Home » نا اہلی کی سزا

نا اہلی کی سزا

by ONENEWS

ملک کوئی بھی ہو، حکمران اگر نا اہل ہوں توسزا عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں کی نا اہلی کی سزا 22 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔ نا اہل حکمرانوں کے دلوں میں اگر بغض، انتقام، کینہ اور ضِد بھی ہو،لب و لہجہ میں غیر شائستگی کا عنصر غالب ہو اور ان کے گرد کرپٹ ترین لوگوں کا گھیرا ہو تو عوام کو ملنے والی سزا اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ ماضی میں ان ہی خصوصیات کی وجہ سے پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے اور نصف سے زیادہ آبادی ہم سے جدا ہو گئی۔ اگر حکمرانوں کے رویوں میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں دوبارہ اس طرح کے سانحات رونما ہو سکتے ہیں۔ اگرکوئی بڑا سانحہ نہ بھی ہو تو بھی روزانہ کی بنیاد پر تکالیف اٹھاتے عوام کی زندگیاں بلبلاتے ہوئے گذرتی ہیں۔ عمران خان نے 24 سال پہلے جب سیاسی پارٹی بنائی تو اس کی بنیاد عوام کو انصاف دینے کے نعرہ پر رکھی اور بعد کے سال میں بھی ان کی سیاست کرپشن کے خلاف جدوجہد اور ایک نیا پاکستان بنانے کے دعوی کے گرد گھومتی رہی۔ دو سال پہلے 2018ء میں وہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے 18 اگست 2008ء کو استعفیٰ دیا تھا۔ حُسن ِ اتفاق ہے کہ ٹھیک دس سال بعد 18 اگست 2018ء کو عمران خان ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ ان دو سالوں میں عمران خان کی حکومت تقریباً تمام شعبوں میں ایک نا اہل حکومت ثابت ہوئی ہے اور اس نا اہلی کی سزا 22 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ نئے پاکستان کا خواب چکنا چور ہو کر موہنجوداڑو یا ہڑپہ کے کھنڈرات میں کہیں دفن ہو گیا ہے۔

ان کی جہازی سائز کی کابینہ میں 40 فیصد سے زائدغیر منتخب مشیران اور معاونین خصوصی ہیں جن میں کئی غیر ملکی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر کرپشن کے الزامات ہیں اور کچھ ”مفادات کے ٹکراؤ“ یعنی conflict of interest کی زندہ مثالیں ہیں۔ دوسری طرف منتخب ہو کر آنے والے وزیربھی نا اہلی کے ریکارڈ قائم کررہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا اسمبلی کے فلور پر تقریر میں پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کی اینٹ سے اینٹ بجانا ہے، جس کے بعد تقریباً دُنیا بھر میں ہمارے جہازوں کی اینٹری بین ہو گئی ہے اور بہت سے ممالک کی ائر لائنوں نے پاکستانی پائلٹوں کو نکال دیا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے ڈی جی سول ایوی ایشن نے تمام پائلٹوں کے لائسنسوں کو درست قرار دے دیا لیکن غلام سرور خان کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ آسانی سے ممکن نہیں ہے۔ حکومت کی نا اہلی کی ایک اور بڑی مثال وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام کااسمبلی فلور پر اس تعجب کا اظہار کرنا کہ گندم کی نئی فصل آئی اور ساٹھ لاکھ ٹن خریداری ہوئی، لیکن ”عجوبہ“ ہو گیا کہ کسی کو پتہ ہی نہیں کہ گندم کہاں گئی۔کوئی وزیر موصوف سے پوچھے کہ یہ سوال تو آپ سے ہونا چاہئے کہ گندم کہاں گئی اور آپ خود لوگوں سے پوچھتے پھر رہے ہیں۔ پشاور میں BRT نامی میٹرو پراجیکٹ شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا کہ نا اہلی اور کرپشن کا امتزاج ہے لیکن اسی لاڈلی کمپنی کو حکومت مزید پراجیکٹ ایوارڈ کئے جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں سکینڈلوں کی بھرمار بڑھتی جا رہی ہے، لیکن شرمندہ ہونے کی بجائے تمام خرابیوں کو پچھلی حکومتوں پر ڈالنے کی روش دو سال گذرنے کے بعد بھی جاری ہے۔ سال ڈیڑھ سال تو پچھلی حکومتوں کو خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن تیسرے سال میں بال کو پچھلی حکومت کی کورٹ میں پھینکنے سے کام نہیں چلتا، بلکہ کامیابی کے شاٹس خود کھیلنا پڑتے ہیں۔ اگر پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں تو پھر یہ نا اہلی کی انتہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کسی بھی پچھلی مبینہ کرپشن کے خلاف ایک کیس بھی نہیں بنا سکی ہے۔

دو سال میں ایک کیس بھی نہ بن سکے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یا تو پچھلی حکومتیں کرپٹ نہیں تھیں یا پھر موجودہ حکومت انتہائی درجہ کی نا اہل ہے۔ حکومت میں اگر اہلیت ہوتی تو کوئی ایک کیس تو بناتی،صرف میڈیا ٹرائل (وہ بھی زیادہ تر سوشل میڈیا پر)نہ کرتی۔ پی ٹی آئی حکومت کے پاس اگر منصوبے ہیں تو شروع کرے، انتظار کس بات کا ہے۔ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کو بلا شرکت غیرے حکومت کرتے ہوئے سات سال سے اوپر ہو گئے ہیں،کون سا منصوبہ ہے،جو پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پورا کیا ہے۔ اگر سات سال میں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں، اور دو سال میں وفاق اور پنجاب میں کچھ ڈلیور نہیں کیا ہے تو آخر وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے، جس کے ہلاتے ہی ان کی حکومت ڈلیور کرنا شروع کر دے گی۔

پرانی کہاوت ہے کہ مچھلی اپنے سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے۔ ہمارے کچھ دوست اکثر کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس ٹیم اچھی نہیں ہے۔ کسی حکومت کی نا اہلی میں سب سے بڑا کردار اس کے سربراہ کا ہوتا ہے۔ اگر خرابی ٹیم میں ہو تب بھی یہ وزیراعظم کی ناکامی ہے کہ وہ ایک ٹیم نہ بنا سکے جو ڈلیور کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ وزیر اعظم عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ حکومت کے بہت سے ”اقدامات“ کا انہیں ٹیلی ویژن کی خبروں سے پتہ چلتا ہے۔ حکومت کے ابتدائی مہینوں میں جب روپیہ کی قدر اچانک 40 فیصد کم ہوئی تو وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا انہیں ٹیلی ویژن سے پتہ چلا تھا۔ اس سال 26جون کو پٹرول کی قیمت میں اچانک 25 فیصد اضافہ کا اعلان وزارت خزانہ نے از خود ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کر دیا تھا اور اس کے لئے اوگرا کی ایڈوائس اور کابینہ کی منظوری کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ پٹرول لیوی (ٹیکس) کی مد میں ہنگامی طور پر اس لئے کیا گیا تھا کہ دو دن بعد منظور ہونے والے بجٹ میں ریونیو کلیکشن کو چار ہزار ارب دکھایا جا سکے کیونکہ اس سال ٹیکس پچھلے سال سے کم اکٹھا ہوا تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا تھا کہ ٹیکس کلیکشن پچھلے سال سے کم ہو۔ حکومت کی اس نا اہلی کی سزا عوام کو پٹرول میں 25 فیصد اضافہ برداشت کر کے بھگتنا پڑی۔ ظاہر ہے تیل کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی اور عوام چیخیں مارنے پر مجبور ہو گئے۔

حکومت نے عوام کی جیبوں سے اضافی 88ارب بھی نکال لئے اور بجٹ بدستور ”ٹیکس فری“ رہا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہاتھی کے دانتوں کی طرح ”دکھانے کا“ چند کروڑ کا جرمانہ کر کے ”کھانے کا“ اربوں کا فائدہ پہنچایا گیا۔ اس میں حیرانی کی بات اِس لئے نہیں ہے کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی خود اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ حکومت ہر وقت غریب پروری کا راگ الاپتی رہتی ہے، لیکن ”ٹیکس فری“ بجٹ کی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ ادویات کی قیمت میں ڈریپ نے سات تا دس فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جا ری کر دیا۔ گذشتہ سال بھی ادویات کی قیمتوں میں سرکاری طور پر 15فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ دواسازی کے اداروں کو ہر سال اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے اور اس میں بھی حیرانی کی بات اس لئے نہیں ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ادویات کمپنیوں کے کنسلٹنٹ بھی رہے ہیں۔ اربوں روپے کا ادویات درآمد سکینڈل اس کے علاوہ ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کی واردات ڈالنے پر اس وقت کے وزیر صحت کو عہدہ سے ہٹایا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی ٹی وی لائسنس فیس میں بھی یکلخت تین گنا اضافہ کرکے اسے 35سے 100 روپے کر دیا گیا۔

کسی کے گھر ٹی وی ہو یا نہ ہو، لیکن اسے ہر مہینہ بجلی کے بل میں یہ جگا ٹیکس ضرور دینا پڑے گا۔ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان اکثر ٹی وی لائسنس فیس کا ذکر کرتے تھے کہ یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے، اب انہوں نے خود اس کو تین گنا بڑھا دیا ہے، کیونکہ اس سے حکومت کو 23 ارب روپے اضافی ملیں گے۔ ظاہر ہے اس نا اہلی کی سزا بھی 22 کروڑ عوام کو ہی بھگتنا ہے۔ یہ تو نمونے کے طور پر صرف چند مثالیں ہیں، انجام گلستان کے بارے میں اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں، کیونکہ پی ٹی آئی حکومت میں ہر شاخ پر ایک نا اہل بیٹھا ہے۔ادھر، پنجاب میں بھی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، محنت اجڑتے دیکھ کر مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو کس قدر غم ہو گا کہ انہوں نے ”پنجاب بچاؤ“ تحریک کی کال دے دی ہے۔ علامہ اقبال کی روح سے معذرت کے ساتھ ……

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے

ہے ”جرم نا اہلی“ کی سزا مرگ مفاجات

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment