Home » نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل نہیں بِکےگا،حکومت کی ہائیکورٹ میں یقین دہانی

نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل نہیں بِکےگا،حکومت کی ہائیکورٹ میں یقین دہانی

by ONENEWS

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بتایا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کونہ فروخت کررہے ہیں،نہ نجکاری کررہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاق کے بیان کے بعد درخواست نمٹا دی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکا میں پی آئی اے کےملکیتی روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بتایا کہ روزویلٹ ہوٹل کونہ فروخت کررہے ہیں،نہ نجکاری کررہے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاق کے بیان کے بعد درخواست نمٹا دی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بتایا کہ حکومت اس پرغور کررہی ہےکہ کیسے اس کا استعمال منافع بخش بنایا جائے،حکومت ایڈوائزر مقررکررہی ہے کہ کیسے ہوٹل کومستقبل میں منافع بخش بنایا جائے۔

جسٹس عامرفاروق نےراجہ خالد سے استفسار کیا کہ روزویلٹ ہوٹل میں جوائنٹ ونیچر تو نہیں ہورہا۔ جسٹس عامرفاروق کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ابھی ایسا کچھ نہیں،یہ صرف اخباری خبریں ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نےریمارکس دئیے کہ قومی اثاثے کو ایسے ہی پھینکنا نہیں چاہیے جیسے عمومی طور پر ہم کرتے ہیں،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فزیبلٹی صرف منافع بخش ہونے کے حوالے سے تیار ہورہی ہے۔

درخواست گزارکےوکیل نے کہا کہ ذوالفقار بخاری اپنے فرنٹ مین کےذریعے اس کو لینا چاہتےہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رٹ میں موجود کسی فریق کو تو نہیں دیا جارہا؟ کیا یہاں ٹیلنٹ نہیں ہے کہ غیر ملکی اسپیشلسٹ کو ہائر کرکے خدمات لے رہے ہیں؟۔ جسٹس عامر فاروق نے مزید ریمارکس دئیے کہ ایسا نہ کریں،یہ قومی اثاثہ ہے،کسی کی ذات نہیں نہ کسی کا ذاتی مفاد ہونا چاہیے۔

درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہر حکومت یہی کرتی ہے،ذوالفقار بخاری پاکستانی نیشنل بھی نہیں،نہ منتخب نمائندے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالدمحمود نے عدالت کو بتایا کہ ذوالفقاربخاری پاکستانی ہیں لیکن دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ عدالت نے اس پر ریمارکس دئیے کہ تو پھر کیا آپ نےسپریم کورٹ کا  فیصلہ  پڑھا،یہ تو پبلک آفس ہولڈر میں بھی آجاتا ہے۔

عدالت نے درخواست گزارکووکیل کے ہدایت کی کہ وفاق کے بیان کا ذکرکردیتے ہیں،مستقبل میں کچھ ایسا ہوتوآپ دوبارہ رٹ دائر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پی آئی اے کی ملکیتی ہوٹل روزویلٹ کی نجکاری نہیں ہورہی۔ اس پرجسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تھا کہ اس سلسلے میں آپ تحریری بیان دینا چاہیں گے؟۔ جسٹس عامر فاروق کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ حکومت سے پوچھ کر ہی عدالت کو آگاہ کریں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل شریف صابر نے میاں غفار ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہر دورِ حکومت میں روزویلٹ ہوٹل کوبیچنےیا نجکاری کی کوشش کی گئی،زولفی بخاری روزویلٹ کوفرنٹ مین کے ذریعے سستے داموں خریدنا چاہتے ہیں،زولفی بخاری وزیراعظم سےقربت کی وجہ سے خاص گروپ کے ذریعے فائدہ لینے کی کوشش میں ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت حکومت کو روزویلٹ ہوٹل کو بیچنے یا نجکاری سے روکنے کا حکم جاری کرے۔درخواست میں وزیراعظم کے معاون خصوصی زولفی بخاری، وزیر ہوابازی غلام سرورخان کوفریق بنایا گیا۔مشیرخزانہ حفیظ شیخ،سیکرٹری ایوی ایشن بھی درخواست میں فریق تھے۔

You may also like

Leave a Comment