0

نعمان اعجازکا عفت عمر کیساتھ پرانا انٹرویو کیوں وائرل ہوا؟

پاکستان میں ٹوئٹر پر گذشتہ رات سے ٹیلی ویژن اور فلم کے معروف اداکار نعمان اعجاز کے ایک پرانے انٹرویو کا کلپ وائرل ہوا ہے۔

کلپ میں نعمان کو میزبان عفت عمر کے ساتھ محو گفتگو دیکھا جا سکتا ہے، اگرچہ پورا پروگرام تقریباً ایک گھنٹے کا تھا تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ڈیڑھ منٹ کے کلپ میں دونوں اداکار شادی شدہ زندگی کے بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ کلپ عفت عمر کے شو ’سے اِٹ آل وِد عفت‘ کی پہلی قسط سے لیا گیا ہے، اس شو میں عفت عمر کے ساتھ گفتگو میں نعمان اعجاز نے شوبز سے وابستہ کئی موضوعات، تنازعات اور شخصیات کے علاوہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال، خواتین کے حقوق حتیٰ کے ’می ٹو‘ مہم کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔

عفت عمر کے پروگرام کا یہ کلپ وائرل ہونے اور ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ پر آنے کے بعد کئی صارفین ان پر بھی تنقید کرتے نظر آئے۔

کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک عورت ہونے کے ناطے عفت نے نعمان کو اپنے شو میں ایسی باتیں کیسے کرنے دیں اور انھیں ٹوکا کیوں نہیں؟ بلکہ الٹا انھیں بڑھاوا دیتی نظر آئیں کہ جیسے وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہوں، پھر کلپ کے آخر حصے میں عفت نے یہ کیوں کہا کہ ارے واہ، مجھے آپ سے کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کئی صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ عفت آخر ان سے کیا سیکھنا چاہ رہی ہیں؟

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عفت عمر کا کہنا تھا کہ یہ جملہ انھوں نے طنزیہ انداز میں ادا کیا۔

میں اداکاری کی بات کر رہی تھی، میرا مطلب یہ تھا کہ تم اتنی بہترین اداکاری کیسے کر لیتے ہو بیوی کے سامنے، کچھ مجھے بھی سکھا دو۔

شو کے دوران محسن عباس، می ٹو اور دیگر متنازعہ موضوعات کے متعلق نعمان کی رائے کو بڑھاوا دینے اور انھیں نہ ٹوکنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں عفت کہتی ہیں کہ کسی کا انٹرویو کرتے وقت آپ ایک حد تک انھیں ٹوک سکتے ہیں یا اپنی رائے دے سکتے ہیں، آپ ان کی بات سے اتفاق یا اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکتے۔

عفت کا کہنا تھا کہ یہ ان کے شو کا پہلا پروگرام تھا اور اس وقت انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنے مہمان کو کس حد تک ناراض کر سکتی ہیں۔

عفت نے بتایا کہ اس پروگرام کے بعد میں آنے والی اقساط میں وہ ’می ٹو‘ سمیت تمام موضوعات پر کھل کر بولتی رہی ہیں لیکن نعمان والے پروگرام میں نہ بول پانے پر انھیں آج بھی پچھتاوا ہے۔

اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آنے والی تنقید کے بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتے۔

لوگوں کو گالیاں نکالنے دیں اور اپنے ذہنوں کو گندا کرنے اور کڑھنے دیں۔ یہ پاکستانیوں کی عادت ہے، ان کو اپنی زندگیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانک رہا، بس دوسرے پر انگلی اٹھانے کی عادت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں۔ میری ذات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں جانتا ہوں اور میرا رب جانتا ہے، مجھے کسی انسان کو وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ کلپ دراصل گذشتہ برس اگست 2019 کا ہے اور یہ شو نجم سیٹھی کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا جاتا ہے جس میں آنے والے تقریباً سبھی مہمان شوبز سے تعلق رکھتے ہیں۔

لیکن اس وقت تو شاید کسی نے اس انٹرویو پر اتنا دھیان نہیں دیا مگر رواں برس 31 اگست کو فیس بک پر ’سلیب سٹی‘ نامی پیج کے ایڈمن نے انٹرویو میں سے مذکورہ کلپ نکال کر ’میں نے ایک اور لڑکی کو ڈیٹ کیا لیکن اداکاری میں مہارت کے باعث میری بیوی کو کبھی معلوم نہیں ہوا‘ ہیڈ لائن سے شئیر کر دیا۔

بس پھر کیا تھا وہیں سے یہ کلپ ٹوئٹر پر پہنچا اور اس کے بعد لوگوں نے جا کر پورا انٹرویو دیکھا اور انھیں مختلف موضوعات پر نعمان اعجاز کے خیالات کا علم ہوا (جس میں عورتوں پر تشدد اور ’می ٹو‘ بھی شامل ہے)۔

سلیب سٹی نامی پیج چار، پانچ ماہ قبل سعودی عرب میں رہنے والے ایک پاکستانی محمد عدنان نے بنایا تھا اور وہی اسے چلاتے ہیں۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں