Home » ناکامیوں کا اعتراف اور اگلے سوا دو سال

ناکامیوں کا اعتراف اور اگلے سوا دو سال

by ONENEWS

ناکامیوں کا اعتراف اور اگلے سوا دو سال

کوئی نہیں جانتا کہ وزیر اعظم عمران خان سال ختم ہونے سے پہلے اپنی ناکامیوں کا مسلسل اعتراف کیوں کر رہے ہیں۔ ایسی باتیں تو چھپائی جاتی ہیں لیکن عمران خان بھرے مجمعے میں ان کا ایسے اظہار کرتے ہیں جیسے کامیابی کی کوئی داستان سنا رہے ہوں اب انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا ہے کہ انہیں حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس وجہ سے وہ کوئی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ تو ان کی ٹیم کو یہ سمجھنے ہی میں لگ گئے کہ معاملات کیسے چلانے ہیں، پاور سیکٹر کی ڈیڑھ برس تک سمجھ ہی نہیں آئی۔ نتیجہ انہوں نے یہ نکالا کہ مناسب ٹریننگ اور تجربے کے بغیر کسی کو حکومت دینی ہی نہیں چاہئے جس وقت وہ یہ خطاب کر رہے تھے اس وقت تقریب میں موجود وزراء کے ماسک میں چھپے ہوئے چہروں کے باوجود آنکھوں کی بے چارگی بتا رہی تھی کہ وہ اپنے کپتان کی باتوں پر حیران و پریشان ہیں بھلا یوں بھی کوئی اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے۔

اور  ایسا بیانیہ بھی اختیار کرتا ہے جو اپوزیشن کے مؤقف کی تائید کرتا ہو۔ ملک جس حال کو پہنچ گیا ہے، اب اس میں کس کا ہاتھ ہے؟ یہ تو خود کپتان نے اپنی زبان سے بتا دیا ہے۔ مانا کہ کپتان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، مگر ان کی ناتجربہ کاری کے باعث اس ملک میں مافیاز نے جو اَت مچائی، اس کی سزا تو بائیس کروڑ عوام بھگت رہے ہیں بڑی بڑی بڑھکیں، دعوے وزراء کے لچھے دار بیانات نئے پاکستان کی خوشحالی کے دیومالائی خواب اور نجانے کیا کیا کچھ ہوتا رہا۔ حقیقت تو عمران خان کی زبانی اب سامنے آئی ہے کہ سب کچھ اللہ توکل چل رہا تھا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے، بہتری کیسے لانی ہے سارا نزلہ ماضی کی حکومتوں پر گرا کر کب تک وقت گزارا جا سکتا ہے آپ کی باری آئی ہے تو خود بھی کچھ کر کے دکھائیں ”این آر او نہیں دوں گا“ کی کہانی بھی اب نہیں بک رہی، حالات بھی بہتر نہیں ہو رہے تو کپتان نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کر لیا ہے کہ ہم نا تجربہ کاری کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ ساتھ ہی یہ دلاسہ بھی دیا کہ ابھی ہمارے پاس سوا دو سال موجود ہیں، اب ہم نے پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، تمام کمزوریوں پر قابو پا کر ترقی کرنی ہے ساتھ ہی اپنے وزراء سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مافیاز کے خلاف ڈٹ جائیں، اس پر کسی کی ہنسی چھوٹ گئی ہے تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائے۔

2018ء میں انتخابات سے پہلے ہمارے پیارے کپتان ملک کے مختلف چیمبر آف کامرس میں جا کر جو خطاب فرماتے تھے، انہیں یوٹیوب پر جا کر آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنی تقریروں میں وہ یہ خوشخبری سناتے تھے کہ ان کی ٹیم نے تمام ہوم ورک مکمل کر لیا ہے پہلے سو دنوں کا پلان بھی تیار ہے، ہر شعبے کے ماہرین کی ٹیمیں ہمارے ساتھ موجود ہیں، بس حکومت ملتے ہی ترقی کا پہیہ اتنی تیزی سے چلائیں گے کہ ساٹھ پینسٹھ سال کی کسر نکل جائے گی۔ کسر تو نکلی مگر الٹی، جو اس عرصے کے دوران مڈل کلاس میں آئے تھے، وہ غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے  اور غریب، غریب تر ہو گئے جھوٹی تسلیوں، جھوٹے آدرشوں کے ذریعے عوام کو بہلایا جاتا رہا، بس کچھ دن اور ٹھہرو پھر دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ مگر کہاں صاحب، عقدہ تو یہ کھلا کہ حکومت ایسے ہاتھوں میں دے دی گئی جنہیں گھر چلانے کا تجربہ بھی نہیں تھا۔ بڑی بڑی تقریریں سننے کو ملتی رہیں، عملی طورپر عوام کو ریلیف تو کیا سکھ کا سانس لینے کی مہلت بھی نہ دی گئی۔ اب ان سوا دو برسوں میں کیا ہو جائے گا؟ تجربہ ناکامی کا ہے تو وہ کامیابی کی بنیاد کیسے بنے گا؟ کیا ان وزراء کے ذریعے کوئی تبدیلی ممکن ہے جو خود کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں کیا یہ مافیاز کے خلاف لڑ سکتے ہیں؟ یہ صرف کابینہ میں بیٹھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ حالات بہت خراب ہو چکے ہیں مہنگائی اور بری گورننس کی وجہ سے عوام تنگ ہیں کوئی جادو کا منتر پھونکیں  اگلے سوا دو سال بھی انہی طفل تسلیوں کے سہارے گزر جائیں گے کہ اب ہمیں چلنا آ گیا ہے ہم درست سمت میں جانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ نہیں صاحب جب آپ کی ٹیم وہی ہو کھلاڑی وہی تھکے ماندے ہوں، وکٹ اور گراؤنڈ بھی تبدیل نہ ہوا ہو تو شکست فتح میں کیسے بدل سکتی ہے۔؟

اب اس پر بہت سے لوگوں کو حیرانی ہو رہی ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم کے خلاف تحریک چل رہی ہے اور استعفا مانگا جا رہا ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم اپنی ناکامی اور ناتجربہ کاری کا اعتراف کر رہے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں حکومت نہیں لینی چاہئے تھی، یہ آخر قصہ کیا ہے ایسے حالات میں تو حکمران اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں ستر سالہ گند کو ایک طرف رکھتے ہیں اور اپنے دورِ اقتدار کو تاریخ کا معجزہ قرار دیتے ہیں، پھر یہ کپتان کو کیا ہوا ہے کہ برسرِ عام اپنی ناکامی اور حکومت کے لئے درکار تجربے کی عدم موجودگی کا اعتراف کر رہے ہیں صاحبو! اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کپتان خطرے کی بوسونگھ گئے ہوں۔ انہیں اندازہ ہو گیا ہو کہ یہ نظام جانے والا ہے، اور ایک بار پھر نئے مینڈیٹ کے لئے عوام کے پاس جانا پڑے گا۔ اب پہلے والی بات تو ہے نہیں کہ آپ یہ کہیں کہ ہم اقتدار میں آ کر ستر برس کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے، یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتے کہ جنہوں نے لوٹ مار کی انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے دو پارٹیوں کو آزما کے دیکھ لیا، اب ہمیں آزمائیں، ہم استحصال سے پاک نیا پاکستان بنائیں گے۔ یہ قصے کہانیاں تو سب گزر چکے۔ ہاں عوام کے پاس یہ عذر لے کر جایا جا سکتا ہے کہ پہلے ہمیں تجربہ نہیں تھا اس لئے بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے، اب تجربہ ہے، اس لئے اس بار حکومت میں آئے تو اگلی پچھلی تمام کسریں نکال دیں گے کیا عوام  ایسے کسی متوقع بیانیئے کو تسلیم کر لیں گے۔ کیا یہ نا اہلی ہے یا نا تجربہ کاری۔؟

جنرل (ر) پرویز مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو انہیں کون سا حکومت کرنے کا تجربہ تھا لیکن انہوں نے معیشت میں بہتری کے لئے جو اقدامات اٹھائے وہ کارگر ثابت ہوئے۔ ان کے پاس مارشل لا کا ڈنڈا تھا اس لئے مافیاز کو بے لگام ہونے کا موقع نہیں ملا، انہوں نے بھی اِدھر اُدھر سے لوگوں کو اکٹھا کر کے حکومت بنائی تھی مگر ایک واضح گائیڈ لائن کی وجہ سے سب اپنا کام کرتے رہے کپتان کیسے کہتے ہیں کہ انہیں تجربہ نہیں تھا حالانکہ انہوں نے چن چن کر پرانے وزراء کو کابینہ میں لیا، خود انتخابی مہم کے  دوران کہتے رہے کہ دوسری جماعتوں کے تجربہ کار لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں وہ اسد عمر کو اپنی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین قرار دیتے اور یہ دعویٰ بھی کرتے کہ انہوں نے ابتدائی سو دنوں کا ایسا پلان تیار کیا ہے کہ عوام واضح تبدیلی محسوس کریں گے، اپوزیشن کہتی ہے جو کبھی کونسلر منتخب نہیں ہوا آپ نے اسے وزیر اعظم بنا دیا، اب کپتان خود اس حقیقت کو مان رہے ہیں، اللہ کرے انہیں اگلے سوا دو سال ملیں اور وہ کوئی معجزہ دکھانے میں کامیاب رہیں، لیکن کیا ایک شکست خوردہ ٹیم سے معجزے کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment