Home » نواز لیگ سے استعفیٰ اور دُشنام طرازی

نواز لیگ سے استعفیٰ اور دُشنام طرازی

by ONENEWS

پاکستان مسلم لیگ نواز بلوچستان کے صدر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بالآخر 7 نومبر 2020ء کو اپنی جماعت سے راہیں جدا کر لیں۔ باضابطہ اعلان اِس دن کوئٹہ کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر ورکرز کنونشن کے نام سے ایک اجتماع میں کیا گیا۔ بقول ان کے کہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع سے کارکن اور مختلف سطح کے رہنماء اس میں شریک ہوئے تھے، جہاں 20 اضلاع کے صدور اور دوسرے عہدیداروں نے بھی مسلم لیگ نواز کو خیر باد کہا۔

مریم نواز کی کوئٹہ آمد اور ایوب اسٹیڈیم میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسہ عام میں نواب ثناء اللہ زہری کو مدعو نہ کرنے پر عبدالقادر بلوچ کا اظہار اختلاف و خفگی ہی دونوں صوبائی رہنماﺅں کی اپنی جماعت سے علیحدگی کی وجہ ٹھری ہے۔ اول جنرل (ر ) عبدالقادر بلوچ اس موضوع پر بولے، بعد ازاں نواب ثناء اللہ زہری نے بھی اپنی ناراضی کا اظہار کردیا۔ گویا جلسہ میں نہ بلانے کے حیلے کے بعد انہوں نے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دوسرے حکام کیخلاف پی ڈی ایم، بالخصوص میاں محمد نواز شریف کے اظہارات کا تڑکا بھی لگایا۔

لیگ کے مرکزی رہنماء تسلیم کرتے ہیں کہ عبدالقادر بلوچ سے کوئٹہ میں اس بابت طویل گفتگو ہوئی، جن کا اصرار ثناء اللہ زہری کو مدعو کرنے پر تھا کہ وہ ان کے قبیلے کے سربراہ ہیں۔ شاہد خاقان عباسی، طلال چوہدری اور دوسرے پارٹی رہنماﺅں نے عبدالقادر بلوچ کو صورتحال سمجھنے کی درخواست کی تھی کہ وہ ایک بڑے مقصد کی خاطر لڑ رہے ہیں، اس لئے نہیں چاہتے کہ سردار اختر مینگل جلسہ میں شریک نہ ہو پائیں۔

طلال چوہدری نے عبدالقادر بلوچ کے نقطہ نظر کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ انہوں نے پارٹی چھوڑتے ہوئے سچ نہیں بولا۔ بقول طلال چوہدری کے کہ پارٹی کی ”سی ڈبلیو سی“ (سینٹرل ورکنگ کمیٹی) میں نواز شریف نے اس سے بھی سخت باتیں کی تھیں اور سب نے ہاتھ اُٹھا کر اُن کی تائید کی تھی، جس میں جنرل عبدالقادر بلوچ بھی شامل تھے۔ واقعاً اگر جنرل عبدالقادر بلوچ کو اعتراض ہوتا تو میاں نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز شریف کا یہ بیانیہ آج کا نہیں ہے۔ نیز مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور میر حاصل بزنجو مرحوم بھی سمیت دوسرے رہنماء ان خیالات کی تکرار پی ڈی ایم کی تشکیل سے پہلے سے کرتے رہے ہیں۔ سلیکٹیڈ اور سلیکٹر کی تو اصطلاح ہی بلاول بھٹو زرداری کی وضع کردہ ہے۔

پیش نظر یہ امر بھی رہے کہ نواب ثناء اللہ زہری تو 2018ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی گوشہ نشین ہوگئے تھے، وہ پارٹی کے اندر کوئی فعال کردار ادا کرنے سے معذور رہے ہیں۔ پہلو یہ بھی قابل غور ہے کہ نواب زہری کے چھوٹے بھائی میر نعمت اللہ زہری نواز لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں صوبائی نشست پر آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تو انہوں نے سینیٹ کی نشست چھوڑ دی اور معاً تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ نواب زہری کے برادر نسبتی آغا شاہ زیب دُرانی بھی ن لیگ کے سینیٹر ہیں مگر وہ کسی موقع پر بھی پارٹی کے کام نہیں آسکے، خواہ وہ سینیٹ الیکشن ہوں یا چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، جو تحریک انصاف، بلوچستان عوامی پارٹی یا مقتدرہ نے کہا ہے وہی کیا ہے۔

ان سینیٹر صاحب کے ایک بھائی آغا شکیل دُرانی بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہوئے، یعنی یہ نشیب و فراز نواب ثناء اللہ زہری کی منشاء کے بغیر ممکن نہ تھے۔ گویا یہ اُن کی ن لیگ سے راہیں جدا کرنے کی مثالیں ہیں جبکہ اس لمحہ محض جلسہ میں مدعو نہ کرنے یا فوج کیخلاف بولنے کی حُجت اپنا لی گئی ہے۔

مسلم لیگ ن نے نواب زہری کو صوبے میں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی جبکہ نواب زہری کو اپنی قیادت کی بجائے دوسرے حلقوں کی رضا مندی زیادہ عزیز تھی۔ بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سال حکومتوں کا فارمولا بھی ن لیگ کی سیاسی مجبوری تھی اور کیا یہ عنایت معمولی ہے کہ نواب زہری اگلے ڈھائی سال کیلئے وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھائے گئے؟۔ نواب تو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا سامنا بھی نہ کر سکے۔ پارٹی اعلیٰ قیادت اور اتحادیوں کے کہنے کے باوجود اسمبلی اجلاس سے محض چند لمحے قبل منصب سے مستعفی ہوگئے اور بڑی خاموشی سے گھر چلے گئے۔

دنیا جانتی ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کی پُشت پر کون تھے مگر جنرل عبدالقادر یا نواب ثناء اللہ زہری اسٹیبلشمنٹ تو کیا عبدالقدوس بزنجو اور دوسرے باغی لیگی اراکین اسمبلی کیخلاف بھی نہ بول سکے، کہ جنہوں نے ان کی حکومت کیخلاف کھلم کھلا سازش کی۔ اتحادی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو (مرحوم) البتہ سازش میں شریک جلی و خفی کرداروں کا نام لے کر بولے ہیں۔

حیرت اس بات پر بھی ہے کہ عدم اعتماد کی سازش میں پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری اہم مہرہ تھے اور حال یہ کہ نواب زہری اور عبدالقادر بلوچ کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اُدھر یہ حضرات علیحدہ ہوئے اور اگلے ہی لمحے پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک، آصف علی زرداری کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کی دعوت کا پیغام دینے عبدالقادر بلوچ کے پاس پہنچ گئے۔ نواب ثناء اللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ اصول کی سیاست کرتے ہیں تو انہیں پہلے آصف علی زرداری سے عدم اعتماد کی تحریک کی سازش کا حساب لے لینا چاہئے تھا۔

غرض لیگی قیادت کو پی ڈی ایم جلسہ میں ثناء اللہ زہری کی شرکت کے معاملے کو باہمی طور کسی منطقی نتیجے تک لے جانا چاہئے تھا تاکہ نزع کی صورت نہ بنتی۔ بہر حال اب نون لیگ کو چاہیے کہ نواب زہری کو بلوچستان اسمبلی کا رکن رہنے دے، انہیں ڈی سیٹ کرنا درست نہیں ہوگا، ویسے بھی یہ حلقہ نواب زہری کا اپنا ہے، ایسے وقت میں کہ جب پیپلز پارٹی، ن لیگ کے ساتھ پی ڈی ایم میں تحریک چلارہی ہے، دوبارہ بھی نواب ثناء اللہ زہری نے ہی کامیاب ہونا ہے۔

حالانکہ عبدالقادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کو شمولیت کی دعوت دینا معیوب عمل ہے، اس کے باوجود مذکورہ اجتماع میں نواب زہری کی جانب سے دُشنام طرازی اور ناشائستہ گفتگو ہوئی۔ سردار اختر مینگل اور میاں محمد نواز شریف پر کی گئی حرف گیری پر صوبے کے سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا، اگرچہ کبھی سردار اختر مینگل کی جانب سے کچھ بھی نہیں بولا گیا تاہم پھر بھی ان کے الفاظ کو غیر مناسب و نا شائستہ سمجھا گیا ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے ضرور ہونی چاہئے مگر ایسی گفتگو نہ ہو کہ جس سے راستے ہمیشہ کیلئے بند ہو جائیں۔

آخری بات یہ کہ عبدالقادر بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری کا 20 اضلاع کے رہنماﺅں کا پارٹی سے انخلاء کا دعویٰ ہے مگر سچ میں ہم جیسے لوگ بھی نہیں جانتے کہ صوبے میں قادر بلوچ اور نواب زہری کے ساتھ اور کونسی مؤثر و نمایاں شخصیات ہیں جو نواز لیگ چھوڑ چکی ہیں؟۔

.

You may also like

Leave a Comment