Home » نِکّا جیہا بال

نِکّا جیہا بال

by ONENEWS

کھانا آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ دوست کھانے کی میز کے گرد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بات بات پر قہقہے لگ رہے تھے۔ ہر دوست حسب ِ موقع اپنی ذہنی زرخیزی کے مطابق جگتوں اور لطیفوں کا حصہ ڈال رہا تھا۔ظاہر ہے، مدت بعد اکٹھے ہوئے تھے،ماضی سے جڑی یادیں باہر نکلنے کو اچھل رہی تھیں، مگر ہم تمام دوستوں میں ایک دوست خاموش گم سم بیٹھا تھا،اس نے نہ تو کوئی لطیفہ سنایااور نہ ہی دوسرے کے لطیفے پر قہقہہ لگایا۔ میں نے آہستہ سے قریب جا کے پوچھا: ”آپ کی طبیعت توٹھیک ہے، گھر میں کوئی پریشانی تو نہیں، کیوں آپ اتنے سنجیدہ بیٹھے ہوئے ہیں“ و ہ دوست کہنے لگا، ”اس عمر میں مجھ سے بچوں والی کھچیں نہیں ماری جاسکتیں۔ بھلا یہ بھی کوئی عمر ہے شوروغوغا کرنے کی، قہقہے لگانے کی اورایسی غیر سنجیدہ باتیں کرنے کی“۔

ہم اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ انسان اس کائنات میں زارو قطارروتا، چیخیں مارتاہوا وجود پذیر ہوتا ہے،اور اُس کے والدین و دیگر عزیز و اقارب اُس کی یوں وجود آوری پر مسکراہٹوں کے تبادلے کر رہے ہوتے ہیں۔ کرۂ ارض پر انسان کا یوں چیختے چِّلاتے وارد ہونا علامتی طور پر ایک اعلان ہوتا ہے کہ اسے عطاکی گئی زندگی کے شب و روز میں دکھ نمایاں ہوں گے اوران میں کمی یا نجات کے لئے اُسے اپنے جیسوں سے مسکراہٹوں کے تبادلے کرنا ہوں گے۔

چونکہ انسان کی زندگی بنیادی طور پر دکھ سے عبارت ہے۔لہٰذا جتنی بھی بڑی خوشی اُس کو نصیب ہو جائے،اُس کی فطرت اُسے رونے پرمجبور کر دیتی ہے، بھلے اسے ہم خوشی کے آنسوہی کیوں نہ کہیں، ہے تو رونا ہی نا۔ کتنی مثالیں ہمارے چارسُو پھیلی ہیں: والدین عمرہ یاحج پر جا رہے ہوں یا واپس آ رہے ہوں، بچے بسلسلہ تعلیم یا ملازمت اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک سفر کا ارادہ رکھتے ہوں یا واپس آ رہے ہوں تو والدین و دیگرعزیز نم دیدہ آنکھوں سے الوداع یااستقبال کر رہے ہوتے ہیں، بیٹیوں کے مناسب رشتے ڈھونڈتے اکثرکی جوتیاں گھس جاتی ہیں،جب کوئی مناسب رشتہ دستیاب ہوتا ہے تو شادی کے موقع پر خوشیوں بھری لُڈیاں ڈالنے کی بجائے ماں،باپ، بیٹی کے گلے لگ کے دھاڑیں مار مار کے رو رہے ہوتے ہیں، حالانکہ یہ موقع ایک فرض سے عہدہ برآ ہونے پر تشکر کا ہوتا ہے، لیکن فطرت کی طرف سے ملنے والی آزردگی انسان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ گویا وہ مواقع جو خالصتاً خوشی آور ہوتے ہیں اور جن کو خوشی کے جشن کے طور پرمنایاجا سکتا ہے، وہ بھی ہماری آزردگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔

صبح ہم تلاشِ معاش کے لئے یاانجام دہی ئ فرائض کے لئے گھر سے جلدی نکل جاتے ہیں اور روزی کمانے کے تقاضے نبھاتے نبھاتے بہت دیر سے گھرلوٹتے ہیں۔اس پورے دورانیہ میں ہمیں قدم قدم پر مختلف قسم کی تکلیفوں، پریشانیوں اور اذّیتوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو بالآخر ہماری صحت پر اثر انداز ہو کر کئی ایک کو  ذیابیطس، دِل اور گردوں کی امراض اور ڈپریشن سے دوچار کر دیتی ہیں۔ آزردہ فطرت کی وجہ سے دن میں اتفاقاً پیش آنے والے کتنے خوبصورت واقعات اور لمحات کو ہم دانستہ  ضائع کر دیتے ہیں۔ ممکن ہے دن میں بچپن کا کوئی دوست  سر راہ مل جائے،جس کا ملنا ہمارے لئے کبھی باعث مسرت ہوتا تھا،اسی طرح کسی خوبصورت مقام پرجانے کا اتفاق ہوجائے، کوئی دلکش منظر ہمیں دعوتِ نظارہ دے رہا ہو،یا پرندے ہماری نظروں کے سامنے آپس میں اٹکھیلیاں کرتے ہوں، ایسے تمام لمحات اور مناظرہماری آزردگی کی نذر ہو جاتے ہیں،اور ہم لمحہ بھر کے لئے بھی انہیں دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے،حالانکہ ایسے نظارے یا مواقع گھٹن بھری حیات میں آکسیجن کے تازہ جھونکوں سے لدے ہوتے ہیں۔

انسان کی عمر کے مختلف ادوارمیں سے اِس کے بچپن اور بڑھاپے کو کسی حد تک مماثلت حاصل ہے۔ چھوٹی عمر میں انسان گھر میں سب کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ اُس کی ہر ادا شمار کی جاتی ہے۔اس کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کو گِنا جاتا ہے اور اُس سے اٹکھیلیاں کر کے اپنے لئے محظوظ ہونے کے مواقع تراشے جاتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس کو ورڈز ورتھ نے خالص لذت (Pure Delight)کا نام دیا ہے،یعنی ایسے بچے کو دیکھ کر دِل و دماغ کو جو مسّرت حاصل ہوتی ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

بڑھاپے کی عمر،بچپن کی عمر سے، سوائے ضُعف بدن اور چند نپے تلے روّیوں کے،مختلف ہوتی ہے۔ وہ شخص جس نے ساری زندگی کتنی مہمات سرکی ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے فیصلے کئے ہوتے ہیں، کامیابیاں سمیٹیں ہوتی ہیں،مگر بڑھاپے میں پہنچتے ہی اسے بچہ تصّور کر لیا جاتا ہے۔اُس کے ساتھ ایسی حرکات اور معاملات کئے جاتے ہیں جو معصوم بچے کے ساتھ کیے جاتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ بچہ توخوش ہو جاتا ہے، مگر بوڑھا ایسی اذّیت سے گزر رہا ہوتا ہے، جس کو نہ وہ بیان کر سکتا ہے، نہ کوئی اس کی سنناچاہتا ہے اور نہ ہی اس کا فہم و ادراک کر سکتاہے۔

بچپن کی وہ چندخوبیاں جوفطرت نے انسان کے اندر رکھی ہیں۔ مثلاً ہنسنا ہنسانا، کھیلنا کودنا،ہنسی مذاق کرنا،اگر ان سے بیزاری اختیار کر لی جائے توزندگی عذابِ مسلسل بن جاتی ہے۔زندگی کو خوش رنگ و خوش مزاج جینے کے لئے لازم ہے کہ عمر کے ہر حصّے میں ہر انسان میں ”نِکّاجیہا بال“ موجود رہے، اور اس کے اندر اٹکھیلیاں کرتا رہے، تا کہ اُس کی تمام ذہنی پریشانیوں اور جسمانی تھکن کو کم کیاجا سکے۔یقینا،کوئی بھی مذہب ہنسنے مسکرانے اور خوش رہنے سے منع نہیں کرتا۔

جوشخص ”نِکّے جیہے بال“کا ارادتاً گلا گھونٹ دیتا ہے،وہ میرے اُس دوست کی طرح ہنستی مسکراتی، قہقہے لگاتی محفل میں بھی اپنے وجود کے گلے لگ کر رو رہا ہوتا ہے، اور دوسروں کا ہنسنا ہنسانا اس کا جگر چھلنی کرتا ہے۔ آئیے! ہم اپنے اندر”نِکّے جیہے بال“کو تھپکی دے کر تازہ دم کرتے رہیں اور اس کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر مختلف سمتوں سے وارد ہونے والی پریشانیوں، مصیبتوں اور تکلیفوں کو حتی المقدورشکست دیتے رہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment