Home » میرٹ کی بالا دستی کا دعویٰ اور اعتماد کا فقدان

میرٹ کی بالا دستی کا دعویٰ اور اعتماد کا فقدان

by ONENEWS

میرٹ کی بالا دستی کا دعویٰ اور اعتماد کا فقدان

پنجاب کے نئے آئی جی انعام غنی بدھ کے روز اپنے خلاف پولیس فورس سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے اٹھائی جانے والی گرد کے باوجود اپنے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں۔ اسی طرح لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ بھی پنجاب کے اعلیٰ پولیس افسروں کے اپنے خلاف سامنے آنے والے بیانات اور ریمارکس کو پر کاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دیتے ہوئے انعام غنی کے ہمرکاب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ  پہلے آئی جی پولیس کے محکمے میں ایک اعلیٰ و ارفع روایت قائم کر کے خاموشی سے اپنے عہدے سے الگ ہو چکے ہیں اطلاعات کے مطابق انہیں سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول بورڈ لگایا گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکمران اس قدر متلون مزاج کیوں واقع ہوئے ہیں کہ کسی اچھے بھلے چلتے چلاتے سسٹم کو اپنے ہاتھوں ڈسٹرب کر کے رکھ دینے میں ذرا بھی نہیں چوکتے۔ اس رویئے کو ضد یا ہٹ دھرمی پر معمول کیا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ شاید ہم 72/73 سال گزر جانے کے باوجود بھی سیاسی، فکری اور شعوری طور پر، بالغ نہیں ہو سکے۔ محض دو سال کے عرصے میں اکھاڑ پچھاڑ کی ایسی تاریخ رقم کی گئی ہے کہ اسے خندہ استہزا سے بھی نہیں لیا جا سکتا۔ صوبے کا چیف سیکرٹری ہو یا آئی جی یا دوسرے اعلیٰ سرکاری افسران انہیں بیک جنبش قلم ادھر ادھر کر دینے میں موجودہ حکومت کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ ستم بالائے ستم ملاحظہ ہو کہ وطن عزیز کو ریاست مدینہ بنانے کی کوشش میں سرگرداں اور میرٹ کی بالا دستی کے علمبردار، خود مذکورہ حوالوں سے کس قدر کمزور وکٹ پر ہیں، اسے دیکھ کر کپتان کا فتح یاب ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

شعیب دستگیر سے عمر شیخ کے اختلافات سامنے آنے پر کوئی عزت کا راستہ نکالنے کی بجائے انہیں نہ صرف گھر جانے پر مجبور کر دیا گیا بلکہ نئے آئی جی کا تقرر کرتے وقت بھی صوبے میں موجود ان سے سینئر افسروں کے مخالفانہ رد عمل کی پرواہ نہیں کی گئی۔ واضغ رہے کہ منگل کے روز جناب شعیب دستگیر اور عمر شیخ کے تنازعے کے حوالے سے سنٹرل پولیس آفس لاہور میں چون سینئر موسٹ پی ایس پی افسران نے سابق آئی جی کے سا تھ  اظہار ہمدردی کیا ہے اور یہ امر بھی لائق فکر ہے کہ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سردار علی خان ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر ایڈیشنل آئی جی آپریشنز ذوالفقار حمید بھی شامل تھے اس اجلاس میں سی سی پی او عمر شیخ کو اعلیٰ افسران نے یہ کہہ کر کمرے سے نکال دیا کہ آپ کا موقف آ چکا ہے بعد میں آپ کو بلائیں گے۔ اسی طرح ایک اور انتہائی نیک نام اور میرٹ کی بالا دستی پر محکم یقین رکھنے والے ایڈیشنل آئی جی فنانس جناب طارق مسعود یاسین نے اپنے جونیئر افسر کے ماتحت کام کرنے سے سرے سے انکار کر دیا ہے۔ ایک طرف پولیس فورس میں نئے آئی جی اور سی سی پی او کے حوالے سے پائے جاتے بعض تحفظات اور دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں بالخصوص (ن) لیگ کے خدشات غور و فکر کرنے والے حلقے معمول کا طرز عمل قرار نہیں دے سکتے۔ موجودہ اکھاڑ پچھاڑ نے ملکی فضا کو جس قدر مکدر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا۔

مزید افسوس اس بات کا ہے کہ نئے آئی جی جناب انعام غنی ”سب اچھا ہے“ کا تاثر مسلسل دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ حکومت نے اپنے ایک مشیر داخلہ کی سفارش پر اتنا بڑا اعلیٰ افسر کس طرح تبدیل کرنا گوارہ کر لیا واضع رہے کہ یہ الزام (ن) لیگ کی اعلیٰ قیادت کا عائد کردہ ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ حکومت پولیس فورس کو اپنی جیب کی گھڑی اور گھر کی لونڈی بنانا چاہتی ہے یہ الزام اگر درست تسلیم نہ بھی کیا جائے تو بھی جناب انعام غنی پر خود اعلیٰ پولیس افسروں کی طرف سے عائد کئے جانے والے سنگین الزامات کا جواب سامنے آنا کس قدر ضروری ہے یہ انعام غنی بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ اسی طرح حکومت بھی مذکوہ بالا الزام کا جواب دینے کی مکلف اور پابند ہے کیونکہ جس طرح محترمہ مریم نواز شریف کی نیب میں ایک سابقہ پیشی کے دوران جو واقعات رو نما ہوئے اپوزیشن سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ اسے بالکل دیوار کے ساتھ لگانے بلکہ بند گلی میں دھکیلنے کے لئے عمر شیخ اور ایک جونیئر کو آئی جی لگایا گیا ہے۔ حکومت نے یہ قطعاً نہیں سوچا کہ پولیس کا محکمہ ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے جس میں ملک کے افواج پاکستان کے ادارے کی طرح ایک چین آف کمانڈ ہوتی ہے ٹرانسفر پوسٹنگ اس کے کمانڈر کا حق ہے۔

یہ تسلیم کہ چیف منسٹر سی سی پی او کا تقرر کرتا ہے مگر سی سی پی او اپنے ماتحت افسروں کو محض اپنے احکامات پر عملدرآمد کا پابند اور مکلف بنا دے تو جناب شعیب دستگیر نے تو اپنی اہانت محسوس کرنا ہی تھی جس پولیس سربراہ کی تعریف حکمران کرتے نہیں تھکتے تھے اسے نئی تعیناتیوں کے حوالے سے اعتماد میں لینا بھی ضروری نہ سمجھا۔ اس سے نچلے افسروں میں مایوسی اور بددلی پھیلنے کو کس طرح روکا جا سکتا ہے اور اسی طرح اپوزیشن کو مطعون کس طرح کیا جا سکتا ہے کیونکہ حکومت کے ہر اعلیٰ و ادنیٰ اہلکار کی مخالفانہ تان ہی اس کے خلاف اٹھتی ہے۔ اسے شعوری طورپر یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران  عوام کی حالت کس حد تک بدتر ہوئی ہے۔ مقتدر اور بالا دست حلقوں کا تعاون کب تک برقرار اور قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غریب عوام لولی پاپ کتنی دیر برداشت کر سکتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ اگر حکمران صوبوں میں آئے روز اکھاڑ پچھاڑ اور اپوزیشن کو رگیدنے کی بجائے عوام الناس کو کچھ نہ کچھ ہی  ڈلیور کرنے کی استعداد کو بروئے کار لاتے تو آج عوام کی حالت قدرے نہیں بلکہ بہت حد تک بہتر ہوتی مگر افسوس کہ عمران خان محترم میاں محمد نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری ہی کو ہر برائی اور غلطی کا ذمہ دار قرار دینے میں وقت ضائع کرتے رہے۔ بد عنوانیوں کے محض الزامات مگر حاصل وصول ندارد۔ آج بھی بدقسمتی سے ان کا کہنا یہی ہے کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا لیکن جناب! عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان سے آپ نے نکلوایا تو آج تک کچھ نہیں آئندہ آپ کیا کر لیں گے؟ جہاں تک محکمہ پولیس کے حالیہ واقعات کے ظہور کا تعلق ہے حکمران اپوزیشن کے اس دعوے کا انسداد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ ایسا محض ان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کے روز مشیر داخلہ جناب شہزاد اکبر کے ساتھ لاہور کے نئے سی سی پی او عمر شیخ کی جو تصویر شائع ہوئی ہے اس سے ان کا تابعدارانہ رویہ کھل کر ظاہر ہوا ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح وقت کے سی سی پی او کی تصویر وقت کے وزیر اعلیٰ کے قدموں میں بیٹھے ہوئے چھپ چکی ہے اس سے  مخالفین کو یہی پیغام جاتا ہے کہ ہم حکمرانوں کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں پولیس ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے جو بدقسمتی سے اپنے قیام سے آج تک انتہائی متازع بنا رہا ہے۔ عوام اس فورس سے جس قدر نالاں ہیں اخبارات میں آئے روز اس حوالے سے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جس قدر کرپشن سے اس کے ہاتھ لتھڑے ہوئے ہیں حکمرانوں کو شاید اس کا اندازہ نہیں۔ کسی بھی دوسرے محکمے کی نسبت پولیس کے خلاف آنے والی شکایت سب سے زیادہ ہوتی ہیں حالانکہ پولیس کا انفا سٹرکچر بھی ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہو چکا ہے۔ وسائل کی بھی کمی نہیں اس کے علاوہ کئی کئی فورسز مثلاً ڈولفن، ایلیٹ، کوئیک رسپانس فورنس پٹرولنگ پولس وغیرہ وغیرہ بن چکی ہیں لیکن نہ کرائم ریٹ کم ہو سکا  اور نہ ہی غریب عوام کی شنوائی کا کبھی یکسوئی کے ساتھ اہتمام ہوا ہے۔ نہ ڈکیتیاں۔ چوریاں، رہزنی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے اور نہ ہی گلیوں، محلوں بلکہ اہم شاہرات پر خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکا ہے۔ لاہور، سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور گجر پورہ لاہور میں ایسے واقعات تازہ مثال ہیں۔ ہم اور تو کچھ کر نہیں سکتے محض دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خدائے بزرگ و برتر حکمرانوں کو قومی اور ملکی مفادت کے حوالے سے اعلیٰ و ارفع فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کاش! میرٹ کی بالا دستی کے مدعی حکمرانوں میں اعتماد کے فقدان میں کمی واقع ہو سکے کاش اے کاش!!!

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment