Home » نیوزی لینڈ کیخلاف بابر،شاداب کی عدم موجودگی ٹیم کیلئےبڑا امتحان

نیوزی لینڈ کیخلاف بابر،شاداب کی عدم موجودگی ٹیم کیلئےبڑا امتحان

by ONENEWS

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ٹی 20 انٹر نیشنل میچز کی سریز میں 2-1 سے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کپتان اور قابل اعتماد بلے باز بابر اعظم اور آل راؤنڈر شاداب خان کے بغیر ہفتہ 26 دسمبر کو ماؤنٹ مونگانوئی کے گراؤنڈ پر اتر رہی ہے تاہم سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں دو اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا امتحان ہے۔

نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں قیادت کی ذمہ داری وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے جنہوں نے 25 نومبر 2016 کو ہیملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہی اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری سے کرائسٹ چرچ میں شروع ہو گا۔ شاداب خان ران میں انجری کی وجہ سے ان فٹ ہو گئے ہیں۔ وہ اکتوبر میں زمبابوے کے خلاف بھی وائٹ بال سیریز میں گروئن انجری کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے تھے لیکن وہ دورہ نیوزی لینڈ سے قبل فٹ ہو گئے تھے۔ وہ نیوزی لینڈ میں ایک ٹور میچ کے دوران انجری کا شکار ہو گئے جبکہ بابر اعظم کی انگلی زخمی ہے۔
پاکستان 9 سال سے کیویز کی سرزمین پر ٹیسٹ جیتنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان نے جنوری 2011 میں آخری بار مصباح الحق کی قیادت میں ہیملٹن ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کو اس کی سرزمین پر 10 وکٹوں سے ہرایا تھا اور دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-0 سے جیتی تھی۔

اب تک پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین 58 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ہیں جن میں سے پاکستان نے 25 اور نیوزی لینڈ نے 12 جیتے جبکہ 21 ٹیسٹ بے نتیجہ رہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ تاریخ 65 سال پر محیط ہے۔ دونوں کے مابین پہلی ٹیسٹ سیریز 1955-56 میں کھیلی گئی تھی۔ تین ٹیسٹ میچز کی اس سیریز میں میزبان پاکستان 2-0 سے فاتح رہا تھا۔

اس پہلی سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے قائد عبدالحفیظ کاردار اور نیوزی لینڈ کے کپتان ہیری کیو تھے۔ کیویز ٹیم میں برٹ سٹکلف بھی شامل تھے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین اولین ٹیسٹ میچ اکتوبر 1955 میں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلاگیا جس میں پاکستانی بولر آف بریک ذوالفقار احمد کی تباہ کن بولنگ کے سامنے کیویز کی بیٹنگ لائن جم کر نہ کھیل سکی۔ پاکستان نے پہلا ٹیسٹ میچ ایک اننگ ایک رن سے جیتا تھا۔ ذوالفقار احمد نے پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگز میں 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور میچ میں 79 رنز کے عوض 11 شکار کیے تھے جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین کارکردگی تھی۔ اس سے قبل وہ 5 ٹیسٹ میچز میں صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے تھے۔

پاکستان نے لاہور میں دوسرا ٹیسٹ میچ 4 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔ وقار حسن اور امتیاز احمد نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 308 رنز کا اضافہ کیا تھا جو دونوں ملکوں میں ساتویں وکٹ کی پارٹنر شپ کا ریکارڈ ہے۔ امتیاز احمد نے 209 اور وقار حسن نے 189 کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ ذوالفقار احمد نے پہلی اننگز میں 2 اور دوسری اننگز میں 4 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ سیریز کا تیسرا ٹیسٹ ڈھاکہ میں ہوا جو ڈرا رہا۔ اس میچ میں پاکستان کے آغا سعادت علی اور والس میتھئس نے ڈیبیو کیا تھا۔ اس سیریز میں پاکستان کے ذوالفقار احمد کی بولنگ کا جادو سر چڑھ کر بولا تھا جنہوں نے 3 ٹیسٹ میچز میں 19 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھاتے ہوئے پاکستان کے سیریز جیتنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ وہ اپنے باقی 6 ٹیسٹ میں صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 9 ٹیسٹ میچز میں 20 وکٹیں حاصل کیں۔

اس کے 10 سال بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جنوری 1965 میں لیجنڈ بیٹسمین لٹل ماسٹر حنیف محمد کی زیر قیادت نیوزی لینڈ کا جوابی دورہ کیا تھا لیکن اس سیریز کے تینوں ٹیسٹ میچز جو ویلنگٹن، آک لینڈ اور کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے ڈرا ہوئے تھے تاہم اس سیریز میں پاکستان کے مین آف کرائسس آصف اقبال ایک تباہ کن بولر کے روپ میں سامنے آئے تھے جنہوں نے سیریز میں 18 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے پہلے اور دوسرے ٹیسٹ میں ایک ایک مرتبہ اننگز میں پانچ پانچ کھلاڑی آوٹ کیے تھے۔ اس سیریز میں صرف ایک سنچری بنی تھی جو حنیف محمد نے 100 ناٹ آؤٹ تیسرے ٹیسٹ میں بنائی تھی جبکہ نیوزی لینڈ کی جانب سے کپتان جان ریڈ نے پہلے ٹیسٹ میں 97 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ پاکستانی ٹیم کے دورے کے ایک ماہ بعد ہی کیویز کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ کیلئے پاکستان آئی تھی۔

پاکستان کے حنیف محمد اور ان کے بیٹے شعیب محمد کو نیوزی لینڈ کے خلاف ڈبل سنچری بنانے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ دلحسپ بات یہ ہے دونوں باپ بیٹے کا اسکور 203 رنز ناٹ آوٹ تھا۔ ان دونوں کے علاوہ محمد یوسف نے بھی نیوزی لینڈ کے خلاف 203 رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کے لیجنڈ بیٹسمین انضمام الحق ٹرپل سنچری بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں جنہوں نے 2002 میں لاہور ٹیسٹ میں 329 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

پاکستانی فاسٹ بولر وقار یونس کو دونوں ملکوں میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے13 ٹیسٹ میچوں میں 70 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ وسیم اکرم نے 9 میچوں میں 60 وکٹیں، انتخاب عالم 15 ٹیسٹ 54 وکٹیں، سر رچرڈ ہیڈلی 12 میچ 51 وکٹیں اور پرویز سجاد نے 12 میچ 45 وکٹیں لی ہیں جبکہ موجودہ بولرز میں پاکستان کے یاسرشاہ نے 7 ٹیسٹ میں 44 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے اور ان کے رواں ٹیسٹ سیریز میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی نے 9 ٹیسٹ میچوں میں 31 اور ٹرینٹ بولٹ نے 7 ٹیسٹ میں 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ پاکستان کے اسٹار بیٹسمین جاوید میاں داد بیٹنگ میں سرفہرست ہیں جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف 18 ٹیسٹ میچز میں 7 سنچریوں کی مدد سے 1919 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے کا اعزاز بھی میاں داد کے نام ہے۔ آصف اقبال نے 17 ٹیسٹ 1113 رنز، انضمام الحق 12 ٹیسٹ 1059 رنز، مارٹن کرو 11 ٹیسٹ 973 رنز، سلیم ملک 18 ٹیسٹ 946 رنز اور ماجد خان 11 ٹیسٹ 936 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کے اسٹار بلے بار راس ٹیلر نے 13 ٹیسٹ میں 903 رنز بنائے ہیں۔ وہ اس سیریز میں پاکستان کے خلاف ایک ہزار رنز بنانے والے پہلے کیوی بلے باز کا اعزاز اپنے نام کر سکتے ہیں۔ کین ولیمسن نے 10 ٹیسٹ 854 رنز، اظہر علی 10 ٹیسٹ 767، اسد شفیق 10 ٹیسٹ میچز میں 600 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں۔

دونوں ممالک کے مابین کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز میں کئی ایسے کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا جنہوں نے اپنی شاندار بیٹنگ اور بولنگ کے ذریعے دنیائے کرکٹ میں بڑا نام کمایا۔ ان میں جاوید میاں داد، وسیم اکرم، سکندر بخت، صادق محمد، وسیم راجہ، یونس احمد، رچرڈ ہیڈلی، جان ریڈ، نذیر جونیئر، عاقب جاوید، وارن لیز اور دیگر کئی کھلاڑی شامل ہیں۔

راولپنڈی میں نیوزی لینڈ کے خلاف 30 مارچ 1965 کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں صلاح الدین نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ اکتوبر 1969 میں کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کے 4 کھلاڑیوں محمد نذیر، ظہیر عباس، یونس احمد اور صادق محمد نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ کراچی ٹیسٹ میں محمد نذیر جو نذیر جونیئر کے نام سے بھی مشہور تھے نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو 99 رنز دے کر آؤٹ کیا اور یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ بھی رہی۔ اس ٹیسٹ میچ میں تینوں محمد برادران حنیف، مشتاق اور صادق کھیلے تھے۔ دو بھائیوں حنیف محمد اور صادق محمد نے پہلی بار اوپننگ کی تھی۔ یہ ٹیسٹ میچ لیجنڈ حنیف محمد کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ بھی تھا۔ صادق نے پہلی اور یونس احمد نے دوسری اننگز میں نصف سنچری بنائی تھی۔ یہ ٹیسٹ ڈرا ہو گیا تھا۔ 1973 ء کی سیریز میں ویلنگٹن ٹیسٹ میں وسیم راجہ، رچرڈ ہیڈلی اور جان پارکر نے ڈیبیو کیا تھا۔ فروری 1973 میں آک لینڈ ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے بلے باز روڈنی ڈوڈیمیڈ نے ڈبیبو میں سنچری کی تھی۔

نواکتوبر 1976 کو لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کے جاوید میانداد، نیوزی لینڈ کے وارن لیز، پیٹر پیتھرک اور رابرٹ اینڈرسن نے ڈیبیو کیا جس میں جاوید میانداد نے ڈیبیو اننگز میں 163 رنز بنائے اور آصف اقبال 166 رنز کے ساتھ پانچویں وکٹ کیلئے 281 کی پارٹنر شپ قائم کی تھی۔ پاکستان نے یہ ٹیسٹ میچ 6 وکٹوں سے جیتا تھا۔ نومبر 1976 میں کراچی ٹیسٹ میں سکندر بخت، شاہد اسرار اور نیوزی لینڈ کے مرے پارکر نے ڈیبیو کیا۔ سکندر بخت نے سنچری میکر وارن لیز کو بولڈ کر کے پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی تھی۔

فروری 1979 آک لینڈ ٹیسٹ میں جان ریڈ نے ڈیبیو کیا تھا۔ پاکستان کے لیف آرم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے جنوری 1985 میں آک لینڈ ٹیسٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور انہوں نے جان رائٹ کو آؤٹ کر کے پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی تھی۔ وسیم اکرم دونوں اننگز میں کوئی رن نہیں بنا سکے تھے۔ تاہم وسیم اکرم نے ڈونیڈن میں اپنے دوسرے ٹیسٹ میں تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں اننگز میں نیوزی لینڈ کے پانچ پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا لیکن ان کی شاندار کارکردگی کے باوجود پاکستان دو وکٹوں سے یہ ٹیسٹ میچ ہار گیا تھا۔
تین فروری 1989 کو ڈونیڈن میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ شدید بارش کی وجہ سے ختم کر دیا گیا تھا اس میچ میں ایک گیند بھی نہیں پھینکی جا سکی تھی۔ چوتھے روز میچ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 14 فروری 1989 کو ویلنگٹن ٹیسٹ میں عاقب جاوید نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ آٹھ مارچ 2001 کو آکلینڈ میں پا نچ کھلاڑیوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ جن میں پاکستان کے محمد سمیع، عمران فرحت، مصباح الحق اور فیصل اقبال جبکہ نیوزی لینڈ کے جیمز فری کلین شامل تھے محمد سمیع نے اپنے ڈبیبو ٹیسٹ میں تباہ کن اور فاتحانہ بولنگ کی۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 3 اور دوسری اننگز میں 5 کیویز شکار کرکے پاکستان کو 299 رنز سے کامیابی دلوائی تھی اور مین آف دی میچ کا اعزاز بھی جیتا تھا۔

آٹھ مئی 2002 کو پاکستان اور نبوزی لینڈ کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ کراچی میں بم دھماکے کی وجہ سے فوری طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ یہ دھماکہ صبح سویرے اس ہوٹل کے قریب ہوا تھا جہاں میزبان اور مہمان ٹیموں کے کھلاڑی قیام پذیر تھے۔ دھماکے کے وقت کئی کھلاڑی ناشتہ کر چکے تھے اور کچھ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔ ٹیموں کے نیشنل اسٹیڈیم جانے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ دھماکے سے ہوٹل اور قریبی عمارتیں لرز اٹھی تھیں اور نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑیوں کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ اس دھماکے کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی ٹیم دورہ ختم کر کے اسی روز واپس وطن روانہ ہو گئی تھی۔ لاہور میں یکم مئی 2002 کو سیریز کا پہلا ٹیسٹ پاکستان نے ایک اننگز اور 324 رنز سے جیتا تھا جس میں انضمام الحق کے 329 ر نز کی شا ندار اننگز شامل تھی۔ اٹھائیس نومبر 2009 کو ڈونیڈن میں عمر اکمل نے ٹیسٹ ڈیبیو میں سنچری بنائی تھی۔ اس بم دھماکے کے بعد نیوی لینڈ نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور اس نے ابوظہبی اور دبئی میں پاکستان کی ہوم سریز کھیلی۔ نومبر 2018 کو ابوظہبی میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو سنسی خیز مقابلے کے بعد صرف 4 رنز سے شکست دی تھی جس میں کیویز کے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بولر اعجاز پٹیل نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے پہلی ا ننگز میں 2 اور دوسری ا ننگز میں پاکستان کے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ مین آف دی میچ کا اعزاز بھی انہی کے نام رہا تھا۔ دونوں ٹیموں کا آخری بار مقابلہ ابوظہبی کے گراؤنڈ پر ہوا تھا جس میں نیوزی لینڈ 123 رنز سے فاتح رہا تھا۔

.

You may also like

Leave a Comment