0

میرے دوست کی زبان چینی ہے اور میں چینی نہیں جانتا

میرے دوست کی زبان چینی ہے اور میں چینی نہیں جانتا

میں چونکہ کوئی مذہبی سکالر نہیں ہوں اس لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ حدیث مشہور، متواتر اور عزیز ہے یا غریب اور ضعیف ہے کہ: ”علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے“…… اس چین کے بارے میں پہلے ہمارے ادیب اور شاعر بھی لکھا کرتے تھے کہ چلنا ہو تو چین کو چلئے۔ اب اہلِ عرب کی یہ مشکل آسان ہو گئی ہے کہ حصولِ علم کی خاطر ان کو اب چین تک کا دور دراز سفر طے نہیں کرنا پڑے گا اور نہ پاکستانی شاعروں اور نثر نگاروں کے دل میں یہ ارمان مچلیں گے کہ چین چلا جائے۔ اب CPEC نے یہ مشکل آسان کر دی ہے اور چین خود چل کر پاکستان میں آ گیا ہے۔ تحصیلِ علم و دانش کی جستجو میں اب چین کا مرکزی کردار، پاکستانی شاہراہوں اور شہروں میں آکر خود خیمہ زن ہو چکا ہے۔

ایک زمانہ تھا ہم جدید سول اینڈ ملٹری ٹیکنالوجی کے لئے مغرب کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے صدقے میں امریکہ دنیا کی ایک نئی سپرپاور بن گیا تھا۔1939ء میں جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو امریکہ کو کوئی پوچھتا تک نہیں تھا۔ اتحادیوں میں جرمنی کے خلاف اس وقت کے تین ”بڑے“ روس، برطانیہ اور فرانس شامل تھے اور ان سب کی افواج، امریکی سولجرز کو تُھڑدلے ٹروپس گردانتی تھیں۔ اوڈلف ہٹلر نے 1939-40ء میں پہلے برطانیہ اور فرانس کو شکست فاش دی، برطانیہ کو صرف اپنے چار جزائر (انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور آئر لینڈ) تک محدود کر دیا اور پھر 1941ء میں جرمن افواج روس پر چڑھ دوڑیں۔

روس کا مارشل سٹالن اول اول ہٹلر کے ساتھ اتحادی تھا لیکن پھر 22 جون 1941ء کو اس پر حملہ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماسکو کے دروازوں تک جا پہنچا…… اس کے بعد کیا ہوا، یہ تاریخ ہے۔ لیکن ان تین چار برسوں میں یعنی 1941ء سے لے کر 1944ء تک دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا…… ایک عالمِ نو تخلیق ہوا۔ جرمنی کو شکست ہوئی اور دوسرے محوری ملک جاپان پر جوہری بموں کے دو حملوں نے امریکی وار ٹیکنالوجی کی برتری پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ 14ستمبر 1945ء کو جب جاپان نے امریکی جنرل میکارتھر کے سامنے ایک وار شپ پر ہتھیار ڈال دیئے تو دنیا کے بڑے بڑے عسکری مورخ انگشت بدنداں رہ گئے۔

اس دوسری عالمی جنگ نے امریکہ کو دنیا کی ایک نئی طاقتور ترین قوم بنا دیا…… جرمنی، جاپان اور اٹلی تو شکست خوردہ محوری تھے، فاتح اتحادی فریقین میں روس، فرانس اور برطانیہ کی حیثیت بھی طفلِ مکتب کی رہ گئی۔ 1945ء کے بعد برطانیہ اور فرانس وغیرہ امریکی پتنگ کا دُم چھلہ بن گئے۔ روس نے اس جنگ میں جرمنی کے خلاف لڑتے ہوئے سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا اور اس کا ایک ایک گاؤں، قصبہ اور شہر برباد ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود وہی ایک ایسا ملک تھا جس نے امریکہ کی ہمہ جانبی عالمی برتری کو چیلنج کیا اور بالآخر دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور نہیں بلکہ روس بھی اس کا ہم پلہ ہے…… امریکہ کا نام چونکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) تھا اس لئے روس نے بھی اپنا نام ریاست ہائے متحدہ سوویٹ ری پبلکس (USSR) رکھ لیا۔ دنیا کے سارے ممالک 1945ء کے بعد ان دونوں سپرپاورز کے خوشہ چیں بن گئے۔ برطانیہ کو اپنے تمام سمندر پار مقبوضات سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اسی پراسس کے صدقے میں برصغیر بھی آزاد ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک عظیم مسلم ملک بن کر نمودار ہوا۔ اب یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ انڈیا اور پاکستان نو آزاد ممالک ہونے کی حیثیت میں ایک دوسرے کے دوست بنتے، ایک دوسرے کے دائمی دشمن بن گئے…… وہ دن اور آج کا دن یہ ”مساوات“ قائم ہے۔

پاکستان کو اپنا وجود جب انڈیا کے مقابلے میں ڈولتا محسوس ہوا تو اس نے 1950ء کے عشرے میں امریکہ کا دامن پکڑا جو ایک عظیم قوت بن چکا تھا۔ ہم امریکہ کے ساتھ SEATO اور CENTO معاہدوں میں منسلک ہو گئے لیکن امریکہ، پاکستان کو اپنا دم چھلہ سمجھتا رہا۔ جاپان کی شکست کے بعد پورے ایشیا میں کوئی ایسا ملک نہ تھا جو امریکہ اور سوویت یونین کی مساواتِ قوت (Power Equation) میں کوئی قابلِ ذکر عنصر بن کے سامنے آتا…… اس طاقتی خلا میں چین نے انگڑائی لی اور وہ جِن جو کئی صدیوں سے بوتل میں بند تھا، بوتل سے باہر نکل آیا…… اور ایسا نکلا کہ دونوں پاور بلاکوں (سوویٹ یونین اور امریکہ) کو حیران کر دیا۔

یہ تمام کچھ میں نے قارئین کی یاد دہانی کے لئے عرض کیا ہے۔ وگرنہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ اس دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں طاقت کا جو نیا توازن قائم ہوا اس میں امریکہ 1991ء کے بعد واحد سپریم پاور تو بن گیا لیکن اس کا سامنا ایک ایسی قوت سے ہوا جس نے نہ تو 20ویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں میں کوئی حصہ لیا تھا اور نہ اس سے پہلے سینکڑوں برس تک وہ کسی بڑے عالمی پاور بلاک کا حصہ رہا تھا…… اس کا نام چین ہے!

میں نے کالم کے آغاز میں لکھا تھا کہ چین، آج پاکستان میں آ گیا ہے۔ لیکن گزشتہ تفصیلی سطور کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قارئین کو بتایا جائے کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ بار بار دوستی کی اور بار بار فریب کھایا۔ انڈیا اب 73برسوں کے بعد وہی کر رہا ہے جو پاکستان نے کئی بار کیا تھا اور آپ دیکھیں گے کہ ان شاء اللہ امریکہ، بھارت کے ساتھ بھی وہی کرے گا جو وہ بار بار پاکستان کے ساتھ کر چکا ہے…… میں قارئین کی توجہ ایک ایسے پہلو کی طرف دلا رہا ہوں جو انتہائی اہم ہے اور اس کا ظہور یا مظاہرہ آج نہیں تو کل نوشتہ ء دیوار ہے۔

پاکستان اور چین اب ایک ہو چکے ہیں۔ مجھے پاکستان کا مستقبلِ قریب و بعید اب چین سے وابستہ نظر آ رہا ہے۔CPEC اور BRI نے اس وابستگی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان اب چین کا ذلّہ ربا یا دم چھلا بن جائے گا لیکن نظر آ رہا ہے کہ جوں جوں وقت گزرے گا، دونوں کی دوستی اٹوٹ انگ کی طرح مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے گی۔ جو شعبے کسی قوم یا ملک کو مضبوط بناتے ہیں ان کا تذکرہ کالم کی طوالت کا باعث ہو گا لیکن میں اتنا ضرور دیکھ رہا ہوں کہ آنے والے عشروں میں جس طرح چین کو پاکستان کی ضرورت ہو گی، اسی طرح پاکستان کو بھی چین کی احتیاج رہے گی…… لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ دوستی یا وابستگی کو تسلسل اور دوام بخشنے میں زبانوں کا حصہ کیا ہے۔ چین پاکستان کے غیر دفاعی میگا پراجیکٹوں میں حصہ لے رہا ہے اور پاکستان کے دفاع میں بھی اس کا ایک مرکزی کردار تعمیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری ائر فورس کو JF-17 کی، آرمی کو الخالد ٹینک کی اور نیوی کو بالائے آب اور زیرِ آب مختلف اقسام کے پلیٹ فارموں کے اگلے ایڈیشنوں کی ضرورت ہو گی۔ آپ دیکھیں گے کہ ہماری تینوں مسلح افواج کا سامانِ حرب و ضرب (Equipment) اور ان کے بھاری سلاحِ جنگ چین سے آیا کریں گے۔ میرا مطلب چین سے عسکری درآمدات کا نہیں بلکہ جس طرح JF-17 اور الخالد ٹینک اور وارشپس میں چین کی تکنیکی پاور پروفیشنل مہارتیں شامل ہیں، وہ چین اور پاکستان کی مشترکہ کاوشیں ہیں۔ ہم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ امریکہ نے اپنے F-16 طیارے کبھی پاکستان میں اسمبل کرنے کا اشارہ دیا؟ کیا اس نے ہمیں M-48،M-60 ٹینکوں وغیرہ کی ٹینک سازی کے لئے HIT(ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا) میں ان کی پروڈکشن کا کوئی ذکر کیا؟ کیا فرانس نے الخالد آبدوز کی طرح کی جن باقی دو آبدوزوں کو کراچی شپ یارڈ میں اسمبل اور پروڈیوس کرنے کا وعدہ کیا تھا،  وہ پورا کیا؟میرا خیال ہے ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے گزشتہ مغربی جنگی حلیفوں نے ہمیں اپنے دورِ جدید کا محتاج رکھا!

اور اگر آج چین پاکستان کی ترقی میں سول اور ملٹری میگا منصوبوں کی تکمیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس مین چینی زبان کا کتنا عمل دخل ہے۔

مستقبل قریب میں چین اور پاکستان کے درمیان سماجی روابط فروغ پانے کی رفتار اتنی تیز ہو گی کہ اس کے لئے زبان کا وسیلہ ضروری ہوگا۔ ہم نے اپنی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) میں صرف چند نشستیں اس زبان کی تحصیل کے لئے مختص کر رکھی ہیں۔ لیکن آنے والے ماہ و سال ایک دوسرے کی زبانوں کی تحصیل کے ضمن میں دونوں اقوام کے ادیبوں، فوجیوں، تاجروں، انجینئروں، سائنس دانوں، کاریگروں اور ہنرمندوں کی ایک پوری ایک ”فوج“ کی ضرورت ہو گی…… وہ فوج کہاں سے پیدا ہوگی؟

کورونا وائرس کے ایام میں ہمارے جو طلبا چین کے شہروں میں پھنس گئے تھے، وہ اب واپس آ چکے ہیں۔ کیا ہمارے میڈیا نے ان کو کسی ٹاک شوز میں بلا کر یہ سوال کیا ہے کہ ان کو چین کے دورانِ قیام میں کن کن لسانی مشکلات کا سامناہوا ہے۔ ہم فی الحال انگریزی زبان کو چین اور پاکستان کے درمیان رابطے کی زبان سمجھ  رہے ہیں۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ چینی لوگ، ہماری طرح انگریزی زبان پر وہ دسترس نہیں رکھتے جو ہمارے طلباء اور طالبات کو حاصل ہے۔

سٹینڈرڈ چینی زبان انگریزی کے بعد دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے…… یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لکھنے اور بولنے کی بہت ضرورت ہے۔ کیا چینی زبان کو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے پرائمری کلاس کے لیول پر شروع کر سکتے ہیں؟…… کیا پاکستانی طالب علم بیک وقت دو غیر ملکی زبانوں (انگریزی اور چینی) سیکھ سکیں گے؟…… کیا کے پی،سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے سکولوں میں ان زبانوں کی سکھلائی اور تدریس ممکن ہو گی؟…… پاکستان کی وزارت تعلیم کو ان سوالوں پر سوچنے اور ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرکے اس لسانی مسئلے کا حل اور اس کا روڈمیپ وضع کرنا ضروری ہے…… ماہرین لسانیات سے میری درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستانی آبادی کے سوادِ اعظم کو اپنی آراء اور تجاویز سے مطلع کریں۔ میڈیا کو اس موضوع پر ٹاک شوز کے ایک ریگولر سلسلے کی ضرورت ہے۔ اگلے دو چار برسوں میں زبانِ یارِ من ترکی نہیں، چینی ہو گی اور اس زبان کو اپنے دہان میں یکجا کرنے کے لئے ہمیں ابھی سے پاکستانی اور چینی ”دہانوں“ (Mouths) کو قریب تر لانے کی شاعرانہ بلکہ عاشقانہ کوشش کرنا ہو گی۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں