Home » نیوزی لینڈ کی کلین سوئپ پاکستان ، کرکٹ ٹیسٹ درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل کرلی

نیوزی لینڈ کی کلین سوئپ پاکستان ، کرکٹ ٹیسٹ درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل کرلی

by ONENEWS

نیوزی لینڈ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کرائسٹ چرچ میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز 176 رنز سے شکست دے کر 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں نہ صرف 2-0 سے کلین سوئپ کر لیا بلکہ ہوم گراؤنڈ پر ناقابل شکست رہنے کے سلسلے کو 17 ٹیسٹ میچز تک دراز کر دیا۔

یہ ٹیسٹ میچ نیوزی لینڈ کیلئے کئی حوالوں سے یاد گار رہے گا کیونکہ ہیگلی اوول گراؤنڈ پر اس ٹیسٹ میں کامیابی کے نتیجے میں میزبان ٹیم تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر فائز ہو ئی اور اس نے آسٹریلیا و بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ہیگلی اوول میں فتح سے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 118 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر فائز ہو گئی جبکہ آسٹریلیا 116 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے بھارت 114 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے اور انگلینڈ 106 پوائنٹس چوتھے جبکہ جنوبی افریقہ 96 پوائنٹس پانچویں نمبر پر ہے۔

نیوزی لینڈ پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی کے بعد ہی آسٹریلیا پر سبقت لے گیا تھا لیکن دوسرے ٹیسٹ میں فتح نے اس برتری کو مزید مستحکم کر دیا کیونکہ آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر اپ ڈیٹ کی جاتی ہے۔ ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے کے باوجود فیصد تناسب کے اعتبار سے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو نیوزی لینڈ پر برتری حاصل ہے۔

آسٹریلیا صفر اعشاریہ 767 کے ساتھ پہلے بھارتصفر اعشاریہ 722 کے ساتھ دوسرے اور نیوزی لینڈ صفر اعشاریہ 70 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برسوں سے عالمی نمبر 2 کی پوزیشن پر تھی۔ پاکستانی ٹیم اس سے پہلے 3 ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچز کی سیریز نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 2-1 سے ہار گئی تھی۔اس طرح بڑے دعووں کے ساتھ نیوزی لینڈ جانے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم خالی ہاتھ وطن واپس لوٹ رہی ہے۔

نیوزی لینڈ سے قبل 6 ملکوں کی کرکٹ ٹیمیں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر فائز ہو چکی ہیں۔ سن 1995 میں ویسٹ انڈیز، اگست 2011 سے اگست 2012 تک انگلینڈ‘ جولائی 2014 سے جنوری 2016 جنوبی افریقہ‘ اگست 2016 سے اکتوبر2016 پاکستان‘ اکتوبر 2016 سے اپریل 2020 بھارت اور مئی 2020 سے جنوری 2021 تک آسٹریلیا آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر تھے۔

نیوزی لینڈ کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر آخری بار جنوبی افریقہ نے مارچ 2017 میں شکست سے دوچار کیا تھا جب ویلنگٹن ٹیسٹ میں میزبان ٹیم 8 وکٹوں سے ہار گئی تھی۔ اس کے بعد سے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر 8 ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے اور 17 ٹیسٹ میچز میں ناقابل شکست ہے جن میں سے 14 ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ 3 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔

نیوزی لینڈ کی اس فاتحانہ کارکردگی میں کین ولیمسن کی قیادت اور ٹیم اسپرٹ کا بڑا دخل ہے۔ بھارت نے ہوم گراؤنڈ پر 11 ٹیسٹ میچز میں سے 9 ٹیسٹ جیتے اور 2 ڈرا ہوئے۔ نیوزی لینڈ نے گزشتہ 44 ماہ میں 11 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے ہوم گراؤنڈ پر کھیلی جانے والی 8 ٹیسٹ سیریز میں نیوزی لینڈ فاتح رہا۔ نیوزی لینڈ نے انگلینڈ اورویسٹ انڈیز کو دو دو ٹیسٹ سیریز جبکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کو ایک ایک ٹیسٹ سیریز میں زیر کیا۔ بیرون ملک کھیلی جانے والی 3 ٹیسٹ سیریز میں سے ایک میں نیوزی لینڈ پاکستان کے خلاف 2-1 سے فاتح رہا جبکہ کیویز نے آسٹریلیا سے 3-0 سے شکست کھائی اور سری لنکا سے سیریز 1-1 سے برابر رہی۔

