Home » نیویارک: چرچ کے باہر فائرنگ کرنے والا ہلاک

نیویارک: چرچ کے باہر فائرنگ کرنے والا ہلاک

by ONENEWS

چرچ کے باہر کا منظر

امریکی شہر نیویارک میں سینٹ جان دی ڈیوائن چرچ کے باہر فائرنگ کرنے والے کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق چرچ کے قریب ڈیوٹی پر مامور اہل کاروں نے فائرنگ کی آواز سنتے ہی مشتبہ شخص کی جانب دوڑ لگائی اور دور سے اسے سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔

واقعہ اتوار کی رات پیش آیا، جب امریکی شہر نیویارک کے سینٹ جان دی ڈیوائن میں کرسمس کی مناسبت سے کانسرٹ جاری تھا۔ تاہم کانسرٹ کے اختتام پر اچانک چرچ کے باہر فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق واقعہ امریکا کے مقامی وقت کے مطابق شام کے تقریباً چار بجے مین ہیٹن میں سینٹ جان دی ڈیوائن کے گرجا گھر سے چند قدم کے فاصلے پر پیش آیا۔ ایک عینی شاہد خاتون کا کہنا تھا کہ حملہ آور زور سے چلا رہا تھا کہ “مجھے مار دو، مجھے مار دو”۔

عینی شاہدین کے مطابق آؤٹ ڈور کورل کنسرٹ کے اختتام کے بعد سیکڑوں افراد وہاں سے روانہ ہونے لگے کہ اسی دوران انہوں نے دو یا تین دھماکوں کی آوازیں سنیں، جو بہت تیز تھے۔ انہوں نے دیکھا کوئی شخص 10 میٹر دور سیڑھیوں سے فائرنگ کر رہا تھا۔‘‘

ڈیلی نیوز نے نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس افسران نے بندوق بردار کو گولیاں ماریں۔

فیس بک پر چرچ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے بیان میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے پولیس اہل کاروں کو بتایا کہ فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا فائرنگ کرنے والا کسی پر فائر کر رہا تھا یا ہوا میں بندوق چلا رہا تھا۔

واقعہ کے بعد نیویارک پولیس کمشنر نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ حملہ آور کے دونوں ہاتھوں میں بندوق تھیں، جس سے اس نے پلر کے پیچھے سے فائرنگ شروع کردی۔ وہ لکڑی سے بننے چرچ کے دروازے کی جانب فائرنگ کر رہا تھا، جو کرسمس کی مناسب سے پھولوں سے سجا تھا۔

پولیس کمشنر کے مطابق فی الحال فائرنگ کرنے والے کے ہدف اور مقصد کا معلوم نہیں ہوسکا، جس کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک شخص کے قبضے سے سیمی آٹومیٹک بندوق ایک بیگ جس میں کیسولین بھرا ہے، تار، رسی ، مختلف چھریاں ، ٹیپ اور بائبل برآمد ہوئی۔

ہم اس بات کا شکر ادا کرتے ہیں کہ واقعہ میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔ ہلاک شخص کی عمر 52 سال تھی، جس نے چمڑے کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ فنگر پرنٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ حملہ آور کا جرائم کا ریکارڈ کافی بڑا ہے۔ جب کہ حملہ آور پر سال 1990 میں دوسرے درجے کے قتل کا مقدمہ بھی چلا تھا۔

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ کانسرٹ کے اختتام پر جب انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی تو انہیں یہ لگا کہ یہ کرسمس کے موقع پر ہونے والی آتش بازی کی آوازیں ہیں، تاہم ایسا نہ تھا، جب قریبی واقع دکان پر نظر پڑی اور لوگوں کو خوف و ہراس میں بھاگتا دیکھا تو معاملے کی سنگینی کا انداز ہوا۔ لوگوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی، کچھ بچے قریبی واقع باتھ رومز میں چھپ گئے۔

چرچ سے 3 بلاک دور ایمسٹرڈیم ایوینیو پر پولیس کی درجنوں گاڑیاں فلڈ لائٹس مارتی ہوئی آگئیں۔ پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمے کے اہلکاروں نے فوری طور پر علاقے کو یلو ٹیپ لگا کر سیل کردیا۔

حملے کے وقت پولیس اہلکار جیسن ہارپر نے درخت کے پیچھے سے نکل کر حملہ آور کو انگیج کیا اور اسے نشانہ بنایا۔

You may also like

Leave a Comment