Home » نو منتخب امریکی صدر کی فیملی بھی حادثات کا شکار رہی

نو منتخب امریکی صدر کی فیملی بھی حادثات کا شکار رہی

by ONENEWS

بشکریہ سی بی ایس نیوز

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر نو منتخب صدر جوزف روبنٹیئن بائیڈن جونیئر کی زندگی کئی بڑے حادثات کا شکار رہی ہے۔

جو بائیڈن کی زندگی کا آغاز ہی ایک مشکل حالات میں ہوا۔ وہ ابتدا میں ہکلانے کی وجہ سے ہم عمروں کی تضحیک کا شکار رہتے، وہ ہکلاہٹ کے باعث اپنا درست نام نہیں بتا سکتے تھے۔

جو بائیڈن کی پہلی شادی ان کی یونی ورسٹی کی دوست نیلیا سے سال 1966 میں ہوئی۔ اپنی کتاب پرومسز ٹو کیپ میں بائیڈن نے اپنے پرانے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جب نیلیا کے والدین رشتے کے سلسلے میں ان سے ملے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک سیاست دان ہوں۔ نیلیا کی فیملی کا تعلق ریپبلکن، جب کہ میں ڈیموکریٹ ٹھہرا۔ صرف یہ ہی نہیں وہ لوگ پریس بائیٹیریئن اور میں کیتھولک۔ تاہم اتنے سارے واضح فرق کے باوجود دونوں جانب سے خوشی خوشی شادی کا اہتمام کیا گیا۔

سال 1972 میں ہونے والے سینیٹ الیکشن کے سیاسی مہم میں نیلیا نے جو بائیڈن کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ بائیڈن کے پہلی اہلیہ سے 3 بچے تھے۔ جس بیٹا جوزف بیو سال 1969 میں، دوسرا بیٹا ہنٹر سال 1970 میں جب کہ سب سے چھوٹی بیٹی نومی سال 1971 میں پیدا ہوئی۔

سینیٹ الیکشن مہم کے کچھ عرصے بعد سال 1972 میں کرسمس سے صرف ایک ہفتہ قبل بائیڈن کی اہلیہ اپنے بچوں کے ہمراہ کرسمس کی تیاری کیلئے گاڑی میں جا رہی تھیں کہ ان کی گاڑی ٹرک سے ٹکر کے بعد حادثے کا شکار ہوئیں، جس میں وہ اور ان کی کم سن بچی نومی ہلاک، جب کہ دونوں بیٹوں کو ہلکی چوٹیں آئیں۔

بائیڈن نے دوسری شادی اپنے بیٹوں کی اجازت سے 5 سال بعد ایک یونی ورسٹی ٹیچر سے کی۔ جل سے شادی کے بعد بھی بائیڈن نے بچوں کو کوئی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ بیٹوں کے بڑے ہونے کے بعد بھی بائیڈن باقاعدگی سے 2 گھنٹے ٹرین کا سفر کرکےڈیلویئر سے واشنگٹن اور واشنگٹن سے ڈیلویئر جایا کرتے تھے۔ جو بائیڈن کے بڑے بیٹے بیو نے فوج میں بھی شمولیت اختیار کی اور عراق جنگ کا حصہ بھی بنے۔ تاہم بعد ازاں فوج سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کی طرح قائدانہ صلاحتیوں کا مظاہرہ کیا اور ڈیلویئر کے اٹارنی جنرل بنے۔

بائیڈن کے بڑے بیٹے 2015 میں کینسر کے باعث انتقال کرگئے۔ اس وقت ان کی عمر 46 سال تھی۔ بیو کینسر کی تشخص کے دو سال کے اندر ہی انتقال کرگئے تھے۔ بیو کے علاج کیلئے بائیڈن نے اپنا مکان فروخت کرنا چاہا تو اس وقت کے امریکی صدر اوباما نے انہیں اپنے اکاونٹ سے علاج کی رقم فراہم کرکے ان کا مکان فروخت ہونے سے بچا لیا تھا لیکن ان کا بیٹا نہ بچ سکا۔

بائیڈن کے دوسرے بیٹے ہنٹر کو الکوحل ٹیسٹ مثبت آنے پر سال 2014 میں نیوی ریسرو فورس سے نکال دیا گیا تھا۔ ان پر کوکین کے استعمال کا بھی الزام تھا۔ آخری اطلاعات تک وہ لاس اینجلس میں رہائش پذیر تھے۔

گزشتہ سال 2020 میں  چلنے والی امریکی صدارتی مہم میں سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد بار بائیڈن کی فیملی پر ذاتی حملے کیے گئے اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 8 سال تک براک اوباما کے نائب صدر رہنے سے پہلے وہ تاریخ کے کم عمر ترین رکن سینیٹ بھی منتخب ہوئے اور امریکی سیاست میں 3 دہائیوں تک ایوان بالا میں وقت گزارا۔

دی انڈیئن ایکسپریس

سال 1998 میں جب ان کی دماغی شریان پھول گئی تو فائرفائٹرز انہیں اسپتال لے کر گئے تھے۔ بائیڈن کی حالت اس قدر تشویشناک تھی کہ ایک مذہبی پیشوا کو آخری رسومات کیلئے بھی طلب کرلیا گیا تھا۔ بائیڈن تقریباً ہر اتوار اپنے پڑوس میں ولمنگٹن کے مقام پر برینڈی وائن نامی چرچ میں سینٹ جوزف میں عبادت بھی کرتے ہیں۔ یہاں واقع قبرستان میں ان کے والدین، پہلی بیوی، بیٹی اور امریکی جھنڈے سے سجی ایک سل کے نیچے بیو بھی دفن ہیں۔

بشکریہ اے بی سی نیوز

اپنے گھر والوں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ بائیڈن الیکشن جیتنے والے دن علی الصبح اہلیہ جل کے ہمراہ ڈیلویئر میں ولمنگٹن کے علاقے بیرنڈیوائن میں سینٹ جوزف چرچ کے قبرستان میں گئے، جہاں انہوں نے اپنے بیٹے بیو کی قبر پر وقت گزارا، جس کے بعد وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کی قبروں پر بھی گئے۔ اس موقع پر ان کی دونوں پوتیاں فینگن اور نیتالی بھی ان کے ساتھ تھیں۔

You may also like

Leave a Comment