مشہور کہاوت ہے کہ کیچز ون میچز، اگر کوئی ٹیم ایک اننگز میں 8 کیچ ڈراپ کر دے تو پھر کیسے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ میچ جیت جائے گی پاکستانی ٹیم کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا تھا۔ ڈراپ کیچز کے نتیجے میں میزبان ٹیم نے پاکستان کے خلاف 6 وکٹوں پر 659 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا تھا جس میں ولمیسن 238 نکلس 157 رنز مچل 102 رنز ناٹ آؤٹ کا مرکزی کردار تھا جبکہ پاکستانی ٹیم 2 اننگز میں بھی اس مجموعے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

طویل قامت فاسٹ بولر کائیل جیمسن نے پاکستان کی بیٹنگ لائن کی تباہی میں مرکزی کرار ادا کیا اور دونوں اننگز میں 11 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے پہلی اننگز میں اظہر علی 93، محمد رضوان 61، فہیم اشرف 48، ظفر گوہر 34 اور عابدعلی کے 25 رنز کی بدولت 297 رنز جوڑے تھے۔ جیمسن نے 69 نز دے کر پانچ جبکہ بولٹ اور ساؤتھی نے دو دو وکٹیں لی تھیں۔

دوسری اننگز میں جیمسن نے تباہی مچا دی اور پاکستانی ٹیم 186 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ڈیبیو کرنے والے ظفر گوہر اور اظہر علی 37‘،37 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے۔ جیمسن نے 48 رنر دے کر 6 کھلاڑی آؤٹ کیے جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف چوتھی مرتبہ ایک اننگز کے مارجن سے ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ دوسری اننگز میں تو ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی بیٹنگ کرنا بھول گئے ہیں۔ ان کی کارکردگی کلب کے کھلاڑیوں سے بھی خراب رہی۔ کیوی کپتان ولیمسن میچ اور سیریز میں شاندار بیٹنگ پر مین آ دی میچ اور مین آف دی سیریز کے ایوارڈز لے اڑے۔

نیوزی لینڈ کی اس فتح میں پاکستان کی ناقص فیلڈنگ کا بھی بڑا کردار رہا کیونکہ پاکستان کے فیلڈرز نے نیوزی لینڈ کے ان بلے بازوں کے 8 کیچز ڈراپ کیے جنہوں نے پاکستان کے خلاف رنزوں کا انبار لگا دیا۔ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کی 238 رنز کی شاندار اننگز 28 چوکوں سے مزین تھی۔ اس اننگز کے دوران پاکستانی فیلڈرز نے کین ولیمسن کے 3 کیچ ڈراپ کیے۔ ولیمسن جب 82 نز پر تھے نسیم شاہ کی گیند ان کے بلے کا کنارا چھوتے ہوئے سلپ میں 2 فیلڈرز کے درمیان سے باونڈری پار کرگئی۔ حارث سہیل اور شان مسعود کیچ نہ کر پائے اور ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ کیوی کپتان کا اسکور 107 تھا تو شان مسعود نے گلی میں فہیم اشرف کی گیند پر کیچ ڈراپ کر دیا۔ ولیمسن 177 پر بیٹنگ کررہے تھے تو شاہین آفریدی کی بال پر اظہر علی نے گلی میں کیچ ڈراپ کر دیا۔

اسی طرح 157 رنز بنانے والے ہیری نکلس کے بھی 3 کیچ ڈراپ کیے گئے۔ شاہین آفریدی کی گیند پر نکلس کا 86 رنز کے اسکور پر کیچ وکٹ کیپر اور کپتان محمد رضوان نہیں پکڑ سکے۔ جب نکلس 92 پر پہنچے تو اظہر علی محمد عباس کی گیند پر کیچ پکڑنے میں ناکام رہے جبکہ 133 کے اسکور پر نسیم شاہ نکلس کا کیچ اپنی ہی گیند پر نہیں پکڑ پائے۔

جیمسن جب 10 رنز پر تھے تو کپتان رضوان نسیم شاہ کی بال پر لیگ سائیڈ پر کیچ نہیں پکڑ پائے۔ اسی طرح ایک اور سنچری میکر ڈیرل مچل کا کیچ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ظفر گوہر نے ڈیپ مڈ وکٹ پر ڈراپ کر دیا تھا اس وقت مچل کا اسکور 79 رنز تھا۔

پاکستانی بولرز کی بیرون ملک کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی ہے کیونکہ اس سیریز سے پہلے بیرون ملک ہونے والی گزشتہ 4 ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کا کوئی بھی بولر ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان نے انگلینڈ میں 2 ٹیسٹ سیریز جبکہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں ایک ایک سیریز کھیلی جن میں مجموعی طور پر10 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے۔

اگر اس سیریز کے 2 ٹیسٹ میچ کو شامل کر لیا جائے تو کل تعداد 12 بنتی ہے مگر پاکستان کا کوئی بھی بولر اننگز میں حریف ٹیم کے 5 بلے بازوں کو پویلین کا راستہ دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے آخری بار اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ فاسٹ بولر محمد عباس نے ایک کمزور ٹیم آئرلینڈ کے خلاف ڈبلن ٹیسٹ میں مئی 2018 میں انجام دیا تھا جب انہوں نے 66 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس میچ میں پاکستن کا کوئی بلے باز تو سنچری نہیں بنا سکا لیکن پاکستان کے چار بولرز نے 3 ہندسوں کو ضرور عبور کیا۔ ان میں سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے ظفر گوہر زیادہ زیر عتاب آئے جنہوں نے سب سے زیادہ 159 رنز دیے اور وہ پہلی وکٹ بھی حاصل نہ کر سکے۔ شاہین آفریدی 101، نسیم شاہ 142 اور فہیم اشرف نے 106 رنز دیے جبکہ محمد عباس نروس نائنٹیز میں رہے جنہوں نے 98 رنز دیے۔

بڑی اور مضبوط ٹیموں کے خلاف پاکستانی بولرز کی غیر متاثر کن کارکردگی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب بست و کشاد کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اپنے زمانے کے مایہ ناز بولر وقار یونس ہیں لیکن ان کی زبردست محنت اور کوچنگ کے باوجود بولرز کی پرفارمنس معیاری نہیں ہے اور پاکستانی بولنگ اسکواڈ ٹیسٹ میں حریف ٹیموں کی 20 وکٹیں اڑانے کا متحمل نہیں ہو پا رہا ہے۔

پاکستانی کرکٹ کے ناخداؤں کیلئے یہ سوچنے اور ایک مربوط لائحہ عمل بنانے کا وقت ہے۔ بولنگ کے علاوہ پاکستانی بیٹنگ بھی دھکا اسٹارٹ گاڑی کی مانند ہے۔ جب کھلاڑی آؤٹ ہونے پر آتے ہیں تب تو چل میں آیا کی صورت حال ہوتی ہے یا پھر وہ وکٹ پر جم جاتے ہیں۔ فواد عالم نے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں سنچری بنائی تو ان کی زبردست مداح سرائی کی گئی لیکن دوسرے ٹیسٹ میچ میں وہ گزشتہ ٹیسٹ اننگز کی معمولی سی جھلک بھی پیش نہیں کر پائے۔

کین ولیمسن نے دوسرے ٹیسٹ میں 238 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا۔ اب وہ 890 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور بھارت کے ویرات کوہلی 879 پوائنٹس دوسرے جبکہ آسٹریلوی رنز مشین اسٹیون اسمتھ 877 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ آسٹریلیا کے مارنس لبوشین 850 پوائنٹس چوتھے نمبر پر ہیں اور 800 سے زیادہ پوائنٹس صرف ان 4 بلے بازوں کے ہیں۔
کین ولیمسن ان دنوں زبردست فارم میں ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 3 ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 251، 129 اور 238 رنز کی شانداز اننگز کھیلی ہیں۔

.

You may also like

Leave a Comment