Home » نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو

نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو

by ONENEWS

نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو

کہتے ہیں قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اس میں اس بات کا اضافہ کرلیا جائے کہ حکمرانوں کی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں کیونکہ عوام کو جب کبھی ان کی ضرورت پڑتی ہے یہ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں اور پہاڑ پر چڑھنے والے حکمران عوام کے دکھ درد میں شامل ہونا بھی کسر شان سمجھتے ہیں سانحہ مچھ کہ جہاں دہشت گردوں نے 10سوئے ہوئے مزدوروں کو جگا کر ابدی نیند سلا دیا اس دلدوز واقعہ پر لواحقین شہیدوں کے جسد خاکی لئے سخت سردی میں کئی روز سراپا احتجاج رہے جس میں نہ صرف مرد بلکہ سینہ کوبی کرتی خواتین اور سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے معصوم بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے ان کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم ان کو پرسہ دینے آئیں لیکن وزیر اعظم کے متنازعہ بیان تو سامنے آتے رہے کہ وہ بلیک میل نہ ہوں گے اگرچہ بعد میں وضاحت کردی گئی کہ بلیک میلنگ کا بیان پی ڈی ایم سے متعلق تھا، تاہم وزیر اعظم اپنی بات پر قائم رہے اور وہ  تدفین سے پہلے شہداء کے ورثاء کے مطالبے پر وہاں نہ پہنچے البتہ اپنا مطالبہ پورا ہونے کے بعد ہی ادھر کا رخ کیا۔

لواحقین نے شہیدوں کی نعشوں کے ساتھ احتجاج کا جو سلسلہ شروع کیا وہ طویل ہوکر ملک بھر میں پھیل گیا اس دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال، زلفی بخاری، علی زیدی اور شیخ رشید مذاکرات میں ناکام رہے جام کمال اور زلفی کے متنازعہ بیانات جلتی پر تیل کاکام کرتے گئے کہ وزیر اعظم کا یہاں آنے کافائدہ ہی کیا ہوگا جام کمال تو یہاں تک کہہ اٹھے کہ میں آپ کے لئے کر ہی کیا سکتا ہوں یہ بیانات لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کرگئے احتجاج کا دائرہ جب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیاتو ملک جیسے مفلوج ہو چلا تھا کہ اس دوران حکومت کے مذاکرات طے پاگئے اور حالات مزید خراب ہونے سے بچ گئے یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد کبھی تو گولہ بارود سے آگ برسائی تو ملک کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے لئے شرپسندوں کا سہارا لیا، جنہوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے ملک کے معصوم شہریوں کا خون بہایا دہشت گردی کی اس جنگ میں افواج پاکستان کے جوانوں افسروں نے قربانیاں دیں،لیکن وائے افسوس کہ ہمارے سیاست دانوں کے آپس کے اختلافات جو انتقام کا روپ دھار چکے ہیں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا ساتھ ہی آنکھ کھول رہا ہوتا ہے اور اس طرح ملک مسائل کے بھنور میں پھنس چکا ہے جناب عمران خان مسلم لیگ ن کی پچھلی بھاری اکثریت سے کامیاب حکومت کے اقتدار کے آگے پہاڑ بن کرکھڑے ہوگئے تھے وہ کونسی بات ہے جو خان صاحب نے اس وقت نہیں کی احتجاج اور دھرنوں کا وہ کونسا حربہ ہے جو انہوں نے اختیار نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ملک کی ترقی کی رفتار سست ہو کر رہ گئی اور آج جب وہ وزیراعظم ہیں تو اپوزیشن کے احتجاج پر سیخ پا ہیں۔

ملک مہنگائی کی تاریخ کو مات کر چکا ہے چینی کی مد میں قوم کی جیبوں سے اربوں نکلوانے کے بعد اسکی قیمتوں کو پھر سے بڑھا دیا گیا ہے،ہر چیز کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں،بے روزگاری کا بحر بے کراں ہے۔ لاقانونیت بھی اپنی مثال نہیں رکھتی بجلی کا حالیہ بحران کیا ہے کچھ پتہ نہیں اپوزیشن حکومت کی کسی ایک بات پر تنقید کرتی ہے تو حکومت اپوزیشن کو ان کی کوتاہیاں گنوانا شروع کر دیتی ہے بس جب سے خان اعظم وزیر اعظم بنے ہیں ان کی ساری توجہ اپوزیشن کو زچ کرنے میں لگی ہے عوامی مسائل جیسے ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہ تھے خان صاحب اپنے اقتدار کے ان اڑھائی سالوں میں اپنے اڑھائی وعدے ہی پورے کردیتے تو اپوزیشن ان کا بال بھی بیکا نہ کرپاتی خان صاحب نے اقتدار میں آنے سے قبل جوجو بھی کہا تھا خان صاحب اس سے انحراف کر چکے ہیں خان صاحب کو تو نواز شریف کی دانش اور سیاسی بصیرت سے ہی کچھ سیکھ لینا چاہئے تھا خان صاحب نے اپنے دھرنوں کے دوران نواز شریف کو وزیر اعظم ہاؤس سے گریبان سے پکڑ کے باہر نکالنے کی باتیں تک کی تھیں اور دوتہائی اکثریت سے ملک کے تیسری بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف،خان صاحب کی ان باتوں سے حرف شکایت لبوں پر لائے بغیرخاموشی سے اپنے حکومتی معاملات چلاتے رہے ملک کا وزیراعظم ایسا ہی برد بار ہونا چاہئے،  اقتدار کی بھاری ذمہ داری کمزور کندھوں پر نہیں ہونی چاہئے  اس کے لئے مضبوط اعصاب کا ہونا لازم ہے خاں صاحب تو بات بات پر غصے میں آجاتے ہیں اور یہ کھیل کا میدان نہیں، پہلی اسلامی ایٹمی مملکت کی حکمرانی ہے اس کے لئے مصلحت اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے اور طاقت کا استعمال ملک کے دشمنوں کے لئے ہے۔اڑھائی سالوں میں تو ایک اناڑی بھی کھلاڑی بن جاتا ہے اور جناب خان اعظم آج بھی ذہنی طور پر اسی موڑ پر کھڑے ہیں،جہاں اقتدار سے پہلے کھڑے تھے، لہٰذا

غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے

نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment