Home » میں اور صرف میں!

میں اور صرف میں!

by ONENEWS

کہتے ہیں ایک بدو کسی شہری بابوکا مہمان ہوا۔ میزبان نے ایک مرغی ذبح کی۔ جب دسترخوان بچھ گیا توکھانا کھانے سب آموجود ہوئے۔ میزبان کے گھر میں کل چھ افراد موجود تھے؛ میاں بیوی، دو ان کے بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میزبان نے بدو کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کرلیاتاکہ آئندہ کبھی اس گھر کی راہ نہ لے۔کھانا شروع کرنے سے پہلے میزبان بولا: آپ ہمارے مہمان ہیں۔ کھانا آپ تقسیم کریں۔بدو نے کہا: مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کا اصرارہے تو کوئی بات نہیں۔ لائیے! میں ہی تقسیم کر دیتا ہوں۔

بدو نے یہ کہہ کر مرغی اپنے سامنے رکھی، اس کا سرکاٹا اور میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:آپ گھر کے سربراہ ہیں لہذا مرغی کا سر، ایک سربراہ کو ہی زیب دیتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا پچھلا حصہ کاٹا اور کہا:یہ گھر کی بیگم کے لیے۔اس کے بعد مرغی کے دونوں بازو کاٹے اور کہنے لگا:بیٹے اپنے باپ کے بازو ہوتے ہیں۔ پس مرغی کے دونوں بازو صاحب خانہ کے بیٹوں کے لیے۔اس کے بعد اس نے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور کہا:بیٹیاں کسی بھی خاندان کے وقار کی بنیاد ہوتی ہیں اورسارے خاندان کی عزت ان کے وقار پر کھڑی ہوتی ہے۔ یہ کہہ کر مرغی کے دونوں پاؤں کاٹے اورمیزبان کی بیٹیوں کو دے دیے۔ پھر مسکراکر کہنے لگا:جو باقی بچ گیا ہے وہ مہمان کے لیے۔

میزبان کا شرمندگی سے برا حال تھا۔ اگلے دن اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ آج پانچ مرغیاں ذبح کرنی ہیں۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔جب دسترخوان لگا تو اس پر پانچ بھنی ہوئی مرغیاں موجود تھیں۔ میزبان نے سوچا کہ دیکھتے ہیں کہ آج یہ پانچ مرغیوں کو کس طرح تقسیم کرے گا؟اس نے بدو سے کہا: ان مرغیوں کو سب افراد میں برابر تقسیم کردو۔بدو نے پوچھا:کس لحاظ سے تقسیم کروں،جفت یا طاق؟میزبان نے جواب دیا: طاق عدد میں تقسیم کرو۔بدو نے میزبان کی بات سن کر سرہلایا، تھال سے ایک مرغی اٹھائی، میاں بیوی کے سامنے رکھی اور بولا:آپ، آپ کی بیوی اور ایک یہ مرغی، کل ملا کے تین۔ پھر دوسری مرغی اٹھائی اور کہا:آپ کے دو نوں بیٹے اور ایک مرغی، کل ملا کے یہ بھی تین۔ اس کے بعد تیسری مرغی اٹھائی اور کہا: آپ کی دو بیٹیاں اور ایک مرغی؛ کل ملا کریہ بھی تین ہوگئے۔ اب تھال میں دو مرغیاں باقی بچ رہی تھیں۔ اس نے اطمینان سے وہ دونوں مرغیاں اپنے سامنے رکھیں اور کہنے لگا: یہ دو مرغیاں اور ایک میں؛ یہ بھی تین ہو گئے۔ماشاء اللہ!کتنی منصفانہ تقسیم ہے۔یہ کہا اور تسلّی سے کھانے میں جت گیا۔

میزبان بدو کی یہ تقسیم دیکھ کر ہکابکا رہ گیا۔ اس نے اگلے دن پھرپانچ مرغیاں روسٹ کروائیں۔ جب سب لوگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو میزبان نے بھنی ہوئی پانچوں مرغیاں بدو کے سامنے رکھیں اور اس سے کہا: آج بھی تقسیم تم ہی کرو گے لیکن آج تقسیم کی نوعیت جفت ہونی چاہیے۔بدو نے مسکرا کر جواب دیا: لگتا ہے کہ تم لوگ میری پچھلی تقسیم سے ناراض ہو۔میزبان بولا: ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ تقسیم شروع کریں۔بدو نے مرغیوں کی طشتری اپنے سامنے رکھی۔ اس میں ایک مرغی اٹھائی اور کہنے لگا:ماں، اس کی دو بیٹیاں اور ایک مرغی؛ یہ ہوئے کل ملا کر چار۔ یہ کہہ کرپہلی مرغی ان کی طرف بڑھا دی۔ اس کے بعد دوسری مرغی اٹھائی اور میزبان سے کہا:آپ، آپ کے دو بیٹے اور ایک مرغی؛ یہ بھی کل ملا کر چارہوئے۔ پھر تھال میں موجود باقی تین مرغیاں اپنی طرف کھسکاتے ہوئے بولا:میں اوریہ تین مرغیاں؛ یہ بھی کل ملا کر ہو گئے چار۔ اس کے بعد مسکرایا، بے بسی کی تصویر بنے اپنے میزبانوں کی طرف دیکھا اورآسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے کہنے لگا:یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تونے مجھے تقسیم کرنے کی اعلیٰ صلاحیت سے نوازا ہے۔

یہ ایک عرب معاشرے کی پرانی، مشہوراور زندہ جاوید حکایت ہے۔ اس کے مقابلے میں اردومیں بھی ایک ضرب المثل بولی جاتی ہے کہ ”اندھا بانٹے ریوڑیاں، مڑمڑ اپنوں میں“۔ اگر آپ اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر بندے میں بدو کی روح ملے گی۔ ہمارا ہر ادارہ اور ہر چھوٹا بڑا افسر اس بدو کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔ جب نوازشوں کی باری آتی ہے یا انعامات کا معاملہ ہوتا ہے توبدو کی طرح اس کے بہترین حصے یہ لوگ اپنی طرف کرلیتے ہیں لیکن جب امتحان، دکھ، آزمائش اور قربانی کاوقت آتا ہے تو یہ ساری چیزیں مرغی کے ”بیکار“ حصوں کی طرح عوام کا مقدر بنتی ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو تحریک پاکستان کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں اور پھر ان لوگوں کو تلاش کریں جنہوں نے پاکستان کی خاطر سب کچھ نہیں تو بہت کچھ ضرورکھویا تھا۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس طرح کے لوگ آپ کو مقتدر اداروں میں پالیسی میکرزکی حیثیت میں نظر نہیں آئیں گے۔ لیکن اس کے برعکس آپ کوزمام اختیار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ملے گی، جنہوں نے مسلمانوں کی بجائے گوروں کی کاسہ لیسی کی تھی بلکہ اگست کے چودہ دنوں کی تنخواہ بھی لے کر پاکستان آئے تھے۔

ہمارا پورا معاشرہ ایک دسترخوان ہے، اس پر جو بھی بچھا ہے وہ ہمارا ہی ہے لیکن ہماری بدقسمتی اور نالائقی دیکھیے کہ ہم نے تقسیم کی ذمہ داری کسی بدو کو دے دی ہوئی ہے جو ہمارا سب کچھ ہضم کیے جا رہا ہے اورہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اسے روک تک نہیں سکتے بلکہ اس بے حسی کو مروّت کا نام دے رہے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری محرومیوں کا ذمہ دار صرف تقسیم کرنے والا بدو ہی ہے؟نہیں بلکہ یہاں قصور عوام کا بھی ہے جنہوں نے ہمیشہ تقسیم کے لیے کسی نہ کسی بدواوراندھے کو منتخب کیا۔ رونے دھونے کی بجائے ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ اگر ہم اپنے حصے کی مرغیاں اور ریوڑیاں چاہتے ہیں تو تقسیم کا ترازو کسی اندھے اور بدو کے ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے خود اپنے ہاتھوں میں تھامنا ہوگا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment