0

وزیراعظم شہبازشریف کے پراجیکٹ کاکریڈٹ عثمان بزاد کو دے رہے

Attaullah Tarar

مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے ایسے پروجیکٹ کا افتتاح کیا جس کا 70 فیصد کام شہباز شریف نے مکمل کر دیا تھا جبکہ نام نہاد وزیراعظم پراجیکٹ کا کریڈٹ عثمان بزدار کو دیتے رہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کل نام نہاد وزیراعظم پاکستان نے لاہور کا دورہ کیا اور وزیراعلی پنجاب جناب وسیم اکرم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت 2014-18 کے دوران پراجیکٹ پر متعدد کام مکمل کر چکی تھی لیکن کل ایک ڈھونگ رچایا گیا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ عثمان بزدار کے حوالے سے افواہوں کو دبانے کے لیے اس پراجیکٹ کا افتتاح کیا گیا۔ اگر آپ عثمان بزدار سے اس پراجیکٹ پر کوئی سوال پوچھ لیتے تو جواب آئیں باہیں شائیں ہی آتے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وسیم اکرم پلس نے پچھلے 2 سال میں پنجاب میں ایک اینٹ نہیں لگائی۔ کاش آپ شہباز شریف کے پراجیکٹس کو ہی چلا لیتے تو بہتر ہوتا کیونکہ انہوں نے تین میٹرو بس بنائی اور آپ سے ایک بی آر ٹی نہیں بن سکی۔

انہں نے کہا کہ آپ لاہور سکھر موٹروے، کامیاب نوجوان پروگرام اور دیگر پراجیکٹس کے نام بدل کر اپنی جماعت کے جھنڈے لگا کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اپکا اپنا ویژن کیا ہے؟ عوام کو بتائیں؟ اٹا، چینی اور پٹرول کی قلت آپکا ویژن ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ تمام تر مسائل کا ذمہ دار عمران نیازی ہے۔ چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین ہے جسے راتو رات لندن بھگا دیا گیا۔ لگ بھگ 100 ارب کا فائدہ جہانگیر ترین کو پہنچایا گیا۔ آئل کمپنیز کا منافع 70 سے 100 فیصد پہنچایا گیا۔ اٹا 2200 روپے مل رہا ہے جبکہ حکومت کا ریٹ 1400 روپے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جس شخص نے دوہری شہریت لی ہے اس نے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہ جبکہ کابینہ میں بیٹھے لوگ کہہ رہے ہیں ہمارے پاس شہریت نہیں ہم صرف وہاں کی رہائشی ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو کہا گیا تھا بیرون ملک پاکستانیوں کو نوکریاں ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیانات موجود ہیں۔ دوہری شہریت والے جب کابینہ میں ہوں تو لوٹ مار کا سبب بنتے ہیں اور کل کو یہ لوگ کسی ملک بھاگ جائیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ جیسے جہانگیر ترین خاموشی سے بھاگ گئے، ویسے ہی باقی بھی بھاگ جائیں گے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے تو جہانگیر ترین کو بھی نہیں روکا کیا باقیوں کو روکیں گے؟ احتساب کے اداروں کا ان لوگوں پر کوئی چیک نہیں ہے۔ چیئرمین نیب نے بغیر بلائے عمران خان کے کہنے پر زلفی بخاری کی انکوائری بند کر دی۔

انہوں نے کہا کہ کیا اپوزیشن یہ سکت رکھتی ہے کہ وہ اپنے ثبوت مٹا سکے یا کابینہ کے لوگ یہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام سوالات عمران نیازی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں اور مسلم لیگ ن ان تمام اقدامات پر عمران نیازی سے سوال بھی کرے گی اور انکی حکومت کا پیچھا بھی کرے گی۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے 2 سینیٹر ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو دوہری شہریت کیس میں نااہل کیا گیا۔ فیصل واوڈا کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں انکو نااہل کیوں نہیں کیا جاتا۔

ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف کی بیماری کے باوجود نیب انکو بلاوجہ تنگ کر رہا ہے جبکہ حمزہ شہباز اور شہباز شریف کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں