Home » نئی امریکی انتظامیہ اور ہمارے لئے سبق

نئی امریکی انتظامیہ اور ہمارے لئے سبق

by ONENEWS

نئی امریکی انتظامیہ اور ہمارے لئے سبق

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن 78سال کے عمر رسیدہ سیاستدان ہیں اور شایدوہ اب تک کے امریکی صدور میں سب سے زیادہ بزر گ ہیں۔ نئے صدر عمر کے اس حصے میں ہیں  جس میں فکری اور ذہنی کیفیت سکون میں ہوتی ہے۔ انہوں نے آتے ہی کوئی بڑھکیں نہیں ماریں نہ ٹرمپ کو للکارا بلکہ اپنا کا م شروع کردیا۔ اقتصادی، انتظامی اور عسکری حوالے سے بڑی طاقت امریکہ کے جوبائیڈن سے شکست کھانے والے ٹرمپ تو شاید کسی بیماری میں مبتلا تھے کہ خود نمائی اوراپنے بارے عقل کل ہونے کا گمان بہت زیادہ رکھتے تھے۔ جس کی وجہ سے امریکی قوم تقسیم ہوکر رہ گئی ہے۔اس لئے بلاشبہ امریکہ اس وقت سیاسی اعتبار سے ایک منقسم ملک ہے۔امریکی قوم کی تقسیم کا عملی اظہار جوبائیڈن کی حلف برداری سے پہلے کیپیٹل ہل واشنگٹن پر بلوائیوں کا حملہ ہے۔یہ اتنی بڑی تقسیم ہے کہ جوبائیڈن کو قوم کے اعتماد کی بحالی اور اتحاد پر بہت دقت سے کام کرناپڑے گا۔اس کے ساتھ ہی میں سمجھتا ہوں کہ نئے امریکی صدر کو بین الاقوامی انسانیت کے لئے بھی بہتر کردار ادا کرنا ہوگا۔

جوبائیڈن کی جماعت نے اقتدار ملنے کی صورت میں اپنے منشور پر عملدرآمد کے لئے ایجنڈے کی منصوبہ بندی پہلے سے کی ہوئی تھی۔اس لئے حلف اٹھاتے ہی نئے امریکی صدر نے جن سترہ احکامات پر دستخط کئے ہیں،ان میں نمبر ون مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی کو ختم کرنا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں گریجوایشن تک تعلیم مفت کردی گئی ہے۔ تعلیمی قرضے معاف کردیئے گئے ہیں۔ طبی سہولتیں مفت ہوں گی۔ امریکہ میں بیروز گاری کے خاتمے کے لئے دوہزار ڈالر فی کس کے حساب سے پورے امریکہ میں دینے کا اعلان کردیا گیاہے۔نئی امریکی انتظامیہ نے سماجی ترقی کے تمام کام سوشلسٹ نظریات رکھنے والے سیاستدان اور صدارتی انتخابات کی ابتدائی دوڑ میں ہی دستبردارہونے والے برنی سینڈرز کے ذمے لگا دیئے ہیں۔جس نے عملی اقدامات شروع کئے ہیں تو لوگوں میں بہتری کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

امریکہ کی منقسم قو م کو متحد کرلیا گیا تو گورے کالے، مسلمان، عربی، چینی افریقی، برطانوی، جرمن کی کوئی تفریق نہیں رہے گی،لیکن نئی انتظامیہ کو امریکہ سے نسلی تعصبات کوبھی ختم کرنا ہوگا، کیونکہ امریکہ میں کالوں کوافریقی امریکن مگر گوروں کے لئے برطانوی امریکن کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی۔یہ نسلی امتیاز صرف کالوں کے لئے ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ امریکی قوم کو کپڑوں اور جلد کے رنگوں میں تقسیم ہونے سے بچایا جائے اورپیغام دیا جائے کہ امریکی نیشنیلٹی رکھنے والوں میں کوئی چینی، افریقی، عربی،برطانوی اور ایشیائی نہیں ہے، سب بلا تفریق امریکی شہری ہیں۔

اسی طرح سے امریکی پارلیمنٹ (کانگرس) کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھنے والی نئی حکومت نے خارجہ پالیسی کے ماہر ین کو دوسرے ممالک سے تعلقات کو معمول پر لانے کا ٹاسک دے دیا ہے۔اس حوالے سے ٹرمپ کے ایران کے ساتھ کئے گئے ایٹمی معاہدے سے دستبرداری کے احمقانہ فیصلے کو بھی واپس لینے بارے غور شروع کردیا گیا ہے۔ نئے امریکی صدرپاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھی قریب ہیں۔ جوبائیڈن کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ اسی لئے ان کے شوہر آصف علی زرداری اور بیٹے بلاول بھٹو زردار ی کو تقریب حلف برداری میں دعوت بھی دی گئی تھی۔مگر وہ جانہیں سکے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی لیڈرشپ جوبائیڈن سے متعارف ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ توجہ فلسطین کے مسئلے پر دینے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کے فلسطین پر اقدامات انتہائی احمقانہ تھے۔وہ اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لئے دباو ڈالتے رہے۔ لیکن جوبائیڈن کا موقف ہے کہ “دو ریاستی فارمولا “ہی مسئلہ فلسطین کا حل ہے۔

البتہ کچھ لوگوں کا یہ اعتراض کہ جوبائیڈن جب نائب صدر تھا تو اس کے دور میں بڑی جنگیں ہوئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر وقت انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی سوچ اور پالیسیوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔امید ہے کہ نئی امریکی حکومت بین الاقوامی مداخلت کو بند کرے گی۔ اسے فی الفور افغانستان،عراق، شام سے امریکی فوجیں واپس بلواکر دوسرے ممالک کی سرزمین پر قبضے اور سیاست میں مداخلت کے الزام کو دھو دینا چاہیے۔ یہ امریکہ کی سلامتی اور عالمی امن کے لئے نیگ شگون ہوگا۔اور اعلان کیا جائے کہ امریکہ کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا۔

پاکستان کو بھی امریکہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں بھی ٹرمپ مزاج کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ کرپشن کے الزامات اور این آر او نہیں دوں گا کے نعروں پر قوم کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ حکمرانوں کوسمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ قوم کا نقصان کررہے ہیں یا فائدہ؟عمران خان بین الاقوامی اور خطے کے حالات کو سامنے رکھیں۔ہندوستان کے ساتھ کشیدگی، مسئلہ کشمیر پرعالمی سردمہری،بھارت چین کشیدگی اور افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کو سیسہ پلائی دیوار ہونا چاہیے تھا۔لیکن احتساب کے نام پر ناجائز مقدمات اوراپوزیشن رہنماوں کو جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تویا درکھیں آپ آج اقتدار میں ہیں، کل نہیں ہوں گے۔لیکن قومی تقسیم ختم نہ ہوسکے گی۔

بڑی فوج، ٹیکنالوجی، اسلحے اور معیشت رکھنے والی امریکہ جیسی مملکت نے محسوس کرلیا ہے کہ اتنی اقتصادی اور عسکری قوت ہونے کے باوجو د قوم تقسیم رہی تو ملک بچے گا اور نہ ہی جمہوریت۔ نیا صدر جوبائیڈن کہتا ہے قومی وحدت پیدا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس نے نہیں کہا کہ پکڑ لو،اندر کردو! اس نے ایک بار بھی ٹرمپ کو جیل میں ڈالنے اور اس کے احتساب کا اعلان نہیں کیا۔کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ٹرمپ صدر تھا،اب نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس کا مواخذہ بھی ہوجائے چونکہ خود ریپبلکن سینیٹرز بھی ایسا ہی چاہتے ہیں تاکہ ٹرمپ جیسا آدمی دوبارہ ملکی صدارت پر نہ آسکے۔ لیکن یہ سب نظام کے تحت ادارے ہی کریں گے، انتقام نہیں ہوگا۔اس لئے عمران خان کو سوچ لینا چاہیے کہ اگر قوم کو تقسیم کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کو اس کی پارٹی ہی دوبارہ نہیں لانا چاہتی اوراس کا مواخذہ چاہتی ہے تو عمران خان بھی سبق سیکھیں۔ پاکستانی قوم کو تقسیم کرنے کے اقدامات نہ اٹھائیں اور یقین رکھیں واقعی ” جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment