Home » نکتہ چینی کا جواب کارکردگی سے دیں

نکتہ چینی کا جواب کارکردگی سے دیں

by ONENEWS

نکتہ چینی کا جواب کارکردگی سے دیں

پاکستان میں سیاسی حالات ابتر سے ابتر ہو رہے ہیں۔ عوام کا تو کوئی پُرسانِ حال ہی نہیں ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے، ایسے میں تحریک انصاف کی قیادت یہ راگ الاپ رہی ہے کہ ملک کے معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے آج ملکی حالات کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ خود پی ٹی آئی کے کارکن گلی محلوں میں عوام کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں، وہ اپوزیشن، جس نے 2018 ء  کے انتخابات کو نہ چاہتے ہوئے بھی بادل ناخواستہ قبول کر لیا تھا، آج وہی اپوزیشن سراپا احتجاج ہے اور عوام اس کے شانہ بشانہ ہیں ایسے میں وزیراعظم  یہ بات ہر دوسرے دن دہرا رہے ہیں کہ سول ملٹری بیورو کریسی ایک پیج پر ہے، حکومتی زعماء کے ایسے بیانات لمحہ فکریہ ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن ببانگ ِ دہل کہہ رہی ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں،بلکہ انہیں لانے والوں کے ساتھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نوبت کیوں آئی؟ مسلم لیگ(ق) کے قائدین چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی اور چودھری مونس الٰہی تو پی ٹی آئی کی قیادت کو اول روز سے ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو  اس کے حال پر چھوڑ دو، لیکن حکومت ہے کہ ماننے کو تیار نہیں، اگر پی ٹی آئی کے وزراء اور مشیروں کو معمولی سمجھ بھی ہوتی تو آج ملکی حالات بہت بہتر ہوتے۔

دُنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں اپوزیشن کا کام حکومت پر تنقید اور حکومت کا کام اس تنقید کا جواب اپنی بہترین کارکردگی سے دینا ہوتا ہے،جہاں پر معاملہ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کا ہو اس پر حکومت اور اپوزیشن متحد نظر آتی ہے، مگر پاکستان کا معاملہ اس سے قطعی مختلف ہے۔ حکومت اپوزیشن کی تنقید کا جواب اپنی کارکردگی سے دینے کی بجائے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود بھی حکومت ہر خرابی کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کے لئے صرف پروپیگنڈہ پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس قدر خوفناک ہیں کہ تمام محب وطن حلقے انگشت بدنداں ہیں کہ حالات کیسے سنبھالے جائیں۔ موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تو پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 5اعشاریہ 8 فیصد تھی جو حکومت کے پہلے سال یعنی 2019ء میں ایک اعشاریہ 90 فیصد تک گر گئی اور اس سال اس کے منفی صفر اعشاریہ چالیس تک گرنے کا امکان ہے۔اس پر بھی حکومت معاشی ترقی اور معیشت کے درست سمت پر گامزن ہونے کا دعویٰ کر  رہی ہے۔

ورلڈ بنک کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس سال بھارت کی شرح نمو 5 اعشاریہ 40، سری لنکا کی 3 اعشاریہ 30، افغانستان کی 2اعشاریہ50،بنگلہ دیش کی ایک اعشاریہ 60 فیصد اور پاکستان کی صفر اعشاریہ چالیس فیصد رہے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق اس سال کے دوران بھارت میں مہنگائی کی شرح 3  اعشاریہ 5فیصد، افغانستان میں 3 اعشاریہ 8 فیصد بنگلہ دیش میں 5 اعشاریہ 5 فیصد، سری لنکا میں 6 فیصد اور پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد رہے گی۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت برسراقتدار آئی تو ملک میں ڈالر کی قیمت 116 روپے تھی اور اب 160 روپے ہے۔ 2018 ء میں گردشی قرضہ 1100 ارب روپے تھا جو 2019ء میں 1565 اور 2020 ء  میں 2240 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ 2018ء میں پاکستانیوں کی فی کس آمدنی 1652 ڈالر تھی، جو 2019 ء میں کم ہو کر 1455 ڈالر اور 2020 ء میں کم ہو کر 1355 ڈالر رہ گئی۔

2002 ء سے 2008 ء تک پاکستان میں مسلم لیگ ق کا دور حکومت بہترین رہا، اس دور میں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جو گراں قدر خدمات انجام دی گئیں، وہ ملکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔  اس کے بعدپیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملکی قرضہ روزانہ 5 ارب روپے بڑھ رہا تھا، نواز شریف حکومت کے دور میں بھی یہ قرضہ 5 ارب روپے روزانہ کے حساب سے  ہی بڑھا، جبکہ آج یہ قرضہ روزانہ 20 ارب روپے کے حساب سے بڑھ رہا ہے، جب ملکی معیشت کا یہ حال ہو، ملک کی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف کے نمائندے بنا رہے ہوں اور ملک کے مرکزی بنک کی سربراہی بھی غیر ملکی مالیاتی ادارے کے نمائندے کر رہے ہوں تو ایسے میں بہتری کے خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ غریب آدمی کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، بیروزگاری عروج پر ہے، حکومت نے اس کے حل کی کوششوں کی بجائے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دینے کے لئے درجنوں کے حساب سے ترجمان رکھے ہوئے ہیں۔  ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر عوام کو  سبز باغ دکھانے سے غریب آدمی کا پیٹ تو نہیں بھرے گا۔ حکومت کی اسی نااہلی کے سبب عوام اپوزیشن جماعتوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اپوزیشن کے جلسوں میں جوق در جوق شریک ہو  رہے ہیں۔

آج ملکی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں ایسے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کی عاقبت نااندیش قیادت، حالات کو اس سطح پر لے جا چکی ہے کہ اس کے اپنے اتحادی بھی اس سے نالاں ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment