Home » میرے والد ایک تاریخ ساز شخص(1)

میرے والد ایک تاریخ ساز شخص(1)

by ONENEWS

میرے والد، ایک تاریخ ساز شخص(1)

ایک لکھاری کے لئے سب سے مشکل کام اپنے بارے میں لکھنا ہوتا ہے اس لئے کافی عرصہ سے میرے دل میں تھا کہ مرحوم والد صاحب کے بارے میں کچھ لکھ دوں، پھر سوچتا کہ وہ تو میرے اپنے ہی والد ہیں اور ان کے حق میں میری تحریری کو لوگ ایک بیٹے کی اپنے باپ کے بارے میں مبالغہ آرائی قرار دیں گے۔ آج والد صاحب کے بارے میں لکھنے کا ارادہ اس لئے کیا کہ آج دوستوں کے علاوہ دشمنوں کو بھی حقائق نظر آ چکے ہیں، تو پھر کیوں مجھ پر مبالغہ آرائی کا الزام لگے۔ ایک دن یہاں ایک اعلی سطحی غیر ملکی عہدیدار کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ بہت کھلے الفاظ میں بول رہا تھا، دوسروں کی طرح سیاسی گفتگو نہیں کر رہا تھا بلکہ بالکل واضح انداز میں بات کر رہا تھا۔ جب ہمارا تعارف ہوا تو اس نے کہا کہ ”مجھے اس پر فخر ہے کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوں کہ جنہوں نے تاریخ مرتب کی ہے۔ آپ کے دوست اور دشمن دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ حقانی خاندان ایک تاریخ ساز خاندان ہے۔“ یہ فخر ہمیں ہمارے عظیم والد صاحب اور دوسرے اکابرین جہاد نے بخشا ہے۔ کچھ لوگ میرے والد محترم کا نام سنتے ہی ڈر جاتے ہیں۔ اسی مناسبت سے بگرام جیل کا ایک واقعہ آپ کو بتاتا چلوں۔

میری گرفتاری کے بعد جیل میں مجھے کچھ دن بیت چکے تھے۔ میں 90 نمبر بیرک میں اکیلا تھا۔ سیکیورٹی حکام قیدیوں کو دھوکہ دینے کے لئے انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے کے نام پر سول کپڑوں میں اپنے اہلکاروں کو قیدیوں کے پاس بھیج دیتے۔ جن لوگوں پر ظلم ہوا ہوتا، ان سے ان کے حالات پوچھے جاتے۔ جو قیدی سیکیورٹی اہلکاروں کی شکایت کرتا اس پر دوسری مرتبہ پھر تشدد کیا جاتا اور شکایت کی سخت سزا دی جاتی۔ ایسا ہی ایک اہلکار ان بیرکوں میں گھومتا ہوا میرے پاس پہنچا۔ وہ مجھے جانتا نہیں تھا۔ اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ انس حقانی اس بیرک میں ہے۔ وہ میرے پاس بھی آیا۔ دروازہ آہستہ سے بند کیا۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر قلم نکالا کہا کہ آپ کا کوئی ایسا مسئلہ جو آپ ہمیں بتائیں؟

آپ کو آئے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں؟ آپ کوئی تشدد تو نہیں ہوا؟

میں سمجھ گیا یہ بھی جاسوس ہے۔ اور یہ غلطی سے میرے پاس آیا ہے اس لئے کہ اس طرح کے بہروپیئے میرے پاس نہیں آتے تھے۔ میں ہنس پڑا اور ان سے کہا کہ اگر مجھے کوئی مسئلہ ہو بھی تو آپ اسے حل نہیں کر سکیں گے۔ اس نے کہا آپ بتا دیں میں کوشش کروں گا۔ میں نے ان سے کہا کہ باقی باتیں چھوڑو بس اتنا کر لو کہ مجھے اپنے دوسرے دوستوں کے پاس بھیج دو، ہمیں کیوں علیحدہ رکھا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ کون ہے وہ میں نے کہا کہ حافظ رشید۔ کہا کہ آپ کا جرم کیا ہے؟ میں پھر ہنس پڑا اور کہا کہ جرم!؟ کہاں کہ ہاں …… جرم میں نے کہا: میں اپنے والد کے جرم کی پاداش میں گرفتار ہوا ہوں آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں؟ میں نے جواب دیا وہ تو امریکہ اور امریکہ کے غلاموں کے دشمن ہیں پوچھا کیا نام ہے ان کا؟ میں نے کہا جلال الدین حقانی۔ آپ یقین کریں جلال الدین حقانی کا نام سنتے ہی اس آدمی کا رنگ ایسے اڑا کہ جیسے کسی کی گردن پر تیز دھار تلوار رکھ دی جائے۔ سیدھا کھڑا ہو گیاا ور خوفزدہ ہو کر مجھے دیکھنے لگا۔ دروازے کی طرف اسی طرح ایڑیوں کے بل پیچھے گیا۔ دور ہی سے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں پیچھے سے ہی حملہ نہ کر دوں اور پلک جھپکنے میں غائب ہو گیا۔ اس واقعہ نے مجھے بہت ہنسایا۔ اس بات پر رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا کہ والد کے نام سے دین اور وطن کے دشمن کتنے ڈرتے ہیں کہ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے انس کو قید خانہ میں اکیلے ہی چھوڑ دیا۔

جب والد صاحب کی وفات کی خبر مشہور ہو گئی تو میں بگرام جیل کی واش روم نما بیرکوں میں تھا۔ امریکیوں نے مجھے خبر دینے کے لئے میرے ماموں حاجی ملک خان صاحب کو میرے پاس بھیجا۔ واقعہ تو کافی لمبا ہے، مجھے خبر دینے کے بعد امریکی کرنل نے کہا: اگر چہ حقانی ہمارا سخت ترین دشمن تھا اور ہمارے فوجی بھی انہوں نے بہت مارے ہیں لیکن ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ اپنے وطن کا سچا عاشق اور بہادر آدمی تھا۔ ہمیشہ اپنے وطن کے دفاع میں لڑا۔ وہ ایسا جنگجو تھا کہ کبھی بھی اپنے موقف اور پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔

والد صاحب کی زندگی میں عجیب و غریب چیزیں دیکھنے کو ملیں۔ ہمیں علمی تربیت دیتے تھے جب بھی ان سے ملنے جاتے تو ہمیں تلقین فرماتے کہ اگر آپ کے پاس علم ہوگا تو آپ حق اور باطل کو اور سیاہ سفید کو خوب سمجھ سکیں گے۔ ایک دن مجھ سے کہا کہ نوجوان جذباتی ہوتے ہیں، جنگ اور سیاست میں جلد بازی کرتے ہیں۔ ہاں دیکھو! افغانستان میں جب بھی سیاست کرنا چاہو تو موقع مل جائے گا لیکن علم کا وقت جوانی کا زمانہ ہے۔ آپ ایک مرتبہ تعلیم حاصل کریں پھر ہر کام آپ کے لئے آسان ہوگا، لیکن عہدوں اور منصبوں سے اپنے آپ کو دور رکھو۔ اس لئے کہ دنیا میں بڑے امتحان میں وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو منصب والے ہوتے ہیں۔ انہیں کافروں اور جابروں سے سخت نفرت تھی اور اپنے وطن کے لوگوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔ والد محترم فرمایا کرتے کہ عام لوگ کتنی بھی بڑی غلطی کریں، آپ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اگرچہ وہ آپ کے دوستوں یا اقارب کے قاتل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر اصلاح اور افہام و تفہیم سے بات ممکن ہو تو اپنے زخموں پر مرہم رکھ کر صبر کا دامن تھامیں اور اپنے لوگوں کو اپنا بنائیں۔

حملہ آوروں سے اتنی سخت عداوت تھی کہ ایک دن ہم چند افراد مغرب کے وقت ان کے پاس چلے گئے۔ وہ نماز پڑھ چکے تھے اور اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ سخت بیمار بھی تھے۔ خوب روئے۔ ایک دوست نے دلاسہ دیا اس دوران میں نے تکلیف کا سبب پوچھا۔ مرحوم والد صاحب نے کہا کہ روسیوں کو تو میں نے اپنے ہاتھوں سے مارا لیکن امریکیوں کو اپنے ہاتھوں سے نہ مار سکا۔ انہوں نے ہمارے لوگوں پر بہت ظلم ڈھایا ہے۔ ہمارے دین کی بے حرمتی کی ہے۔ اب اس پر روتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نکل جائیں اور میں داعی اجل کو لبیک کہوں اور ان کو مار کر اپنا دل کلیجہ ٹھنڈا نہ کر سکوں۔ بیٹھے ہوئے تمام افراد حیران رہ گئے۔ ایک دوست نے تسلی دینے کی غرض سے کہا کہ حاجی صاحب آپ ناراض مت ہوں، آپ کے حکم سے ہم نے اتنے حملہ آور مارے ہیں کہ اب ان کی گنتی مشکل ہو گئی ہے اور آپ تو اب بھی امریکی مار سکتے ہیں وہ اس طرح کہ ہم آپ کو کندھوں پر اٹھائیں اور آپ ان پر فائرنگ کریں۔ یہ بات سن کر بڑے خوش ہوئے اور ہنس پڑے۔ کہا کہ نہ تو مجھے منصب کا شوق ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی شوق، مزید فرمایا کہ آزادی کے دن بھی دیکھے ہیں۔ یہ دنیا دار لوگ مجھے کافروں کی بادشاہی کی پیش کش کر رہے تھے، لیکن ذلت کے اقدار سے مٹی کے بنے ہوئے ان کچے مکانوں میں زندگی گزارنے کو بہتر سمجھا۔ افغانستان کے مظلوم اور بے کس و بے سہارا عوام پر بہت دل دکھتا ہے۔ ان لوگوں نے بہت زیادہ تکلیفیں جھیلیں۔ یہ میری تمنا ہے یہ مظلوم قوم اسلامی نظام کے سائے تلے امن اور آرام کی زندگی بسر کرے اور ظالموں کے پنجوں سے آزاد ہو جائے۔(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment