Home » میڈیاڈپریشن پھیلانےکےبجائےجبری مشقت کیخلاف آواز اٹھائے،ہائیکورٹ

میڈیاڈپریشن پھیلانےکےبجائےجبری مشقت کیخلاف آواز اٹھائے،ہائیکورٹ

by ONENEWS

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری مشقت پر بنے کمیشن کی رپورٹ پر عمل اور آئندہ سماعت تک تمام جبری مشقتوں کے کیسز ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں پیش کی گئی کمیشن رپورٹ میں اینٹوں کے بھٹے رجسٹرڈ نہ ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا۔ عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ میڈیا ڈپریشن پھیلانے کے بجائے جبری مشقت ختم کرنے میں کردار ادا کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2 فروری کو جبری مشقت سے متعلق دائر کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر جبری مشقت سے متعلق قائم کمیشن کی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی گئی۔

کمیشن نے اپنے رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اینٹوں کے بھٹے رجسٹرڈ ہی نہیں ہے، جب کہ جبری مشقت کی سب سے بڑی وجہ پیشگی قرض ہیں۔

اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ یکم مئی کو صرف ایک ڈرامہ ہوتا ہے، ریاست آج بھی جبری مشقت پر ناکام ہے۔ کمیشن نے عدالت میں سفارش پیش کی کہ بھٹہ مزدوروں کو شناختی کارڈ جاری کرکے رجسٹر کیا جائے۔ بھٹوں پر کام کرنے والوں میں افغان مہاجرین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن کا کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں۔

دوران سماعت کمیشن کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ زیادہ تر بھٹہ مزدوروں کے شناختی کارڈ یا بے فارم ہی نہیں۔ قرضوں میں جکڑے بھٹہ مزدوروں کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں۔ بھٹہ مزدوروں کو پیشگی ادائیگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا کہ فیکٹریز ایکٹ 1934 کے تحت بھٹوں کو 3 ماہ میں رجسڑ کیا جائے۔ 14 سال سے کم عمر بچے کو بھٹے پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

کمیشن کا اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ 50 ہزار تک کی پیشگی ادائیگی نے قرضوں میں جکڑے غلامی کا راستہ ہموار کیا۔ بھٹہ مزدورں کو کام پر رکھنے کا تحریری معاہدہ ہونا چاہیے۔ تنازعات کے حل کیلئے اسپیشل لیبر کورٹ قائم کیے جائیں۔ لیبر قوانین کے تحت آنے والے کیسز نمٹانے کیلئے مجسٹریٹ نامزد کیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے صدر ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن ثاقب بشیر کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ ثاقب بشیر کو مخاطب کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ میڈیا لوگوں میں ڈپریشن پھیلانے اور لوگوں کو برا بھلا کہنے کے بجائے یہاں کردار ادا کرے۔ ہم ان کے ماننے والے ہیں، جنہوں نے حضرت بلال کو گلے سے لگایا تھا۔ بھٹوں پر پیشگی کا نظام سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللہ نے ڈی سی اسلام آباد کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص قرض کی وجہ سے جبری مشقت نہیں کر رہا۔ ڈی سی اسلام آباد ایک ایک مزدور کو اس کے حقوق سے آگاہ کرنے کا انتظام کریں۔ ڈی سی اسلام آباد ایک افسر نامزد کریں جو ہر بھٹے کا دورہ کرے۔

عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں عمل درآمد اور کارروائی کی جائے۔ ہر مزدور تک پیغام پہنچایا جائے وہ کسی کا غلام نہیں آزاد ہے۔ آئندہ سماعت تک یقینی بنایا جائے کہ ایک بھی جبری مشقت کا کیس باقی نہ رہے۔ کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔

You may also like

Leave a Comment