Home » میں فیمینسٹ نہیں ہوں، اداکارہ ثروت گیلانی

میں فیمینسٹ نہیں ہوں، اداکارہ ثروت گیلانی

by ONENEWS

ثروت گیلانی نے وہی کیا جو اکثر مشہور شخصیات کرتی ہیں، اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے جہاں فیمینزم کی تعریف کی وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فیمینسٹ نہیں ہیں۔

میرا سیٹھی کے یوٹیوب شو پر انٹرویو کے دوران جب معروف اداکارہ ثروت گیلانی سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ فیمینسٹ ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں میں فیمینسٹ نہیں ہوں، ان کے اس بیان پر چند ٹوہٹر صارفین ناراض دکھائی دیئے۔

مختصراً یہ کہ کچھ لوگوں نے بھی کہا کہ اداکارہ اپنی ویب سیریز چوڑیلز سے حاصل کردہ شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیمینزم کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں حصہ تو لیتی ہیں تاہم اس سوچ کی انہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ ان میں سے کچھ کا خیال ہے کہ یہ صرف ایلیٹ خواتین ہی ہیں جو اس طرح کی باتیں کرسکتی ہیں جبکہ کچھ صارفین اداکارہ کے بیان پر حیرت زدہ بھی ہیں۔

فیمنیزم مردوں کے حوالے سے بھی ہے

اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ در حقیقت یہ فیمینسٹ ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے برابری کی بات کی۔ اگر فیمیزم صرف خواتین کے بارے میں ہی ہوتا تو پھر فیمینسٹوں کو زہریلی مردانہ سوچ کی بات ہی نہ کرنا پڑتی، یہ وہی لوگ ہیں جو مرد کی عصمت دری کی بھی بات کرتے ہیں۔

ثروت گیلانی نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ ہر جگہ عورت، عورت، عورت ہو۔ اس کا واضح طور پر مطلب یہ تھا کہ گفتگو صرف خواتین تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں ہر جگہ شاید ہی عورت، عورت، عورت کا معاملہ ہے۔ ابھی بھی خواتین کے مسائل مرکزی دھارے میں آنے والی گفتگو کا حصہ نہیں بنے ہیں۔ صرف اس بات پر غور کیجئے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت مردوں کے پاس موجود ہے۔ جہاں کہیں بھی آپ نظر ڈالیں صنفی مساوات پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

در حقیقت فیمیزم مردوں کو خواتین کے مسائل سے متعلق نسوانی بحثوں کا مرکز نہیں بناتا ہے لیکن جب فیمینسٹ مردوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انہیں جائز مسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن کا مردوں کو جابرانہ پدرانہ شاہی نظام کی وجہ سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فیمیزم اور مردوں کی ضرورت

ثروت گیلانی نے ایک اور نکتہ پیش کرنا چاہا تھا کہ خواتین کو مردوں کی ضرورت ہے لیکن وہ آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے میں مرد حضرات کا بھی کردار ہے اور بہت سارے مرد حضرات، خواتین سے بھی زیادہ فیمنسٹ ہوتے ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ خواتین کی مدد کرنے کیلئے مریخ یا دوسرے سیارے سے کوئی خلائی مخلوق آکر مدد نہیں کرے گی بلکہ ان کی مدد ان کے گھروں کے مرد ہی کریں گے۔

یہیں پر وہ یہ فرض کرتی ہیں کہ فیمینزم اور فیمینسٹ آپ کے آس پاس کے لوگوں کی محبت، قربت اور دیکھ بھال کرنے کی اہلیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ سب انسانی ضروریات ہیں اور عورتیں انسان ہیں، جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ جس کا آپ انتخاب کرنا چاہتے ہیں اس کا انتخاب کریں۔

اور جہاں تک لفظ “آزادی” کا تعلق ہے، تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ ثروت گیلانی زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی آزادانہ انتخاب کرنے کی صلاحیت کی اجازت دیں اور جیسا کہ فیمینسٹ کہیں گے کہ ہمیں کسی پر انحصار کرنے کیلئے انتخاب کی آزادی ہو۔

لوگوں کو اکثر شک رہتا ہے کہ فیمینزم کو معاشرے میں رائج محبت اور ہمنوائی کے عقائد کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جو ہمارے معاشرے میں ممنوعہ موضوع ہے۔

لیکن بظاہر خاندان، طبقے، مذہب، مالی حیثیت اور یہاں تک کہ اپنی جگہ بنانے میں بھی کچھ عوامل طے کرتے ہیں کہ آپ کے معاشرے میں آپ کے تعلقات کیا ہیں اور آپ کس سے محبت کرتے ہیں، آپ کا فیمینسٹ نظریہ ہمیشہ آپ کو حکم نہیں دیتا۔

فیمینزم تعلقات کے بدصورت پہلو پر بات کرتا ہے جیسے کہ ہمنوا پر تشدد، ازدواجی اور بالجبر عصمت دری، خواتین کو جنسی اور تولیدی آزادی کا فقدان شامل ہے۔

اس کا مقصد شاید اس خیال کا مقابلہ کرنا ہے کہ محبت اور زندگی گزارنے کیلئے اپنی شخصیت کو دوسرے کے حوالے کیا جانا دراصل محبت نہیں، فیمینزم ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ صرف ایک شادی کی حفاظت کیلئے عورت کو جذباتی اور جسمانی زیادتی سے گزرنا نہیں چاہئے۔

خواتین جذباتی ہیں اور یہ ایک مسئلہ ہے

ثروت گیلانی نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ ناانصافی کرسکتی ہیں، جب میرا سیٹھی نے پوچھا کہ کیسے؟، تو انہوں نے جواب دیا کہ خواتین جذباتی ہیں۔

یہ ایک قدیم خصوصیت ہے کہ خواتین جذباتی، پُرجوش ہیں اور منطق کے مطابق برتاؤ نہیں کرتی ہیں۔ یہ دو الفاظ جو سمجھداری کی عکاسی کرتے ہیں، یہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں مدد کرتے ہیں جو مخالف نظریات اور عقائد کی روادار ہو۔

بہت کام ہوچکا ہے یہ باور کرانے کیلئے کہ مرد بھی حساس ہوتے ہیں اور جذبات رکھتے ہیں لیکن درحقیقت مردوں پر لگ جانے والی ایک چھاپ اور پدرشاہی کے نظریات کا دباؤ مردوں سے جذبات کو سمجھنے اور احساسات کے اظہار کی صلاحیت کو سلب کردیتی ہے اور اس طرح اگر ثروت گیلانی کا یہی مطلب ہے تو ہم اس پر متفق ہوجائیں گے کہ زہریلی مردانہ سوچ ایک “بدترین وائرس” ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment