Home » میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

by ONENEWS

میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

چمنستانِ پاکستان میری آنکھوں کے سامنے بنا، اُجڑا اور اب از سرِ نو آباد ہو رہا ہے۔ اس آبادی، بربادی اور ثمّ آبادی کی وجوہات گنوانے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے بالغ النظر لوگ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ میں اپنے بچپن سے لڑکپن، جوانی، ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کی چلمنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ ایسا ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ زندگی کا چراغ گُل ہونے سے پہلے اجالے ضرور واپس آئیں گے۔ آج سوسائٹی میں جو ہاہاکار مچی ہوئی ہے اس کی رخصتی قریب ہے اور جو آہ و زاری ہو رہی ہے اس کی جگہ نوائے جانفزاء لینے والی ہے۔

اقبال نے کہا تھا:

اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل

“نایاب گانوں کے ذائقہ کی وجہ سے یہ نووا کو اور زیادہ تلخ بنا دیتا ہے۔”

اس لئے آج بعض سخت باتیں کہنا چاہتا ہوں ……

شاعر ہو کہ نثرنگار اس کے سینے میں ایک ایسا دل دھڑک رہا ہوتا ہے جو سوز و گداز سے لبریز ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی شاعری بے وقت کی راگنی اور اس کی نثر قصیدے کی بجائے مرثیہ کہلاتی ہے۔ میں اپنی پاکستانی قوم کے ممکناتِ جسم و جاں سے آگاہ ہوں۔ میں دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہوں کہ خزاں چمن سے ہے جاتی…… اور بہار راہ میں ہے!

آپ شاید اس تحریر پر نثری شاعری کا لیبل لگا دیں لیکن میرا مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ اس سمت کی طرف نشاندہی کر رہا ہے جو پاکستان کی منزلِِ مقصود ہے۔ میں نے آپ میں سے بہت سے بھائیوں اور بہنوں کی طرح دنیا کی تہذیبوں کے عروج و زوال کا مطالعہ کیا ہے۔ پاکستان کی پون صدی کی یہ تاریخ میرا مشاہدہ ہے  اور تجربہ یہ ہے کہ میں نے جنگ اور امن کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ان کی وجوہات کا مطالعہ کیا ہے اور اگر بارِ خاطر نہ ہو تو عرض کروں کہ میری یہ کالم نگاری اس سودے کا ’جُھونگا‘ ہے جو میں زندگی کے گزشتہ ماہ و سال میں خرید خرید کر اپنی جھولی میں ڈالتا رہا ہوں۔

…… جب فوج جوائن کی تو اس سے پہلے مشرقی ادب (اردو، فارسی، عربی، پنجابی، ہندی وغیرہ) اور مغربی ادب (انگریزی وغیرہ) کی سرشاری میں ڈوبا رہا۔ اور جب فوج میں ’داخل‘ ہوا تو اس دبستاں نے میری دنیا بدل کے رکھ دی۔ میں نے زندگی کو ایک نئے زاویہء نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔ مجھے مسلم امّہ کے عروج و زوال پر شدید حیرانی ہوتی تھی کہ اتنی عظیم امہ ادبار کے گڑھے میں کیوں گری۔ جب مطالعہ کی کثرت کے بعد تجزیہ کی باری آئی تو میں حیران ہوا کہ ہم مسلمانوں نے شریعت کے جو پیمان توڑے تھے، وہ سب اہلِ مغرب نے لے جا کے جوڑے اور ایسے جوڑے کہ آج تک ان سے جدا نہیں ہوئے۔ میرے سینے میں کئی بار ہوک اٹھتی رہی کہ مغرب کے کافر ہم  مومنوں پر حکمران کیوں ہیں …… یہ ایک طویل پراسس تھی جس کا ذکر کالم کی چند سطور میں سمیٹنا ممکن نہیں۔

میں نے دیکھا کہ مسلمانوں نے اکانومی اور ڈیفنس کا دامن چھوڑا تو رفتہ رفتہ ان کا بھرا پُرا سارا دامن خالی ہوتا چلا گیا۔ ہم پاکستانیوں نے ایک عرصے سے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں اخلاق کے زور سے پھیلا۔ دوسری طرف جب غالب اقوام مغرب کو دیکھتا تھا تو وہ تو صدق و وفا اور تہذیب و اخلاق سے عاری نظر آتی تھیں …… لیکن کون سی تہذیب اور کون سا اخلاق؟

ایک تہذیب وہ ہے جو مجہول تہذیب کہلاتی ہے اور دوسری وہ ہے جو معروف ہے، جو جارح ہے، جو کمزور اور مجہول تہذیب کو تہس نہس کرنے پر ایمان رکھتی ہے…… اور ایک اخلاق وہ ہے جو میری نظر میں ’کُھسرا اخلاق‘ کہلاتا ہے اور دوسرا اخلاق وہ ہے جو مردانگی کی علامت ہے۔ مسلمانوں نے 6،7سو سالوں تک مردانہ اخلاق کو اپنا شعار بنائے رکھا لیکن جب ’کُھسرا اخلاق‘ آغوش میں سمیٹا تو مردانگی والے اخلاق نے اس کو چاروں شانے چت گرا دیا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام اخلاق سے پھیلا۔ ان کا اشارہ مردانہ اخلاق سے نہیں کھسرانہ اخلاق سے ہے۔

معانی کا خواستگار ہوں کہ بار بار ’کھسرانہ‘ کا لفظ استعمال کر رہا  ہوں جو تہذیب سے کچھ گرا ہوا لفظ ہے۔ (اس کی جگہ ’مخنث اخلاق‘ کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے)۔ میرے نزدیک وہ لوگ جو یہ رائے رکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں، اخلاق سے زور سے پھیلا تو یہ ایک ’مولویانہ تصور‘ ہے، مومنانہ اور مسلمانانہ تصور نہیں۔ میرا مطالعہ کہتا ہے کہ آنحضورؐ کا مکی دور سراپا کریمانہ اخلاق کا آئینہ دار تھا۔ شاید اسی اخلاق کے برانڈ کو بعد کے مسلمانوں نے اسلامی اخلاق سمجھ لیا تھا لیکن آپؐ کی 53برس کی مکی زندگی میں پیغمبرِ آخر الزماں ؐ کو آخر اس اخلاق کو خیر باد کہنا پڑا۔ آپ نے ہجرت فرمائی۔ مکے سے مدینے تشریف لے گئے۔ اس اخلاق کو پسِ پشت رکھا اور ہاتھ میں تلوار پکڑ کر دس سالہ مدنی دور کا آغاز کیا۔مجھے کوئی بتائے کہ غزوۂ بدر سے لے کر غزوۂ تبوک تک کا دور کیا اخلاق کا دور تھا یا تلوار کا؟…… میں نے فوج جوائن کرنے کے بعد یہ پڑھا کہ جو اقوام تلوار بدست ہوتی ہیں ان کو زمانہ سلام کرتا ہے اور جو محض اخلاق کی پیروی کرتی ہیں زمانہ ان کو اتہام اور دشنام کرتا ہے اور وہ رفتہ رفتہ یا تو صفحہء ہستی میں مٹ جاتی ہیں  یا ’کُھسرانہ زندگی‘  بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ خلافتِ راشدہ، امیّہ، عباسیہ، فاطمیہ اور عثمانیہ کا دور تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہا ہے لیکن جب عباسیوں نے دجلہ و فرات کے کناروں پر سیم و زر کے محلات تعمیر کئے تو کارکنانِ قضاوقدر نے ان پر ہلاکو خان مسلط کر دیئے……یہ تاریخ دہرانے کا محل نہیں صرف یاد دہانی کروا رہا ہوں۔

اپنے ہندوستان جنت نشان کو دیکھ لیں۔ جب تک غزنویوں، غوریوں، خلجیوں، تغلقوں اور مغلوں کی تلواریں چمکتی رہیں، کسی کی مجال نہ ہوئی کہ ان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھتا…… پھر یہاں افرنگی آ گئے …… یہ لوگ عصرِ جدید کے چنگیز و ہلاکو تھے۔ انہوں نے مسلمانانِ ہند کو تہذیب و تمدن کے نام پر گمراہ کیا اور جدید تلوار (وار ٹیکنالوجی) کی ہوا تک ان کو لگنے نہ دی۔اپنے دور کو عدل و انصاف کا دور ثابت کرنے میں اہل ِ برصغیر کو نیند کی میٹھی گولیاں کھلاتے رہے اور خود شمشیر وسناں کا کلچر پروان چڑھاتے رہے۔ میں یہاں تک عرض کروں گا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں ’حضرت اوڈلف ہٹلر‘ منصہء شہور پر جلوہ گر نہ ہوتے تو یہ افرنگی 1947ء تو کیا 2547ء تک ہم پر مسلط رہتے!

ہٹلر کی شمشیرِ آبدار نے افرنگی کمر توڑ کر رکھ دی جس کے صدقے میں اہلِ ہندوستان کو آزادی کی نعمت ’عطا‘ ہوئی…… آپ آج بھی دیکھ لیں اگر پاکستان کی افواجِ قاہرہ آج نظر سے ہٹ جائیں تو جو لوگ ہم پر مسلط ہوں گے ان کی پرچھائیاں ہمارے تعاقب میں رہتی ہیں۔ اکانومی اور ڈیفنس میں اکانومی کو اولیت حاصل ہے۔ مسلمانوں نے ریاست مدینہ میں بھی پہلے اکانومی درست کی اور اس سے ڈیفنس پروڈیوس کی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کی جمہوریت کیا ہے اور ہماری جمہوریت کا ’حسن‘ کیا ہے…… امریکہ، مغرب کا سرخیل ہے۔ اس کے ٹرمپ نے چار سال تک امریکہ کی ساکن اور پُرفضا جھیل میں یکے بعد دیگرے کئی پتھر پھینکے۔ اس کے پیروکار قصرِ اقتدار پر قابض ہونے کو اپنی منزل مقصود سمجھ بیٹھے۔ لیکن اگر ہزار ٹرمپ بھی امریکی وائٹ ہاؤس میں آ جائیں تو امریکی پاور ہاؤس کبھی ٹرپ نہیں کرے گا۔

اس کا دفاع اتنا مضبوط ہے کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے دندنا سکتا ہے۔ میرے نزدیک یہی ’مردانہ اخلاق‘ ہے۔ اسی اخلاق کی پشت پر تلوار کی قوت سایہ فگن رہتی ہے۔ آج پاکستان کی سیاسیات کی جھیل میں بھی ہلچل مچی نظر آتی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی افواج اپنے پیشہ ورانہ مشاغل میں منہمک اور مصروف رہتی ہیں۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ چونکہ خوئے غلامی کا اسیر ہے۔ اس لئے وہ جمہوریت کے اس حسن کو واپس لانا چاہتا ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو مردانہ اوصاف سے عاری کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج پر تبّریٰ تولّی ٰ کیا جاتا ہے لیکن آپ نے یہ بھی دیکھا کہ فوج شمشیر بدست ہونے کے باوجود بھی کس تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو اگر فوج لے کر آئی ہے تو اس ’عمران خانی دور‘ کو اڑھائی برس اور دیکھ لیں۔ جو ریل گاڑی گزشتہ چار عشروں سے ایک فکسڈ پٹڑی پر چل رہی تھی اس کو تبدیل کرنے میں جس اکھاڑ پچھاڑ کی ضرورت ہے، وہ ہو رہا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا سکینڈل اس ’سلیکٹڈ حکومت‘ کو دیکھنا اور جھیلنا پڑتا ہے…… خدا کے بندو! صرف ایک ٹرم تو انتظار کر لو…… اگر عمران نااہل، ناکارہ، ناتجربہ کار اور ناسزا ہے تو وہ دن دور نہیں جب یہ میرِ سپاہ جس کو آپ ناسزا کہتے نہیں تھکتے اور جس کے لشکریوں کو شکستہ صف ہونے کے طعنوں سے نوازتے ہو، وہ خود بخود ختم ہو جائے گا کہ یہ قانونِ فطرت ہے کہ جس تیرِنیم کش کا کوئی ہدف نہ ہو وہ آخر کمان سے چھوٹ کر نیچے گر جاتا ہے!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment