Home » میاواکی درختوں کی کاشت

میاواکی درختوں کی کاشت

by ONENEWS

میاواکی درختوں کی کاشت

کل (10فروری) کسی اخبار کی ایک خبر پڑھ کر دل ’باغ باغ‘ ہو گیا۔ خبریہ تھی کہ آنے والے کل (12فروری) میں وزیراعظم عمران خان لاہور کے جیلانی پارک میں میاواکی درختوں کی کاشت کا افتتاح کر رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے میڈیا (پرنٹ ہو کہ الیکٹرانک) کی بیشتر سیاسی خبریں دل کا باغ اجاڑ رہی ہیں لہٰذا اس خبر نے واقعی قلب و نظر کی خزاں دیدہ کھیتی کو چمنستان بنا دیا۔ لیکن لفظ ”میاواکی“ کو پڑھ کر کچھ حیرت ہوئی کہ یہ کیسا درخت ہے جس کا نام اب تک نظر سے نہیں گزرا۔ میں بچپن سے سبزہ و گل میں پروان چڑھا ہوں (اس کی کچھ تفصیل آگے چل کر) لیکن اس درخت کا نام عجیب و غریب تھا۔

ایک طویل عرصے سے روزنامہ ’ڈان‘ کے اتوار ایڈیشن میں زہرہ ناصر صاحبہ ’باغبانی‘ پر ایک مضمون لکھ رہی ہیں جس میں مختلف درختوں، پودوں، جھاڑیوں اور ثمردار اشجار کی اقسام، ان کی نشوونما، ان کی کاشت اور ان کی بیماریوں اور علاج وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔ ملک بھر کے مختلف حصوں سے خواتین و حضرات اپنے اپنے ’کچن گارڈن‘ کے سلسلے میں ناصرہ سے رہنمائی لیتے ہیں۔(میں خود بھی ان میں شامل ہوں) لیکن میاواکی نام کے پودے یا درخت کا نام کبھی ان کے مضمون میں بھی پڑھنے کو نہیں ملا…… خبر کی تفصیل پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک جاپانی باغبان کا نام ہے۔ اس کا پورا نام آکیرا میاواکی (Akira Miawaki) ہے۔ جاپانیوں میں اوسط عمر ویسے بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ میاواکی کی عمر بھی 93برس ہو چکی ہے۔ لیکن اس نے اس نئے درخت کی کاشتکاری کا جو طریقہ دریافت کیا ہے وہ اس کے نام کو دوام عطا کرے گا۔ جس طرح ٹیوٹا، ہونڈا، مزدا اور سوزوکی کے نام کاروں اور موٹرگاڑیوں کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں، اسی طرح میاواکی کا نام بھی اپنی اس شجر کاری کی نئی قسم اور تکنیک کی وجہ سے زندہ رہے گا۔

جیسا کہ جواد قریشی صاحب ڈی جی پی ایچ اے (پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی) نے خبر میں بتایا کہ میاواکی کی ساری عمر ’درخت اور بیج‘ کی سیاحی میں گزر گئی ہے اور آج ساری دنیا اس کے نام سے آشنا ہے۔ اس کے طریقہ ء شجر کاری کے طفیل نہ صرف یہ کہ پودے / درخت کی نشوونما عام پودوں / درختوں کے مقابلے میں 10گنا زیادہ ہے بلکہ ان پودوں کا جھاڑ جھنکار بھی دوسرے پودوں کی نسبت 30گنا زیادہ ہے!…… یہ حیرت انگیز بلکہ ناقابل یقین معلومات تھیں!!

جواد قریشی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس میاواکی طریقہ ء شجر کاری کے تجربے کے لئے لاہور بھر میں 51ایسی جگہیں مختص اور تلاش کر لی گئی ہیں جن میں یہ درخت اُگائے جائیں گے۔ یہ 51مقامات لاہور کے مختلف علاقوں میں ہیں لیکن ان میں لاہور کینٹ کا کوئی گوشہ ء زمین شامل نہیں۔ دراصل کینٹ میں شجرکاری کا ایک اپنا الگ محکمہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اب وہاں بھی میاواکی تجربات کی آمد آمد ہو گی۔ ویسے بھی یہ موسم بہار کا آغاز ہے۔ اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو کچھ بعید نہیں کہ چند برسوں میں ہمارے بچپن کا وہ شعر زندۂ جاوید ہو جائے جو یہ تھا:

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

لاہور کے جن 51مقامات پر یہ درخت کاشت کئے جائیں گے ان میں شجر کاری کا تناسب 1125پودے فی کنال ہوگا۔ اس طریقے کے تجربات کئی دوسرے ملکوں میں آزمائے جا چکے ہیں جن میں اٹلی، فرانس، سپین، انڈیا، سری لنکا اور ملائیشیا شامل ہیں۔ مجھے یاد ہے 1960ء کے عشرے میں جب اسلام آباد، پاکستان کا نیا دارالحکومت بن رہا تھا تو اس کی شجر کاری کے لئے ایک آرمی آفیسر کو خصوصی طور سے آسٹریلیا اور دوسرے کئی ممالک (انڈونیشیا، اٹلی وغیرہ) میں بھیجا گیا تھا اور وہاں سے ایسے پودے، بیج اور پنیریاں لائی گئی تھیں جن کی نشوونما (Growth) پاکستان کے روائتی درختوں سے 5،7 گنا زیادہ تھی۔ اور واقعی ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد میں ’گرین بیلٹوں‘ کا جال بچھ گیا۔ ان میں سب سے زیادہ تیز نشوونما ’جنگلی شہتوت‘ (Wild Mulburry) کی تھی۔ اس شہتوت کا پھل میٹھا نہیں ہوتا تھا لیکن شہتوت اتنی کثرت سے اس پر لگتا تھا کہ اس کی ڈالیاں اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

لیکن وائے افسوس یہ جنگلی شہتوت بعد میں (بالخصوص 1980ء اور 1990ء) کے عشروں میں ایک ایسی الرجی کا باعث ہوا جو زکام سے شروع ہو کر تیز بخار اور کھانسی میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ جب ہر سال اس الرجی سے اموات کا سلسلہ شروع ہو تو اس درخت کو اسلام آباد۔ راولپنڈی کے باغات اور سڑکوں کی اطراف سے کاٹ کر پھینکنا پڑا۔ تاہم اس کی باقیات آج بھی اسلام آباد میں پائی جاتی ہیں اور آج بھی موسم بہار میں اس کی پولن الرجی جان لیوا بیماری کا باعث بنتی ہے۔ برسبیلِ تذکرہ GHQ میں 12 برس کی مسلسل ملازمت کے بعد میرا ارادہ بھی راولپنڈی میں Settleہونے کا تھا لیکن مجھے بھی پولن الرجی کے متعدد اور مسلسل حملوں نے مجبور کیا کہ اسلام آباد سے لاہور کا رخ کروں۔ جہاں راولپنڈی میں 1998ء تک مجھے ہر دوسرے تیسرے ماہ یہ الرجی آن گھیرتی تھی اور تقریباً دو تین ہفتوں کے لئے صاحبِ فراش کر دیتی تھی وہاں جب مارچ 1999ء میں لاہور شفٹ ہوا تو اس الرجی کا نام و نشان مٹ گیا!…… الحمدللہ……

لاہور کی پارکس اور ہارٹی کلچر اتھارٹی کے اربابِ اختیار کو میاواکی پودوں کی تیز رفتار نشوونما میں اس بات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے کہ ان درختوں کے Aftter-Effects بھی آسٹریلیا سے لائے گئے جنگلی شہتوتوں کی مانند نہ ہوں۔ جن ممالک نے ان کی کاشت کا تجربہ کیا ہے وہاں سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے درختوں کی پنیری کاشت کرنے کے بعد جب پودے سے درخت بنتی ہے تو اس کا پولن انسانی صحت پر کس طرح کے مضر اثرات چھوڑتا ہے۔

میاواکی درخت کی کاشت کے لئے جو زمین تیار کی جاتی ہے، اس تیاری کو سات مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے…… اول یہ کہ جس جگہ اس کو کاشت کرنا ہو وہاں سے تین تین فٹ مٹی کھود کر باہر پھینک دی جائے…… دوم اس کھدائی میں دو دو فٹ نہری بَھل ڈالی جائے…… سوم اس بھل کے اوپر چار چار انچ  فارمی کھاد بکھیری جائے…… چہارم مکی یا چاول کا بھوسہ اس کے اوپر ڈالا جائے…… پنجم پنیری لگائی جائے…… ششم آبیاری کی جائے اور …… ہفتم گھاس پھونس کی صفائی کی جائے۔

ان سات مراحل کا میں ذاتی طور پر کئی بار تجربہ کر چکا ہوں …… پہلی بار یہ تجربہ خضدار میں کیا تھا اور انگور کا باغ (ایک کنال) صحن میں لگایا تھا جس کے اثرات بہت حوصلہ افزا تھے۔ دوسری بار ایبٹ آباد میں مری روڈ پر آرمی کی طرف سے الاٹ شدہ گھر کے 15مرلہ صحن میں سبزیاں کاشت کیں اور یہ تجربہ بھی کامیاب ہوا۔ تیسری بار کوئٹہ میں جو تجربہ کیا، وہ قابلِ ذکر ہے۔

1982ء میں میری پوسٹنگ کوئٹہ کے ایک انفنٹری ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں ہوئی اور جو گھر الاٹ ہوا (47/2 چلتن روڈ، نزد پانی تقسیم چوک) اس کے پچھواڑے میں دو کنال زمین خالی تھی۔ لیکن اس میں چھوٹے بڑے پتھروں کی آمیزش اس قدر زیادہ تھی کہ گھاس تک نہیں اگتی تھی۔ جیسے کہ میری عادت ہے،کوئٹہ آکر دوستوں سے دریافت کیا کہ کوئٹہ کے اردگرد کون کون سے مقامات قابلِ دید ہیں۔ ان میں حنا لیک (جھیل) اور اوڑک کے سیب کے باغات کا بہت چرچا تھا۔ ان دنوں میرے پاس ویسپا سکوٹر ہوتا تھا۔ بچے ابھی ایبٹ آباد ہی میں تھے۔ چنانچہ ایک دن میں نے سکوٹر کو کِک لگائی اور حنا جھیل جا پہنچا۔ آج کل تو یہ جھیل شاید سوکھ گئی ہے لیکن ان ایام میں بھری پُری تھی، وہاں سے نکل کر دو تین میل آگے گیا تو اوڑک کے باغات آئے…… کیا قابلِ دید منظر تھا!

…… میں دیر تک درختوں پر لگے سیب دیکھتا اور لطف لیتا رہا۔ چونکہ فارسی اور پشتو بول چال سے کافی ’یارانہ‘ تھا اس لئے ایک بابا سے ہمکلام ہوا جو ایک چشمے کے کنارے بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس سنگلاخ زمین میں سیبوں کے باغات کیسے لگاتے ہو؟…… اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ میں وہاں پہنچا تو 15مرلے کا ایک چوکور قطعہء زمین تھا جو 5فٹ گہر کھودا ہوا تھا اور اس کے پتھر اس کے کناروں پر پڑے تھے۔ میں نے وہاں بیٹھے دو تین لوگوں سے پوچھا کہ یہ اتنا بڑا گڑھا کیوں کھود رکھا ہے؟ وہ سن کر ہنسنے لگے اور بتایا کہ یہ سیب لگانے کے لئے کھودا گیا ہے۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ پہلے زمین کو 5فٹ کھود کر ایک گڑھا بناتے ہیں۔ پھر اس کو ایک موسم گرما تک کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر نزدیک کے نالے سے بھل لے کر اس میں ڈالتے ہیں اور (فلاں فلاں جگہ سے) پنیری لگا کر 5برس تک اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور یہ جو ہر طرف باغ نظر آتا ہے، یہ اس طرح لگایا گیا تھا۔ یہاں پہاڑ کی قربت کی وجہ سے چشموں کی بہتات ہے…… میں جب یہ سب داستان سن کر واپس گھر آیا تو گھر کے پچھواڑے کی دو کنال پتھریلی زمین نگاہوں تلے پھیل گئی اور اوڑک کے باغات کا سارا سسٹم بھی عملدرآمد پر اکسانے لگا۔

وہاں کوئٹہ میں لاہور کا ایک SDO اری گیشن (چودھری نور محمد) میر واقف تھا۔ اس کو فون کیا اور اگلے روز بل ڈوزر منگوا کر دو کنال کا سارا پلاٹ 6،6 فٹ گہرا کھود ڈالا۔ سٹیشن ہیڈکوارٹر والوں سے بات کر لی گئی تھی اور وہ ”پانی تقسیم چوک“ سے ایک کھال کھود کر مجھے پانی دینے کو تیار تھے(اس کی برائے نام Payment بھی میں نے کر دی)…… پھر اس زمین میں ایک کنال پر سبزیاں اور ایک کنال پر پھلدار درختوں کا باغ لگایا۔ کالا کوہلو، بادام، آڑو، آلو بخارا، خوبانی کے پودے مختلف مقامات سے منگوائے۔ایک مالی ہائر کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سارا باغ پھلوں سے لد گیا۔ (میں نے بطور خاص چار چار سال کے بوٹے کاشت کئے تھے) میں تین برس تک کوئٹہ میں اس گھر میں رہا اور آخری برس جی بھر کر پھل خود بھی کھائے،سارے ہیڈکوارٹر والوں کو بھی کھلائے بلکہ سبزیاں بھی تمام افسروں، جے سی اوز اور این سی اوز کے گھروں میں بھجوائیں …… اس کے بعد GHQ میں پوسٹنگ ہوئی اور وہاں سے لاہور آیا تو ازراہِ اتفاق یہاں بھی جو گھر ملے ان میں یہی تجربات کئے جن کا ذکر پھر کبھی…… ارادہ ہے میاواکی درخت کی پنیری بھی لا کر ایک دو پودوں کا تجربہ کروں!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment