Home »  نمبر ون کا فیصلہ ہوہی جائے

 نمبر ون کا فیصلہ ہوہی جائے

by ONENEWS

نمبر ون کا فیصلہ ہوہی جائے

مجھے اپنی مسلح افواج کے نمبر ون ہونے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اپنے مسلمان یا پاکستانی ہونے کا۔ تو پھر بحث کس بات پرہے؟  اگر کہا جائے کہ ہمارا فلاں جوان دشمن قبیلے کے مقابلے میں انتہائی بہادر ہے، تو کیا یہ اعزاز باعث فخر ہے یا یوں باعث فخر ہو گا کہ ہمارا تمام قبیلہ اتنا بے مثال ہے کہ ہم میں سے جسے بہادر ہونا چاہیے، وہ دیگر قبیلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بہادر ہے اور جسے عفت مآب ہونا چاہیے، وہ ہر کسی سے زیادہ عفت مآب ہے؟ میرا خیال ہے کہ جواب واضح ہے۔ لیکن قبیلے کی چند مزید باتیں تاکہ آج اس نمبر ون کا فیصلہ ہو ہی جائے۔

جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اس شام کو ہمیں ذرا فرصت تھی۔ موقع پا کر تبلیغی جماعت والے ڈاکٹر محمود غازی اور مجھے اپنے مرکز میں لے گئے۔ مرکز کیا تھا، کسی فوج کا ہلکا سا وار روم سمجھ لیجئے۔اپنی تبلیغی جماعت کے برعکس وہاں جدید سازو سامانِ سے آراستہ عمارت میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ لوگ سائنسی انداز میں کام کر رہے ہیں۔ افریقہ میں جماعتوں کی تشکیل، مدت سفر، ارکان کی تعداد، کل جماعتیں اور دیگر امور پر ہمیں بھرپور معلومات جدید کمپیوٹر پر دی گئیں۔ ہر جماعت کی معمولی معمولی نقل و حرکت کا بتایا گیا۔پھر ایک ایسے ملک کا ذکر آیا جو انتہائی پسماندہ اور دشوارگزار تھا۔ جہاں امن و امان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ جہاں کسی بھی ملک کے لوگ جانے کو تیار نہ ہوتے۔ وہ صاحب رکے،  مسکرا کر ہمیں دیکھا، پھر بتایا کہ اگر بوقت تشکیل جماعت پاکستانی بھی موجود ہوں تو وہ فورا جانے کو تیار ہو جاتے ہیں، ایک ایسے ملک میں جہاں زندگی کٹھن اور موت ارزاں ہو، وہاں کوئی شخص جنت کے بدلے میں بھی نہیں جاتا لیکن پاکستانی ان سب کے باوجود چلے جاتے ہیں۔

برائین امریکی ہے۔ وہ ایک فلاحی تنظیم کی طرف سے 2010 کے سیلاب میں امدادی سرگرمیوں کے لیے پاکستان آیا۔ چند ہفتے پنجاب اور سندھ کے دیہات اور شہروں میں رہا۔وہ لاطینی امریکا، افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درجنوں ممالک میں بھی آتا جاتا رہا۔ یہاں سے واپس جا کر اس نے جو مضمون اور پل پاکستان کے متعلق باندھے، ان میں سے چند جملے، جو مجھے کبھی نہیں بھولیں گے، آپ بھی سن لیں۔ “ہم امریکی پاکستان کو ایسا ملک سمجھتے ہیں جو نیویارک ٹائمز ہمارے دماغ میں ہر صبح انڈیلتا ہے۔ حالانکہ۔۔۔۔” اس حالانکہ کے بعد برائین دس سوال کرتا ہے کہ یہ اچھائیاں اگر کسی ملک میں ہوں تو مجھے بتاؤ۔ مراد یہ کہ یہ عالمگیر انسانی خوبیاں کسی اور ملک میں نہیں ہیں۔ پھر برائین خود بتاتا ہے کہ دنیا کے درجنوں ملک دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ساری خوبیاں پاکستانی عوام میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں، اور یہ لوگ دنیا سے الگ تھلک اور انتہائی اعلیٰ انسانی خوبیوں کے مالک ہیں۔ آخر میں برائین لکھتا ہے۔ “میں پیدائشی امریکی ہوں لیکن اس سفر کے بعد پاکستان میرے رگ و ریشے میں سرایت کر چکا ہے۔ لہذا اب میں  پاکستان کو بھی اپنا گھر سمجھتا ہوں۔” افسوس, صد افسوس! برائین کی یہ سائٹ، معلوم نہیں، کیوں نیٹ سے ہٹ چکی ہے لیکن مجھے اس کا ایک ایک لفظ زبانی یاد ہے۔ میں نے کوئی ڈیڑھ ہزار لوگوں کو یہ سائٹ بھیجی تھی۔افسوس اب برائین کا میرے پاس کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ قارئین میں سے کوئی خبر دے سکے تو میں ممنون ہوں گا۔ یوں بھی ان کے مضمون پر سینکڑوں پاکستانیوں نے اپنی گرم جوشی کا اظہار کیا تھا، اور وہ یہاں سیکڑوں ہزاروں لوگوں سے مل کر بھی گئے ہوں گے۔

بوسنیا کے ڈاکٹر یزدک انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اپنی  مدت پوری کر کے واپس جانے لگے تواحباب نے ان کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتمام کیا۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا: “میں کئی یورپی اور عرب ممالک میں رہ چکا ہوں، خود یورپی ہوں لیکن جتنے ذہین، معاملہ فہم اور جرأت مند لوگ میں نے پاکستان کے دیکھے، اتنے کسی اور ملک کے لوگ نہیں ہیں۔ بس آپ لوگ اپنا سیاسی نظام ٹھیک کرلیں تو تعمیر و ترقی کے دروازے آپ کے لیے کھلتے چلے جائیں گے۔ تمام مسائل کی جڑ سیاسی افراتفری اور بے چینی ہے۔ اگر آپ یہ فتنہ ختم کر لیں تو سب کچھ درست ہو جائے گا”۔

2005 کے زلزلے کے بعد دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں پاکستان آئیں۔ بہت سوں کے تاثرات پڑھنے کو ملے۔ لیکن میں نے سب سے زیادہ حیرت زدہ امریکی فضائیہ کے افسروں کو پایا: “جن پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں ہماری امریکی فضائیہ دن کے وقت بھی ہیلی کاپٹر پروازوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، ان سے زیادہ سنگلاخ اور بلند و بالا پہاڑی دروں میں پاکستان ایئر فورس اور آرمی ایوی ایشن کے پائلٹ اندھیری رات کو یوں پرواز کرتے ہیں کہ گویا انہیں جان کی پرواہ ہی نہیں ہے”. اور قارئیں کرام 1988 میں اوجھڑی کیمپ کے حادثے کے بعد امریکی جرنیلوں کے بیان تو آپ کو یاد ہوں گے.” ایسا حادثہ امریکہ میں ہوتا تو سب سے پہلے ہم دونوں جڑواں شہر خالی کراتے اور حفاظتی آلات کے بغیر ایک قدم آگے نہ بڑھاتے۔”  خودمجھے تو یہ بھی آنکھوں دیکھا یاد ہے کہ حادثے کی شام بے نظیر اسپتال کے باہر خون عطیہ کرنے والوں کی میل بھر لمبی دو قطاریں رحمان آباد تک لگی تھیں، ٹیلی ویڑن بار بار کر اپیل کر رہا تھا کہ بلڈ بینکوں میں گنجائش سے بڑھ کر خون جمع ہو چکا ہے، مزید لوگ زحمت نہ کریں۔

میں اس مختصر تحریر میں یہ چند شواہد ہی دے سکتا ہوں۔ یہ تمام شواہد پاکستان کے بارے میں غیر ملکیوں کے ہیں۔ میرے آپ کے اس اطمینان کے لئے یہ چند شواہد ہی کافی ہیں کہ بحثیت قوم ہمارا موازنہ دنیا کے کسی ملک سے کوئی شخص نہ کرے۔ ہم انتہائی اعلی انسانی خوبیوں سے مزین ایک بہترین قوم ہیں۔ اور قوم میں کسان, تاجر, اساتذہ, سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج سب شامل ہیں۔ یہ سارے اپنے اپنے دائرے میں نمبر ون ہیں جن پر ہم سب کو فخر ہے۔تو پھر مسئلہ کیا ہے؟  مسئلہ وہی “اپنے اپنے دائرے” والا ہے۔

کیاڈاکٹر طاہرالقادری کا 2013 کا دھرنا یاد ہے؟ یخ برفیلی ہواؤں میں مائیں نوزائیدہ بچوں کو لیے وہاں راتیں گزار رہی تھیں۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بوڑھے بھی اسلامی نظام کی خاطر جان لیوا سردی میں مرنے آگئے تھے۔ کیا ان کے اخلاص میں کسی کو شبہ ہے؟ مجھے تو نہیں ہے۔ میں آج بھی ان کے لیے دعا گو ہوں۔ لیکن کیا ہم ان کے جرنیل ڈاکٹر طاہر القادری کے لئے بھی ویسے ہی جذبات رکھتے ہیں؟ آپ چپ کیوں ہو گئے ہیں؟ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ کینیڈا میں ایف بی آئی انہیں ہمیشہ اپنے نادیدہ حفاظتی حصار میں لیے رکھتی ہے۔ تو اس شخص کے متعلق ہمارے وہی جذبات کیسے ہو سکتے ہیں؟ قارئین کرام! ہمارا ہر ادارہ نمبر ون ہے۔ پوری قوم نمبر ون ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔لیکن، برفانی ہواؤں اور چلچلاتی دھوپ میں کھڑے معصوم، نظم و ضبط کے مارے سسکتے معتقدین اور  ایف بی آئی کے حصار میں مقید افراد کے بارے میں دو مختلف سوچیں رکھنے کا حق تو ہمیں ہمارا آئین دیتا ہے۔ چنانچہ، اب یہ مسئلہ باقی نہیں رہنا چاہیے کہ ”فلاں“ کو نمبر ون نہیں مانا جاتا تو کیوں، اگرچہ ساری قوم نمبر ون ہے۔ اپنے دائرے کی طرف اباؤٹ ٹرن!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment