Home » نظام کی تبدیلی کا رولا؟

نظام کی تبدیلی کا رولا؟

by ONENEWS

نظام کی تبدیلی کا رولا؟

پرانے دور میں محلے داری، تعلق داری ہوتی اور ایک دوسرے کا لحاظ بھی کیا جاتا تھا، ہم اپنے وقت میں محلے میں اٹھتے بیٹھتے تو بازار میں معراج دین بٹ کی گھی والی دکان بھی ہم سب کا ڈیرہ تھی۔ یہاں دیسی گھی بکتا تھا، یہ پچاس والی دہائی کی بات ہے، تب سرگودھا اور ساہیوال تک سے بیوپاری گھی لاتے اور دکان پر بھاؤ تاؤ ہوتا اور اس روز کے نرخ کے مطابق گھی خرید لیا جاتا۔ معراج دین کو بہت تجربہ تھا اور وہ انگلی اور زبان سے کام لے کر ذائقہ سے گھی کی اصلیت اور معیار پرکھ لیتے تھے۔ زمانہ آگے بڑھتا رہا اور پھر 1958ء بھی آ گیا۔ جب فیلڈ مارشل (کسی جنگ یا فتح کے بغیر از خود بن گئے تھے) محمد ایوب خان نے مارشل لاء لگایا، ان دنوں بازار میں دیسی گھی کے پرچون نرخ چار روپے سیر تھے اور گھی وافر مقدار میں دستیاب تھا، سیر والے گاہک کو اس کی پسند کے مطابق گھی دیا جاتا کہ ساہیوال کے علاقوں سے آنے والے گھی کا رنگ ذرا ہلکا سبزی مائل اور سرگودھا کی طرف سے آنے والے گھی کا رنگ سفید ہوتا تھا، لوگوں کی پسند اپنی تھی۔

یوں یہ کاروبار حیات چل رہا تھا، اسی دوران مارشل لاء آیا تو اس کے ضابطے بھی شروع ہوئے۔ دکانوں پر جالیوں کا ہدائت نامہ جاری ہوا تو اشیاء کے نرخ بھی مقرر کئے گئے۔ چنانچہ دیسی گھی کے نرخ سوا چار روپے فی سیر مقرر کر دیئے گئے۔یہاں انسانی نفسیات کا معاملہ ہوا، عام لوگوں نے جانا گھی کی قلت نہ ہو جائے چنانچہ گاہکوں کی تعداد بڑھ گئی۔ دوسری طرف مارشل لاء کا خوف، دکان داروں نے بھی کسی نوعیت کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کیا۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے معراج دین بٹ سمیت دوسرے دکان داروں کی دکانوں کے باہر بھی قطاریں لگ گئیں۔ معراج دین نے ایک سے دو سیر فی کس گھی ہر ایک کو دینا شروع کیا اور ایک ہی روز میں دکان میں موجود سارا گھی فروخت کرکے بیٹھ گئے۔ نرخ مقرر کرنے اور خوف سے فروخت کا نتیجہ گھریلو ذخیرہ اندوزی نکلا اور پھر وقت آیا کہ گھی کی قلت ہو گئی اور بیوپاری بھی ڈر ڈر کے گھی لانے لگے یوں قدرتی طور پر گھی کے نرخ بڑھ گئے۔ ایسا ہی دوسری اشیاء کے ساتھ ہوا اور دیر بعد حالات معمول پر آئے۔ یہ عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے اپنے انداز ہیں اور ان کو جانے بغیر قدم اٹھایا جائے گا تو 55روپے فی کلو والی چینی سو روپے فی کلو ہی فروخت ہو گی۔

اسی دور میں سیاست دانوں کی شامت آ گئی، ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام عائد کئے گئے اور پھر پہلی مرتبہ ایبڈو کے نام سے ایک مارشل لاء آرڈی ننس لا کر سیاسی رہنماؤں کو نااہل قرار دیا جانے لگا اس دور میں اکثر رہنماؤں نے خاموشی سے یہ نااہلیت قبول کرلی، لیکن اس دور کے سابق وزیراعظم جو ملک کے پانچویں وزیراعظم تھے اور ان کا یہ عہدہ ایک سال تین ماہ تک محدود رہا تھا یہ تحریک پاکستان کے رکن اور پاکستان جمہوری پارٹی کے سربراہ تھے۔ یہ واحد رہنما تھے جنہوں نے ایبڈو کے تحت حکم کے خلاف اپنا کیس ڈٹ کر لڑا۔ نااہل تو ان کو قرار دے دیاگیا لیکن ان کا کردار بڑا صاف ستھرا تھا، یہ وہی حسین شہید سہروردی ہیں، جب وزیراعظم بنے تو ہمارے والد صاحب نے پکے مسلم لیگی ہونے کے باوجود ان کی بہت تعریف کی اور کہا کہ سہروردی صاحب اتنے ذہین ہیں کہ پاکستان کی عزت دوبالا کریں گے۔

پھر واقعی ان کی اہلیت بھی ثابت ہوئی اور وہ قیادت کا حق بھی ادا کرنے لگے، یوں جمہوریت کو بڑی تقویت ملی۔ سہروردی کی وزارت عظمیٰ کے حوالے ہی سے پنڈت جواہر لال نہرو نے پھبتی کسی کہ انہوں (نہرو) نے اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں، جتنے پاکستان میں وزیراعظم تبدیل ہو گئے ہیں، ہمارے وزیراعظم اس روز مصر کے قاہرہ ائرپورٹ پر اترے تو ان سے پنڈت نہرو کے اس فقرے پر رائے مانگی گئی تو ان کا جواب تھا کہ پنڈت ٹھیک کہتے ہیں، لیکن یہ آمریت اور جمہوریت کا فرق ہے۔ آمریت میں ناپسندیدہ فرد بھی چلتا رہتا ہے، لیکن یہ جمہوریت ہے کہ حمائت نہ رہے تو سربراہ تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس ذکر کا مقصد یہ ہے کہ اس مارشل لاء کا بھی جواز نہیں تھا کہ اسمبلی نے بالآخر 1956ء میں آئین منظور کر لیا تھا اور عام انتخابات ہونا تھے کہ مارشل لاء نے نظام ہی کی بساط لپیٹ دی یہ سلسلہ 1979ء تک جاری رہا، ایوب خان نے 1956ء کا آئین منسوخ کر دیا تھا اور چار سال تک یہ ملک بے آئین رہا اور مارشل لاء کے ضابطوں کے تحت چلایا گیا۔ 1962ء میں ہی مارشل لاء کے تحت ایوب خان نے اپنا آئین نافذ کیا اور اس کے تحت صدر بن گئے کہ یہ صدارتی اور بالواسطہ انتخابات کا تھا، اس کے تحت بنیادی جمہوریت کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور پھر 1965ء میں جمہوری قوتوں نے مادر ملت کی قیادت میں مقابلہ کیا جن کو دھاندلی سے ہرا دیا گیا، حبیب جالب نے بھی تبھی کہا تھا ”ایسے دستور کو صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا“ عرض کرنے کا مقصد ہے کہ ایوب خان بھی اختیار کل چاہتے تھے اور انہوں نے اس کے لئے بنیادی جمہوریت کا نظام وضع کیا، یہ ہر حکمران کی جبلی خواہش ہوتی ہے، حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اختیارات کل سنبھال لئے تھے۔ حالانکہ وہ خود 1973ء کے آئین کے خالق اور پارلیمانی جمہوری نظام واپس لانے والے تھے، لیکن اختیارات خود استعمال کرتے تھے،آگے بڑھیں تو محمد خان جونیجو کو استثنی دے دیں تو بے نظیر بھٹو اور محمد نوازشریف بھی کلی اختیارات استعمال کرتے تھے اور یہ 15ویں ترمیم سے بھی ظاہر ہے جو بوجوہ پیش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف اور اب محترم عمران خان بھی یہی طرزعمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔

وہ ہر روز کئی کئی اجلاسوں کی صدارت فرماتے اور احکام جاری کرتے ہیں، اس لئے تو انہوں نے مشیروں اور معاونین کی فوج ظفر موج رکھی ہوئی ہے اور وہ واحد فیصلہ کرنے والی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اسی لئے صدارتی نظام لانے کی کوشش کے حوالے سے تنقید بھی ہوتی ہے۔ دنیا میں صدارتی (آمرانہ) صدارتی (جمہوری) سوشل ڈیمو کریسی اور پارلیمانی جمہوریت کے نظام چل رہے اور اکثر کامیاب ہیں کہ طرز عمل جمہوری ہوتا اور قواعد و ضوابط اور آئین پر پورا عمل کیا جاتا ہے۔ یہ سب عمل کی بات ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں بھی تو کوئی برائی نہیں بلکہ اسے زیادہ بہتر جانا جاتا ہے کہ اس نظام میں پارلیمنٹ اہم ہوتی ہے اور یوں منتخب لوگ عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں، لیکن انسانی فطرت کا وہی مسئلہ ہے کہ وہ کلی اختیارات چاہتا ہے اور یہ جبلی خواہش ہے۔ اس لئے اگر صدارتی نظام کی بات کی جاتی ہے تو اس کے پیچھے بھی یہی فطرتی خواہش ہے، ویسے ملاحظہ فرمائیں تو آج بھی وحدانی قیادت ہی ہے کہ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ صرف ایک صوبائی حکومت ہی تو رکاوٹ ہے جو ہضم نہیں ہو پا رہی۔ ضرورت اسی نظام کو بہتر بنانے اور خامیاں دور کرنے کی ہے کہ یہ بہتر ہے جس میں وسیع مشاورت ہوتی ہے۔صدارتی نظام کی خواہش اپنی جگہ یہ بھی غور کر لیں اول تو اس راہ میں آئین حائل ہے اور دوسرے آپ اتنے بھی با اختیار اور مقبول ترین نہیں ہیں کہ آپ کی ہر خواہش پوری کر دی جائے، ملک کو سنبھالنے کے لئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت اور شدر اختیار کر گئی ہے

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment