0

میاں صاحب کی تصویر

میاں نواز شریف کی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر آئے تو فوراً وائرل ہو جاتی ہے۔ اس سے ان کی عوام میں مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اہل ِ خانہ کے ساتھ چائے پیتے یا چہل قدمی کرتے ہوئے ایک عام سی تصویر سے بھی پورے ملک میں زلزلہ برپا ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم اور وزیروں مشیروں سمیت تمام حکومت میاں صاحب کی بیماری پرزہر آلود تبصرے کرنا شروع  کر دیتی ہے اور دنوں تک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رہتی ہے۔ صرف تصویر سے کرب کا یہ عالم ہو تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر وہ خود عوام کے درمیان میں موجود ہوں تو ان کے سیا سی مخالفین کا کیا حال ہو گا۔ کیا کوئی وزیر اور مشیر بتا سکتا ہے کہ ایک بیمار شخص چائے نہیں پی سکتا یا اپنے بچوں کے ساتھ ہلکی واک نہیں کر سکتا؟ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خوف اور نفرت کا یہ عالم ہے کہ کچھ لوگ میاں صاحب کو خدانخواستہ آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر دیکھنا چاہتے تھے، لیکن کرسی پر بیٹھے یا اپنے قدموں کھڑا دیکھ کر ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ پچھلے سال بیگم کلثوم نواز شریف کی بیماری پربھی یہ لوگ اسی طرح مذاق اڑایا اور انسانیت سے گرے ہوئے توہین و تذلیل آمیز تبصرے کیا کرتے تھے۔ اس وقت میاں صاحب اور مریم بی بی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند تھے اور انہیں بیگم صاحبہ سے متعدد درخواستوں کے باوجود ایک آخری دفعہ بات بھی نہیں کرائی گئی تھی۔یہ تمام باتیں تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہو چکی ہیں۔ کسی شخص کی بیماری کا مذاق اڑانا، تذلیل کرنا اور اس کے مرنے کی خواہش کرنا انسانیت کا کون سا درجہ ہے۔

اسی طرح کے حالات ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے اہل خانہ کو بھی پیش آئے تھے، لیکن اس وقت ملک میں فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت تھی۔ اب تو بظاہر ایک سیاسی جماعت کی حکومت ہے تو وہ ایک سیاسی شخصیت سے اس قدر خائف کیوں ہے کہ سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر سیاسی پراپیگنڈے کا سہارا لیتی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے لئے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے، اب دو سال کی حکومت کے بعد وہ ایکسپوژ ہو چکی ہے کہ وہ وعدے اور دعوے پورے نہیں کر سکتی اور صفر کارکردگی کو چھپانے کے لئے لوگوں کی توجہ نان ایشوز میں اُلجھائے رکھنے کے علاوہ اس کے پاس فیس سیونگ کے لئے کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت ہماری تاریخ کی پہلی حکومت ہے جسے کسی بھی ادارے کی طرف سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، بلکہ فوج اور عدلیہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کو ان اداروں کے ساتھ مستقل طور پر مسائل اور الجھاؤ کا سامنا رہتا تھا، جس حکومت کی پشت پر اہم ترین ادارے ہوں اور جس کی اپوزیشن تقسیم کا شکار ہو اور اہم راہنما بیماری اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہوں، اگر اہلیت ہو توحکومت یکسو ہو کر اپنی تمام توانائیاں اچھی کارکردگی دکھانے پر صرف کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت لاڈلی ہونے کے باوجود اگر کارکردگی دکھانے میں مسلسل ناکام ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ اس میں اہلیت ہی نہیں ہے اور اس کے دکھائے تمام خواب محض سبز باغ تھے۔

دو سال مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے 208 صفحات کی ایک کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے، لیکن وہ اتنی غیر متاثر کن ہے جو اسے مزید ایکسپوژ کرتی ہے کہ وہ واقعی ایک ناکام حکومت ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے آنے کے بعد سے حکومتی وزیر اور مشیر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر با جماعت پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں، جن میں کھوکھلی باتیں کی جاتی ہیں۔ مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی کے مصداق یہ حکومت اپنی ”کارکردگی“ کے بارے میں جتنا بولتی ہے اتنا ہی اس کی نا اہلی مزید کھل کر سامنے آتی جاتی ہے۔لوگوں کی توجہ ہٹانے (diversions) سے حکومتیں کامیاب نہیں ہوا کرتیں، کارکردگی دکھانے اور عوام کو سہولتیں پہنچانے سے کامیاب ہوتی ہیں۔اسی طرح حکومت کی کامیابی کا پیمانہ گراؤنڈ (زمین)پرہے، ٹویٹر یا کوئی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نہیں، جہاں ان کے حمائتیوں کی فوج ظفر موج دن رات پراپیگنڈے میں لگی رہے۔ اگر ہٹلر اور گوئبلز کے زمانے میں سوشل میڈیا ہوتا تو نہ جانے ان کا پراپیگنڈا اور کتنا زیادہ موثر ہوتا۔

مشیر برائے احتساب اور داخلہ مرزا شہزاد اکبر نیب عدالتوں میں کوئی کارکردگی دکھانے میں اب تک ناکام رہے ہیں، کیونکہ نیب کی عدالتوں میں اکثر مقدمات میں کھنچائی ہوتی رہتی ہے۔ پراسیکیوشن کمزور ہونے اور عدالتوں میں ہزیمت اٹھانے کے بعد وہ عموماً پریس کانفرنسوں کے ذریعہ اپنی خفت مٹاتے اور پراپیگنڈا کرتے نظر آتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی ایک حالیہ تصویر پر انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں میاں صاحب کا ویسا ہی میڈیا ٹرائل کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی انہیں عادت (اور مجبوری) ہے۔ میاں نواز شریف کی تصویر پر انہوں نے تبصرہ کیا ہے کہ وہ بالکل صحت مند ہیں۔ اگر ایک بیرسٹر صاحب صرف تصویر دیکھ کر تشخیص کرنے پر قدرت رکھتے ہوں تو دنیا کے تمام ڈاکٹروں کو ڈاکٹری چھوڑ دینی چاہئے اور مریضوں کی تشخیص اورمعالجہ کا کام مرزا شہزاد اکبر جیسے بیرسٹروں کے حوالہ کر دینا چاہئے۔کون نہیں جانتا کہ برطانیہ ان ممالک میں شامل ہے، جو کرونا کی وبا میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور جہاں کا نظام صحت چھ ماہ تک مکمل مفلوج رہا۔

مشیر احتساب نے نہ صرف مضحکہ خیز میڈیکل تشخیص کی ہے، بلکہ ازخود میاں صاحب کے لئے ”اشتہاری“ کا لفظ استعمال کرکے توہین عدالت کے مرتکب بھی ہوئے ہیں اور عدالت کو مرزا شہزاد اکبر کے اس بیان کا ضرور نوٹس لینا چاہئے۔ میاں نواز شریف‘ عدالت کے حکم اور اس کے بعد وزیراعظم کی زیر سربراہی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد علاج کے لئے برطانیہ گئے تھے۔ میاں نواز شریف کے باہر جانے کی اجازت وزیراعظم عمران خان نے خودمرحمت فرمائی اور کہا تھا کہ انہوں نے اپنے میڈیکل ذرائع سے پورے کیس کی اچھی طرح تسلی کر لی ہے۔ اگر میاں صاحب کا علاج کے لئے جانا بقول مشیر احتساب عدالت کے منہ پر طمانچہ ہے تو وزیراعظم عمران خان کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں۔ مرزا شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی واپسی کے لئے حکومت برطانیہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ حکومت پاکستان نے 2 مارچ کو برطانوی حکومت کو حوالگی (extradition) کے لئے خط لکھا تھا جو چھ ماہ سے برطانیہ کی طرف سے جواب کا منتظر ہے۔ اگر حوالگی ممکن ہوتی تو ان چھ ماہ میں ہو چکی ہوتی یا اس پر کوئی پیش رفت ہوئی ہوتی۔چھ ماہ سے حکومت برطانیہ کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حوالگی کی کسی درخواست کی قبولیت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

مرزا شہزاد اکبر پاکستان اور برطانیہ دونوں ملکوں میں بیرسٹر ہیں اور متعلقہ قوانین بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ایک ہائی پروفائل کیس میں extradition ممکن نہیں، لیکن صرف بیان بازی، لوگوں کی توجہ ہٹانے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے وہ ایسے غیر حقیقی دعوے کر رہے ہیں۔ اگر بات میں وزن ہوتا تو وہ حکومت برطانیہ کی بجائے انٹرپول سے رابطہ کرتے۔ مرزا شہزاد اکبر جیسے بیانات وفاقی اور صوبائی وزرا فواد چودھری، شبلی فراز، فیاض الحسن چوہان وغیرہ دیتے رہتے ہیں، کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے ان کی یہی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کی نوکری بھی اپنے زہرمیں بجھے ٹویٹس کی وجہ سے قائم ہے۔

کسی بیمار شخص کی بیماری پر سیاست کرنے سے پی ٹی آئی حکومت صحت مند سیاسی روایات قائم نہیں کر رہی۔ گذشتہ سال بیگم کلثوم نواز کی رحلت کے بعد انہیں یہ سبق سیکھ لینا چاہئے تھا کہ سیاست سے پہلے انسانیت، اخلاقیات اور اعلی سیاسی اقدار ہوتی ہیں۔ میاں صاحب کے بیمار ہونے کی تصدیق حکومت میں شامل ڈاکٹروں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اورموجودہ وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے خود کی تھی۔ ان وزیروں اور مشیروں کو بیماری پر سیاست کرنے کی بجائے اپنی حکومت میں شامل ان ڈاکٹروں سے پوچھنا چاہئے، جنہوں نے بیماری کے انتہائی سنگین ہونے کی تصدیق کی تھی، اس ضمن میں جو میڈیکل بورڈ بنائے گئے تھے وہ بھی محکمہ صحت پنجاب کے ماتحت تھے۔ سب کچھ وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ اور حکومت کی مرضی سے ان کی اپنی نگرانی میں ہوا تھا، اس لئے دشنام طرازی اور سیاسی قلابازیوں کی بجائے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیروں مشیروں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں