Home » میانمر میں مارشل لا  (1)

میانمر میں مارشل لا  (1)

by ONENEWS

میانمر میں مارشل لا  (1)

جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے، مارشل لا کا نام ایک قصہ ء پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ افریقہ کو کبھی تاریک براعظم کہا جاتا تھا اور اس کے ممالک میں مارشل لاؤں کا نفاذ کوئی اچنبھے کی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اب تو کئی برسوں سے وہاں بھی امن و امان ہے۔ تاہم قتل و غارت گری، بدامنی اور لاقانونیت پھیلانے والے عناصر آج بھی وہاں کے معاشروں میں موجود ہیں لیکن یہ لوگ کہاں نہیں پائے جاتے؟…… خود اپنا وطن عزیز پاکستان بھی براعظم ایشیا کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جہاں مارشل لاؤں کا نفاذ تادیر ایک وتیرہ اور معمول بنا رہا۔ لیکن اب تو یہاں بھی 12،13 برس سے امن و امان ہے۔اندرونی خلفشار، کشیدگیاں، جلسے، جلوس، ریلیاں، قتل و غارت گری کے مظاہرے، تخریب کاریاں اور مسماریاں اپنی جگہ ہوں گی لیکن مارشل لاء کی لعنت سے تو ’بچے‘ ہوئے ہیں ناں!

آج کل ساؤتھ ایشیا اور ساؤتھ ایسٹ ایشیا کی اصطلاحیں میڈیا پر عام بولی جاتی ہیں۔ ویت نام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ملائیشیا، فلپائن اور سنگاپور سب کے سب ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کہلاتے ہیں جبکہ ساؤتھ ایشیا میں جو ممالک شامل ہیں ان میں پاکستان، انڈیا، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان شامل ہیں۔

میانمر ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا کے درمیان ایک الگ ملک ہے۔گویا ان دو بلاکوں کے مابین ایک بفر یا حدّ ِ فاصل ہے۔ اس کا پرانا نام برما تھا اور دارالحکومت رنگون تھا۔ رنگون اب بھی میانمر کا سب سے بڑا شہر، تجارتی مرکز اور بندرگاہ ہے لیکن اس کا نام بھی تبدیل کرکے ینگون رکھ دیا گیا ہے۔ جس طرح کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر تھا (اور ہے) لیکن ہم نے اسے چھوڑ کر اسلام آباد کو دارالحکومت بنا لیا، اسی طرح میانمبر کے حکمرانوں نے بھی رنگون (ینگون) کو چھوڑ کر ملک کے وسط میں ایک غیر معروف سے قصبے کو اپنا دارالحکومت بنا لیا ہے۔ اس کا نام نے پائی ٹا (Naypyitaw)ہے۔ ہم جنوبی ایشیا کے رہنے والوں کو جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے نام بڑے اجنبی سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ فرق زبانوں کا ہے۔ چین ہمارا آہنی دوست ہے۔ لیکن اس کے پانچ بڑے شہروں کے نام اگر گن کر بتا سکیں تو ان کا تلفظ بھی بڑا عجیب و غریب لگے گا۔

میں نے سب سے پہلی کتاب جس کا اردو ترجمہ کیا تھا وہ دوسری عالمی جنگ میں میانمر کی ملٹری ہسٹری تھی۔ اس وقت اس کا نام برما تھا اور یہ کتاب فیلڈ مارشل ولیم سلم (Slim) کی تصنیف تھی جس کا عنوان تھا: Defeat into Victory۔ یہ کتاب GHQ نے مجھے اردو ترجمہ کرنے کے لئے بھیجی تھی، کافی ضخیم تھی لیکن کافی دلچسپ بھی تھی۔ میں نے ترجمہ کرکے اس کا عنوان رکھا: ”شکست سے فتح تک“…… یہ کتاب کئی برسوں تک پاکستان آرمی کے یک پروموشن امتحان (کپتان سے میجر) اور سٹاف کالج، کوئٹہ کے ملٹری ہسٹری پیپر کا نصابی حصہ رہی۔ ہماری آفیسر کلاس امتحان تو انگریزی میں دیتی تھی لیکن اس پیپر (ملٹری ہسٹری) کی تیاری کے لئے میری ترجمہ شدہ کتاب سے استفادہ کرتی تھی…… شاعر کہتا ہے تو سچ ہی کہتا ہے زبانِ غیر میں شرحِ آرزو نہیں ہو سکتی۔ امیدواروں کا کہنا تھا کہ اردو میں جب کسی جنگی معرکے کی تفصیل معلوم ہو جائے تو اس کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے اور انگریزی میں جواب لکھنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔

اس کتاب میں برما میں دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں کو روکنے کے لئے برطانوی حکومت اور فوج نے جو کاوشیں کی تھیں ان کی تفصیل تھی۔ فیلڈ مارشل ولیم سلم دوسری عالمی جنگ میں ایک برٹش انفنٹری ڈویژن کا GOC تھا جو عراق میں مقیم تھا۔ جب جاپان نے برما پر حملہ کیا تو میجر جنرل ولیم سلم کو وہاں بھیجا گیا تاکہ جاپانیوں سے ہندوستان کو بچائے۔ جاپان نے مارچ 1942ء میں برما کے دارالحکومت رنگون پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں برطانوی فوج محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ جنرل سلم مارچ 1942ء میں جھیل حباّنیہ(عراق)  سے رنگون پہنچا اور اس جنگ کے خاتمے تک برٹش آرمی (جسے 14ویں آرمی کا نام دیا گیا تھا) کا کمانڈر رہا۔ یہ کتاب اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی اور 1956ء میں شائع ہوئی۔ برماوار پر آج تک جتنی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ مستند اور دلچسپ یہی کتاب ہے۔

اگر برٹش آرمی برما میں جاپانی حملہ آور فوج کو نہ روکتی تو سارے ہندوستان پر جاپان کا قبضہ ہو جاتا اور آج اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اگرچہ اس فوج میں ہندوستانی فوج کی نفری (آفیسرز اور جوان) بھی شامل تھی لیکن اصل مقابلہ برٹش اور جاپانی ملٹری (آرمی اور ائر فورس) فورسز کے درمیان تھا۔ 1942ء کے اواخر تک پورے برما پر جاپانی قابض ہو گئے تھے اور ناگالینڈ تک آ گئے تھے جہاں کوہیما اور امپھال نام کے دو شہروں میں گھمسان کی لڑائیاں لڑی گئی تھیں۔ یہ معرکے اتنے خونریز تھے کہ انہیں پڑھتے ہوئے جاپانیوں کی اندھا دھند یلغاری قوت اور برطانویوں / ہندوستانیوں کی ناقابلِ یقین قوتِ مدافعت کی تفصیلات پڑھ کر یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ لڑائیاں دوسری عالمی جنگ کی یورپی،افریقی اور ایشیائی لڑائیوں (Battles) سے کسی بھی صورت کم خوں آشام نہ تھیں۔

فیلڈ مارشل ولیم سلم کی اس کتاب کا اردو ترجمہ کرتے مجھے جن لِسانی اور عسکری دشواریوں کا سامنا ہوا ان میں ایک دشواری برما کی وہ تاریخ اور اس کا جغرافیہ بھی تھا جس میں نامانوس الفاظ کی بھرمار تھی۔ اشخاص، قبائل اور مقامات کے نام اتنے اجنبی اور غیر مانوس تھے کہ مجھے برما کے مختلف محاذوں اور سیکٹروں میں لڑی جانے والی لڑائیوں کا محل وقوع سمجھنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہوا……

جب آپ کسی جنگی معرکے کا ذکر پڑھتے ہیں تو اس کی تفہیم اس وقت تک مشکل رہتی ہے جب تک آپ متحارب فریقین کے اشخاص اور مقامات کے ناموں اور ان کی لوکیشنوں سے واقف نہ ہوں۔ قاری کو کوئی بھی جنگی معرکہ پڑھتے ہوئے اپنے دماغ میں جنگ کا ایک خاکہ بنانا پڑتا ہے اور جب تک یہ خاکہ آپ کے ذہن میں نہیں بن جاتا اور فریقین کی صف بندی سے لے کر مختلف اسلحہ جات کی لگاوٹ (Siting) ذہن نشین نہیں ہو جاتی، آپ اس معرکے کو کماحقہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ آپ کو اپنے ذہنی افق پر لڑنے والے فریقوں کی تصویر کشی کرنی ہوتی ہے…… اور جب تک یہ تصویر آپ کے دل و دماغ پر نقش نہیں ہو جاتی آپ معرکے کی جزئیات کا ادراک نہیں کر سکتے۔میں نے اپنی پروفیشنل لائف میں نجانے کتنی عسکری تواریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ لیکن جب بھی ایسا کرتا ہوں سب سے پہلا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ کون کس جگہ پر متعین تھا، کس کے پاس کون سا ویپن تھا، اس کی تعداد اور رینج کیا تھی، سپاہیوں کی ڈیپلائے منٹ کہاں کہاں تھی، ٹیکٹیکل اعتبارات سے کس فریق کو برتری حاصل تھی اور کیوں حاصل تھی۔ لڑائی کی لمحہ بہ لمحہ ڈویلپمنٹ کا پورا نقشہ آپ کے سامنے ہو تو تب ہی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس فریق کو کیوں شکست ہوئی اور کسے فتح ہوئی اور کیوں ہوئی۔

موضوع سے دور نکل جانے کے لئے قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔ بتانا یہ چاہتا تھا کہ برما جسے آج کل میانمر کہا جاتا ہے اس پر مارشل لاء  وارد کرنے کے وہ عوامل کیا تھے جن کے باعث وہاں کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا پڑا۔ میانمر ہم سے کافی دور سہی لیکن اس کی باقاعدہ ایک فوج ہے، ائر فورس ہے اور نیوی ہے۔ اس کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ ہے۔ رقبہ ساڑھے چھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے، یہ ملک تقریباً ہمارے ساتھ ہی 1948ء میں آزاد ہوا تھا۔ اس پر 50برس تک فوج کیوں حکمران رہی، عوام فوج کی حکمرانی کے حق میں ہیں یا سول حکومت کا تسلسل چاہتے ہیں، وہاں کی وزیراعظم خاتون مسز آنگ سانگ سوئی کون ہے اور اس کو اقتدار سے الگ کرنے والا جنرل آنگ ہلانگ کون ہے…… اور سب سے بڑھ کر جس ایک بات نے مجھے یہ کالم لکھنے پر اکسایا وہ وہاں کے (میانمر کے) روہنگیا مسلمان ہیں جن پر ظلم و ستم کی داستانیں ہم گزشتہ کئی برسوں سے سن اور پڑھ رہے ہیں۔ (جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment