Home » نیب اور سیاست

نیب اور سیاست

by ONENEWS

سُنا ہے کہ حکومت نے نیب کے قانون میں ترمیم کا ایک مسودہ اپوزیشن کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے کیونکہ نیب سیاست میں ایک اہم فیکٹر بن گیا ہے۔ یہ ادارہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وجود میں آیا۔ پہلے دن سے ہی اس کے بارے میں یہ تاثر موجود تھا اور وقت کے ساتھ مضبوط ہوا ہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ میں مدد دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اب تو سپریم کورٹ نے باقاعدہ اِس تاثر یا حقیقت پر ٹھپہ لگا دیا ہے۔ کئی دفعہ اعلیٰ عدالتوں نے نیب سے متعلقہ مقدمات کی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس دیئے ہیں جن سے نیب جیسے اہم ادارے کے کردار پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں لیکن اب تو بات بہت آگے چلی گئی ہے اور اعلیٰ ترین عدالت نے باقاعدہ ایک چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیب نے ہماری سیاست میں زہر گھول دیا ہے۔ سیاست کوئی لڑائی جھگڑے کا کھیل نہیں بلکہ معاشرے میں استحکام پیدا کرنا اور ملک و قوم کو آگے لے جانے کا طریقہ ہے۔ اگر اِسے بدنام کیا جائے گا اور نفرت اور لڑائی جھگڑے کا کھیل جاری رہے گا تو اس سے قوم مایوس ہو گی اور ملک کی ترقی متاثر ہو گی۔ اب اگر کافی تُوتُو میں میں کرنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن اس معاملے میں کسی اتفاق رائے تک پہنچ جاتی ہے تو یہ بہت اچھا ہو گا۔

ٹی وی چینلز پر بحث کے دوران شدید تلخی دیکھنے میں آئی ہے۔ اپوزیشن کے لوگ کہتے ہیں کہ نیب کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور حکومت مخالف پارٹیوں کے خلاف نیب کو استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کے نمائندے اِس کے جواب میں تواتر سے تین چار باتیں کر رہے ہیں ظاہر ہے وہ اپوزیشن کا الزام تو نہیں مانتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ نیب کا ادارہ انہوں نے نہیں بنایا۔ دوسرا یہ کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے کیا اور حکومت نے تو اس ادارے میں ایک نائب قاصد بھی بھرتی نہیں کیا اور تیسرا یہ کہ اگر نیب کا قانون غلط ہے تو دونوں اپوزیشن پارٹیوں نے اس میں ترمیم کیوں نہیں کی۔ ظاہر ہے نیب پی ٹی آئی نے نہیں بنایا اور یہ بھی صحیح ہے کہ موجودہ چیئرمین کا تقرر بھی موجودہ اپوزیشن پارٹیوں نے کیا تھا لیکن یہ کیا دلیل ہوئی کیا جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف بنایا تھا۔ کیا جنرل پرویز مشرف کو میاں نوازشریف نے آرمی چیف نہیں بنایا تھاتو پھر نتیجہ کیا نکلا تھا۔

دوسری بات یہ ہے کہ پھر مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری جیسے لوگ پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ ہم نے نائب قاصد بھی اس ادارے میں بھرتی نہیں کیا۔ مجھے کسی نائب قاصد کی تقرری کا تو پتہ نہیں لیکن یہ ضرور پتہ ہے کہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کا تقرر اِسی حکومت نے کیا ہے۔ البتہ یہ سوال وزن رکھتا ہے کہ قانون کی اصلاح ماضی میں کیوں نہیں ہوئی۔ دراصل پیپلزپارٹی نے نیب قانون میں ترمیم کے لئے کوشش کی تھی لیکن اُس وقت مسلم لیگ نے ساتھ نہیں دیا پھر مسلم لیگ نے بھی 29 رکنی کمیٹی بنائی تھی اُس کا پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کر دیا تھا اور کسی میجر پارٹی کے بائیکاٹ کے بعد اس اہم قانون سازی کا مطلوبہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ اب ٹاک شوز میں حکومت کا ہر نمائندہ آخر میں یہی کہتا ہے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ مذاق کر رہا ہے کیونکہ اُسے بھی پوری طرح نیب کی ”آزادی“ کا پتہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں جنرل شاہد عزیز نیب کے چیئرمین ہوا کرتے تھے بعد میں انہوں نے ”آخر کب تک“ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔

اُس میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک دن اُن کے سامنے میاں نوازشریف کے خلاف مقدمات کی فائل آئی تو انہوں نے فون پر جنرل پرویز مشرف سے اس سلسلے میں رہنمائی مانگی۔ جنرل پرویز مشرف نے انہیں کہا کہ یہ فائل Pending کر دیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے نیب کے ایک اعلیٰ افسر سے پوچھا کہ نیب کے مقدمات کے فیصلوں میں سال ہا سال لگ جاتے ہیں اس غیرمعمولی تاخیر کی وجہ کیا ہے اور Convictionریٹ کیوں کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی تین وجوہات ہیں ایک یہ کہ وائٹ کالر کرائم پکڑنا اور اس سلسلے میں شہادتیں اکٹھی کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وائیٹ کالر کرائم کرنے والا کوئی عام آدمی نہیں ہوتا۔ وہ مشکل سے کوئی ثبوت چھوڑتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نیب کے پراسیکیوٹر کمزور ہوتے ہیں اور مجرم اُن کے مقابلے میں ملک کے ٹاپ کلاس وکلاء کو کھڑا کرتے ہیں اور تیسری وجہ یہ کہ بعض مقدمات میں ”اوپر“ سے ہدایت آ جاتی ہے کہ اِسے آگے نہ بڑھایا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ احتساب کسی بھی معاشرے میں ایک بہت اہم شعبہ ہوتا ہے۔ یہ جتنا اہم کام ہے اُس سے زیادہ حکومتوں کیلئے ایک چیلنج بھی ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے میں صحیح معنوں میں بے لاگ احتساب شاید ابھی تک ایک خواب ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے بہت پست ہے پھر یہاں سیاست مسلسل اکھاڑ بچھاڑ کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ادارے مستحکم نہیں ہو سکے لہٰذا احتساب ایک نعرہ بن گیا ہے اور اس کے ذریعے مخالفوں کو زیر کرنا ہی مقصد رہ گیا ہے اس کے نتیجے میں سیاست میں تلخی پھیلی ہے، کرپشن میں شاید کوئی نمایاں کمی نہیں ہوئی اور اداروں کے غلط استعمال سے اُن کے استحکام کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ نواز کے زمانے میں ایک مشکوک Credentials والے شخص سیف الرحمان کی قیادت میں احتساب بیورو نے بہت بری روایتیں قائم کیں۔ یہ بدنامی مسلم لیگ کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ اب اس صورتحال کا بظاہر یہی حل نظر آتا ہے کہ تمام قابل ذکر سیاسی پارٹیاں کسی قانون اور متعلقہ ادارے میں تبدیلیوں کے پیکج پر اتفاق رائے کر لیں تاہم اگر ادارے کو بالکل Toothless بنا دیا گیا تو یہ بھی مسئلہ کا حل نہیں ہو گا۔لیکن پھر وہی بات کہ بہت کچھ حکومتوں کی نیتوں پر منحصر ہوتا ہے لہٰذا لانگ ٹرم سلوشن کیلئے سیاست کا معیار بلند کرنا ہو گا اور اچھی روایات قائم کرنا ہوں گی۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment