Home »  نصیب ہوں تو ایسے

 نصیب ہوں تو ایسے

by ONENEWS

”میں ان کروڑوں خوش نصیبوں میں سے ہوں، جنھوں نے روضۂ مبارک کی جالیوں کے سامنے لرزتے بدن اور ٹوٹے پھوٹے بیان کے ساتھ اپنی معروضات پیش کیں۔خدا جانے مجھ پر کوئی ایسی ساعت طاری تھی یا میری بے کسی پر حضور پاکؐ  کو رحم آ گیا تھا کہ اس گناہ گار اعظم اور مطلبی آدمی کی حاضری بھی قبول ہوئی۔ وہ جو فرمان ہے کہ جو کوئی میرے پاس آتا ہے میں اسے دیکھتا ہوں تو خدا جانے مجھے حضور پاکؐ نے کس حال میں دیکھا کہ مجھے اپنی رحمت سے سرشار کیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور اب پھر عرض کرتا ہوں کہ سید سرفراز شاہ صاحب نے مجھے اپنے ہاں طلب کیا۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی اور وہ بھی بظاہر ایک سیکولر دوست احمد بشیر کے ذریعے ہو رہی تھی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے تمہیں ایک پیغام دینے کے لئے بلایا ہے کہ تم نے کچھ پہلے روضہ اقدس پر جالیوں کے سامنے کھڑے ہو کر اور یہ سمجھتے ہوئے کہ آقا تمہیں دیکھ رہے ہیں جو معروضات پیش کی تھیں وہ قبول کر لی گئی ہیں۔ میں یہ سن کر ششدر رہ گیا، ہکا بکا ہو گیا، اپنی خوش نصیبی پرخود ہی رشک کرنے لگا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کتنے امتی ہوں گے جن کو یہ اعزاز نصیب ہوا ہو گا۔محترم سرفراز شاہ صاحب کی اس روح پرور اور زندگی کی سب سے بڑی خوش خبری کے بعد میں اندر سے کیا ہو گیا، یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کے بعد جب بھی شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ ہمیشہ فرماتے کہ اب کوئی کسر باقی رہ گئی ہے، اپنی خوش نصیبی پر درود پڑھا کرو۔ اسی طرح میرے ایک صحافی ساتھی نے بھی مجھے ملاقات میں کہا کہ زیادہ سے زیادہ درود پڑھا کرو۔ نہ میں نے ان سے پوچھا نہ انہوں نے بتایا کہ صرف دوسری ہی ملاقات میں انہوں نے مجھے یہ نصیحت کیوں کی۔”

استاد محترم جناب عبدالقادر حسن کے کالم میں لکھے یہ سنہری الفاظ پڑھ کر زبان سے بے اختیار نکلا۔نصیب ہوں تو ایسے۔

کسے معلوم تھا کہ جناب عبدالقادر حسن کا یہ آخری کالم ہوگا۔لکھنے والے بھی خوب لکھتے ہیں کہ اللہ کے پسندیدہ بندوں کو دل ہی دل میں یہ پتہ لگ جاتا ہے ان کے جانے کا وقت قریب ہے جبھی تو آپ جناب کے قلم سے ایسا شاہکار تخلیق ہوا۔سچ پوچھئیے تو جناب عبدالقادر حسن کے اس جہان فانی سے کوچ کرنے کے بعد صحافت تو جیسے یتیم سی ہو گئی۔اس میں کوئی شک نہیں صحافت کے سر سے ایک شفیق باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ ہر آنکھ آپ کی جدائی میں اشکبار۔مومن کی بھی یہی کھلی اور واضح نشانی۔ہر ایک کی زبان سے آپ کے لئے کلمہ خیر ادا ہونا بھی اس بات کی دلیل آپ کا نام اللہ پاک کے  پسندیدہ بندوں کی فہرست میں ضرور شامل ہو گا۔ آپ علم کا سمندر اور صحافت کا انسائیکلوپیڈیا تھے۔آپ جیسا باکمال، لاجواب، ایمان داری کی عمدہ مثال گوھر نایاب ڈھونڈنے سے بھی شاید نہ ملے۔ آپ کا خلا پُر نہیں کیا جا سکتا۔الیکٹرانک میڈیا کے اس جدید دور میں لوگ اخبار کو صرف آپ جناب کا کالم پڑھنے کے لئے خریدتے۔

آپ کے پڑھنے والے کتنے ہوں گے اس بات کا اندازہ مجھے آج سے کم و بیش 15 سال پہلے ہوا جب آپ نے اپنے کالم میں لاہور میں مقیم ایک ماہر آئی سرجن ڈاکٹر عبدالحمید اعوان  کے پاکستان میں پہلی مرتبہ نزدیک کی عینک ختم کرنے کے جدید طریقہ علاج بارے لکھا۔کالم میں دیئے گئے ڈاکٹر صاحب کے موبائل نمبر پر پوری دنیا سے کالز آئیں۔ ایک منٹ کے لئے فون بند نہ ہوا۔یہ کالز اس ناچیز نے خود اٹینڈ کیں۔ جب خاکسار ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹر عبدالحمید اعوان جو جناب عبدالقادر حسن کے داماد ان کا اسسٹنٹ ڈاکٹر تھا۔ خاکسار نے بروز بدھ آپ جناب کی رحلت کا افسوس کرنے کے لئے جب ڈاکٹر عبدالحمید اعوان صاحب جو آج کل نیشنل ہسپتال ڈیفنس لاہور میں امراض چشم کے پروفیسر ہیں سے بات ہوئی۔ انہوں نے کہا۔آپ کو یاد ہے آج سے 15 سال پہلے آپ کا لکھا ایک کالم میں نے جناب عبدالقادر حسن کو پڑھنے کے لئے دیا کہ میرے شاگرد نے لکھا ہے انہوں نے کہا۔اچھا لکھا ہے۔میں نے کہا۔ بڑے دل کے آدمی تھے۔میرے جیسے صحافت کے ادنیٰ طالب علم کا حوصلہ بڑھانا میرے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔

پروفیسر حمید اعوان کے بقول ابا جی حضور وادی سون سکیسر کے بڑے زمین دار تھے۔جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا آپ کی جبلت میں شامل نہ تھا۔ آپ نے آج تک کسی سے اونچی آواز میں بات نہ کی۔چھوٹے،بڑے کا ادب کرنا آپ کے والدین کی بہترین تربیت کا نتیجہ تھا۔اپنے ماتحتوں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا ان کا خاصہ تھا۔میرے خیال میں ایسا کرنا اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے۔ آپ سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے آپ نے سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ پوشی فرماتے وقت امت کے نام  دئیے گئے اس پیغام کو یاد رکھا۔ ”نماز نہ چھوڑنا، اپنے زیردست یعنی ماتحت سے برا سلوک نہ کرنا۔”

پروفیسرعبدالحمیداعوان صاحب نے بتایا۔ آپ جناب نے ساری زندگی پاکستانیت کا علم اٹھائے رکھا۔ فرمائشی کالم لکھنا۔کسی سے ناجائز یا جائز  مراعات لینا آپ کی ڈکشنری میں شامل نہ تھا۔پروفیسر عبدالحمیداعوان صاحب نے ایک دلچسپ بات بتائی۔جب انہوں آج سے 17سال پہلے محکمہ صحت پنجاب کی نوکری کو خیر باد کہا تو ابا جان نے میرے لئے ایوان اقتدار کا دروازہ کھٹکھٹانے سے اجتناب کیا حالانکہ صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وزیر صحت سے دو بول کہنا کونسا مشکل کام تھا مگر انہوں نے اپنی عادت کا ساتھ دیا کہ کل کلاں کوئی مجھ پر انگلی نہ اٹھائے کہ عبدالقادر حسن نے اپنا قلم بھرے بازار میں فروخت کردیا۔

آج جناب عبدالقادر حسن ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اندرون و بیرون ملک ان کے چاہنے والوں کی لاتعداد فون کالز اور ہزاروں مسیجز کا آنا ان کو مس کرنا۔ان کی باتوں کا تذکرہ کرنا۔یہ ان کی اے سی آر مطلب ان کی خفیہ رپورٹ ہے۔خاکسار نے اپنی زندگی میں اتنی عزت،  پیار نہیں دیکھا۔ واہ کیا کہنے۔ راقم کا تو بار بار لکھنے کو من کررہا۔نصیب ہوں  تو ایسے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment