سے کسی معاملے کا کچھ نتیجہ سامنے آیا ہے؟ یعنی پہلا دھرنا 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے دیا گیا، لیکن آپ نے حکومت میں آکر اس کی تحقیقات کروانے کی کوئی کوشش کی ہے؟ دوسرا دھرنا پاناما کیس یعنی پاکستان سے لوٹی گئی دولت واپس لانے پر تھا۔ کیا وہ دولت واپس قومی خزانے میں آگئی ہے؟ اور میاں نواز شریف سمیت جو 4 سو سے زائد لوگوں کے نام پاناما کہانی میں لیے گئے ان میں سے اب کوئی گرفتار ہے؟

جناب وزیراعظم صاحب آپ اقتدار میں آئے ہی اس وعدے پر تھے کی پاکستان کی لوٹی ہوئی کھربوں کی دولت ان چوروں سے واپس لیکر قومی خزانے میں لائیں گے اور ان سب کو سزائیں دیں گے، لیکن آپ نے تو سزا یافتہ نوازشریف کو لندن بھیجا اور ان کی سزا یافتہ صاحبزادی جو انسانی ہمدردی کے تحت اپنے والد کی عیادت کے لیے جیل سے باہر آئی تھی ابھی تک واپس جیل میں کیوں نہیں گئی اس کی وجہ ہم پوچھ سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ اسحاق ڈار اور شہباز شریف کی جن جائیدادوں کی نیلامی کا حکم عدالت نے دیا تھا وہ اب تک نیلام کیوں نہیں ہوئی ہیں؟ جناب اگر اجازت ہو تو ہم یہ بھی پوچھ لیں کہ شریف خاندان کے علاوہ بھی اس ملک میں کوئی کرپٹ ہے جس کو پکڑ کر اس سے ملکی دولت واپس لائی گئی ہے؟ جناب نیب کے پاس کرپشن کے ہزاروں مقدمات تھے/ہیں۔ کیا کوئی مال برآمد بھی ہوا ہے؟

جناب وزیراعظم صاحب ان تمام سوالات کے جوابات نہ ملنے کے باوجود ہم آپ کو آج بھی صادق و امین سمجھتے ہیں اور آپ کی نیت پر کوئی شک نہیں کرتے، لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ اپنے منشور اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوں اور ہم پاکستان کو ترقی کرتا ہوا کرپشن سے پاک ملک دیکھنے کے خواہش مند ہیں اس لیے ہم آپ کے مشیر کا عہدہ لیے بغیر آپ کو ایک مشورہ دینے کی جسارت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ جناب ہمارے اس مشورے پر غور ضرور کریں گے۔ جناب والا ہم سمجھتے ہیں کہ یا تو اوپر بیان کیے گئے مافیاز کے ہاتھوں آپ مجبور ہیں۔ یا پھر آپ نے غیر اعلانیہ این آر او کر لیا ہوا ہے۔ تو جناب والا ان دونوں صورتوں میں اب آپ کی کامیابی اور پاکستان کو مضبوط کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ ن لیگ اور پیپلزپارٹی پارٹی سے مذاکرات کریں اور ان کو اس بات پر قائل کریں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے لہذا جمہوریت کی مضبوطی، پاکستان سے کرپشن ختم کرنے اور اس ملک کو ایک بہتر نظام دینے کے لئے سب اتفاق کریں۔ جناب دنیا کی تاریخ کو ایک نظر دیکھنے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ترقی یافتہ اقوام کی بنیاد تمام جماعتوں اور تمام طبقات نے مل کر رکھی تھی۔ یا پھر کسی انقلابی شخصیت نے عوام کو اپنے سحر میں لیکر انقلاب برپا کیا ہوگا۔

جناب والا آپ کے پیش رو پہلے ہی کئی بار کی ذلالت کے بعد یہ جان چکے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا اور اب آپ کو بھی اندازہ ہو چکا ہوگا کہ سول حکومتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے تو پھر اب دیر کس بات کی؟ آگے بڑھیں اور حزب اختلاف کے ساتھ بات کریں کہ آؤ مل کر اس ملک اور جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں۔ اور آخری این آر او کے ساتھ ایک آخری میثاق جمہوریت کریں۔ جناب والا آپ کے وہ مشیر جن کی موجیں لگی ہوئی ہیں آپ کو ہمارے اس مشورے پر عمل کرنے سے بالکل اسی طرح روکنے کی کوشش کریں گے جس طرح شیطان انسانوں کو سیدھے راستے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جیسے اللہ کے نیک بندے شیطان سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں آپ کو بھی بچنا ہوگا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ والسلام۔

آپ کا دعاگو

مختار چوہدری

تحصیل و ضلع بھمبر آزاد کشمیر

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment