Home » مہنگائی اور ٹائیگر فورس

مہنگائی اور ٹائیگر فورس

by ONENEWS

مہنگائی اور ٹائیگر فورس

معاشرے میں صبح دوپہر شام ہر کوئی مہنگائی مہنگائی کی رٹ لگا رہا ہے،ہر روز اشیاء خورو نوش کی قیمتیں اوپر کو جا رہی ہیں، میں بھی عوام میں سے ہوں بازار سے چینی لاتا ہوں، سبزیاں خریدتا ہوں اور اگر جیب اجازت دے تو کبھی کبھار فروٹ بھی مقدر میں لکھا جاتا ہے اب عمران خاں وزیراعظم پاکستان کی میرے خیال کے مطابق کوئی چینی کی فیکٹری نہیں کوئی پولٹری فارم نہیں اور کوئی سبزی والی زمینیں بھی نہیں لیکن چینی گوشت، آٹا، دالیں مرچیں، سبزیاں، دودھ ملاوٹ شدہ، مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں جب کہ ملک میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں جب گندم کی کٹائی ہوئی تھی تو پنجاب میں وافر مقدار میں گندم سٹاک کی گئی اور حکومتی لوگ اعلان کرتے کہ ہم نے گندم کا وافر سٹاک جمع کر لیا ہے اب گندم آٹے کی کوئی قلت نہیں ہو گی اور ریٹ 1400 روپے مقرر کر دیا اسی بھاؤ پر حکومت نے اور عوام نے گندم کی خرید و فروخت کی اور حکومتی اہل کاروں نے زبردستی فلور ملوں اور گندم کا  جائز سٹاک رکھنے والوں سے گندم خریدی یا اٹھوالی لوگ پریشان ہو گئے لیکن حیران کن اور پریشان کن حالات کہ 2020ء کی گندم 2020ء کا سال ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی خدا جانے یہ گندم کہاں گئی کس ملک کو سمگلنگ ہو گئی کوئی پتہ نہ چلا اور گندم 2400 روپے میں فروخت ہونا شروع ہو گئی چھ سات ماہ میں آٹا 80 روپے کلو فروخت ہوا تمام اسٹاک ہولڈروں نے چوری چھپے اپنی گندم مہنگی فروخت کی اور آٹے والوں نے بھی سر عام بیچا اور ضرورت مندوں نے خریدا میں ان ضرورت مندوں میں شامل ہوں جنہوں نے 2400 روپے من گندم کا ریٹ پوچھا اور پھر 85 روپے کلو چکی سے آٹا لے کر صبر شکر کیا حکومت عمران خان کی ہے وہ وزیراعظم ہیں ذمہ داری ان کی ہے عثمان بزدار کا کوئی نام نہیں لیتا چونکہ مشہور ہے کہ وہ بہت زبردست، ایماندار، طاقتور وزیراعلیٰ ہیں ان کی ٹیم میں شامل سابقہ حکومتوں کے تقریباً 25 سالہ تربیت یافتہ لوگ شامل ہیں ان کی رشتہ داریاں ہیں دوستیاں ہیں حکومت ہی ان لوگوں کی ہے میرا بہت زیادہ بیورو کریٹ حضرات، بیورو کریسی سے واسطہ ہے تقریباً سب کو جانتا ہوں 47 سال سے اس سیاسی وابستگی کے ساتھ سیاست میں ہوں چند ایک معزز بیورو کریٹ کے علاوہ پنجاب میں شہباز شریف کے مرہون منت، کسی کے خلاف یا حق میں نہیں میں عوام ہوں ہزاروں کی انتظامیہ فوج ظفر اپنی اپنی تحصیلوں یا ضلعوں میں بازاروں میں عوام کو  سرکاری ریٹ یا مناسب طریقوں سے اشیاء صرف مہیا نہیں کروا سکتے تو پھر اعلان کر دیں کہ عوام ٹیکس ہمیں دیں اور اپنی سیکیورٹی کا بندوبست خود کریں عمران خان، عثمان بزدار نے بازار خود چیک نہیں کرنے صرف بریفنگ لینی ہے بریفنگ کس سے لینی ہے جو نہ کبھی بازار گیا نہ منڈی، نہ اس کے مقدر میں چینی کھانا ہے چونکہ ان کو شوگر ہے۔نہ وہ زیادہ آٹا کھاتے ہیں چونکہ وہ دوسری اشیاء کھا لیتے ہیں۔

یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اپوزیشن کو حکومت کے مخالف مظاہرے شروع کروانے کا مقصد ہی ملک میں مہنگائی اور اشیاء صرف کو مہنگا کرنا ہے تاکہ انتظامیہ اور حکومت اپوزیشن کے ساتھ نمٹنے میں لگی رہے اور عوام کو مہنگائی کے چکر میں لوٹا جائے حکومتی ترجمانوں کو اپوزیشن کو چھوڑ کر لوٹ مار کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ریڑھی والے اور ہر دکاندار کو روزانہ 25روپے کی ریٹ لسٹ فروخت کی جاتی ہے یہ ایک علیحدہ لوٹ مار ہے لاہور میں کتنی دکانیں ہیں کتنی ریڑھیاں دوکانیں ہیں ان سب کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتاً لسٹ دی جاتی ہے یہ روزانہ لاکھوں روپے بنتے ہیں ان لسٹوں کی کمائی کون کھا رہا ہے یہ بھی راز کی بات ہے اس لسٹ پر عمل کیوں نہیں کروایا جاتا یہ عوام پر ظلم ہے زیادتی ہے چند ایک کو جرمانے کر کے کارروائی مکمل کرلی جاتی ہے ان لوگوں نے جرمانے کی رقم عوام سے وصول کرنی ہے پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایف ایس ایف بنائی تھی فی سبیل اللہ فورس جو فیل ہو گئی اب عمران خاں نے ٹائیگر فورس بنا کر اپنی حکومت کے لئے پریشانی پیدا کر لی ہے، عمران خان کی 2023ء تک کامیابی کا امکان ہے لیکن جناب معذرت جو بیورو کریٹ ڈی سی (Acs) سیکرٹری چیف سیکرٹری اور منسٹر ایم این اے، ایم پی اے کے کام اپنی مرضی سے جائز بنا کر نا جائز کام کر دیتے ہیں تو ان کے اوپر ٹائیگر فورس کو بٹھا دیا ہے مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں، لیکن ٹائیگر فورس وزیراعظم، وزیراعلیٰ کی حفاظت کر سکتی ہے سیکیورٹی کر سکتی ہے لیکن عوام کو فائدہ نہیں دے سکتی ٹائیگر فورس کے لوگوں کے مامے، چاچے رشتہ دار اسی معاشرے میں ہیں یہ فورس بنا کر عمران خاں نے بدنامی مول لی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment