Home » مڑکے کرداپھراں ٹکور

مڑکے کرداپھراں ٹکور

by ONENEWS

”مڑکے کرداپھراں ٹکور“

لو جی کپتان ایک بار پھر چن لیا میں نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا گاتے آئے اورمیں تے میرا دلبر جانی گاتے واپس چلے گئے اور یوں شیر وانیاں سلوانے والوں کے دل کے ارمان ہنجو ھوکوں میں بہہ گئے اور ان کے حق میں تبصرے تجزیے کرنے والے وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے ہم تو ایک سیدھا سا فارمولا جانتے ہیں کہ دلہن وہی جو پیامن بھائے اور ماشائاللہ عثمان بزدار کے پیا اگر رنگون بھی گئے ہوں تو وہاں سے فون ضرور کرتے ہیں۔ چندا میرے آپ کو دن میں خواب دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ بھلا عثمان بزدار کا قصور کیا ہے؟ ماڑا بندہ ہو تو ہر کوئی اس پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن میں کہے دیتا ہوں بزدار اتنے بھی ماڑے نہیں جتنا آپ انہیں سمجھتے ہیں۔ جب ان کے پیا بہے کوتوال ہیں تو انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ ایویں لوگوں کو بلا کر کہیں کہ شیروانیاں سلوا لو اپنے پسند کا چیف سیکریٹری بتا دو، ٹھیک ہے آج کل کرنے کو کوئی کام نہیں، تھوڑا بہتا رونق میلا لگا رہنا چاہئے لیکن جب رہنا بزدار نے ہے تو پٹواری کے منڈے کی طرح دوسرے امیدواروں کو دوروں دوروں اکھیاں مارنے کی بھی کیا ضرورت۔ سنتا سنگھ لڑکے کا رشتہ دیکھنے آیا۔

لڑکے کا باپ بولا آپ بے شک لڑکے کے کریکٹر کی انکوائری کرالیں۔ سنتا سنگھ بولا کوئی ضرورت نہیں،بس تسی منڈے دے موبائل دا میموری کارڈ مینوں دے دیو۔ بھیا میرے ہم تو سنتا سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ہمیں میموری کارڈ مانگنے کا بھی حق نہیں، ورنہ کراچی کی جے آئی ٹی پر ہی کھرے کھوتے معاف کیجئے کھرے کھوٹے کا فیصلہ ہو جاتا۔ خیر کراچی والے بہت سکھی ہیں۔ ایک وقت میں دو دو سمندروں کا مزا لے رہے ہیں اور سندھ میں بہترین کارکردگی کی دعویٰ دار پیپلزپارٹی سڑکوں پر عوام کو ڈبکیاں لگاتے دیکھ کر جئے بھٹو کے نعرے لگا رہی ہے۔ بیچارے بھٹو صاحب بھی سوچتے ہونگے ضیائالحق نے انہیں جیتے جی مارا اور پیپلزپارٹی انہیں روز دفناتی ہے۔ بات ہو رہی تھی عثمان بزدار کی اور نکل آئی ملیر، گولیمار، شارع فیصل کی سڑکوں پر، ہماری سوچ بھی بارش کے پانی کی طرح سنبھالنے نہیں سنبھل رہی۔ مجھے بتائیں کہ عثمان بزدار کا قصور کیا ہے۔ کارکردگی؟ تو میری جان کے ٹوٹے اگر کارکردگی کو میرٹ بنائیں تو پاکستان میں قیادت چین یا امریکہ سے امپورٹ کرنے پڑے گی۔

بنتا سنگھ بیٹے سے بولا کیا بنا تمہارے امتحانات کے رزلٹ کا؟ وہ بولاباپو ڈاکٹر کا لڑکا فیل ہو گیا ہے۔ بنتا بولا اور تم، بیٹا بولا تحصیلدار کا بیٹا بھی فیل ہو گیا۔ بنتا سنگھ غصے سے بولا تو اپنی بتا۔ وہ بولا میں کیہڑا ڈپٹی کمشنر دا پتر واں، میں وی فیل ہو گیا۔ جان من آٹے چینی گھی پٹرول کے لئے ہر حکومت میں ذلیل ہونے والے معزز شہری، وڈے سائیں کا بیٹا فیل ہو سکتا ہے، بلوچستان میں بڑے بھیا کالے پالک فیل ہو سکتا ہے۔ کے پی کے میں چاکلیٹی ہیرو کامن پسند کمپارٹ لے سکتا ہے تو پنجاب میں کونسے سرخاب کے پرلگے ہیں، دیکھ میرے پیارے جمہوریت کے راج دلارے یہ ایلیٹ کلاس کے چونچلے عرف رج کھان دیاں مستیاں ہیں۔ ہماری طرف سے سنتا آئے یا بنتا ہم نے دانے ہی بھوننے ہیں۔

بس تھوڑا انتظار کر لیں انٹرول کے بعد فلم میں ٹرننگ پوائنٹ آنے والا ہے۔ عمران خان وزیر اعظم کی دستار سےزیادہ صدارتی ٹوپی میں پھبیں گے۔ آپ خود کہیں گے میرا ماہی چھیل چھبیلا، میرا یقین ہے آپ بس یہی جملہ کہیں گے اس سے آگے والا نہیں۔ جمہوریت کی فلم اب آٹ ڈیٹڈ ہو گئی ہے۔ بیس کروڑ عوام کو اب ایک شرطیہ پرنٹ کی ضرورت ہے، یہ فلم نہ صرف ابتدا میں بالغوں کے لئے ہو گی بلکہ ایک ٹکٹ میں دو مزے دے گی۔ بندہ تھاں تھاں سجدہ کرنے کے بجائے ایک ہی جگہ ماتھا ٹیک دے بہتر ہے۔ جمہوریت تھاں تھاں ٹکے ٹکے کے بندوں کو سجدہ کرنے کا نام ہے۔ سنتا سنگھ نے بیگم کو فون کیا۔ بولابیگم ٹی وی پر آ رہا ہے کہ کوئی پاگل موٹر وے پر ون وے گاڑی چلا رہا ہے۔ تم کہاں ہو۔ وہ بولی سردار جی آپ ایک پاگل کی بات کرتے ہیں یہاں سارے پاگل سڑک پر سامنے سے ون وے آ رہے ہیں۔ بندے میں اعتماد ہونا چاہئے۔ اسے سامنے سے صحیح آنے والا بھی ون وے لگے گا۔ تو میرے بھائیو تے بھائیو، اس ون وے نظام کی بہتری کے لئے صدارتی نظام سے بہتر کچھ نہیں جہاں کلا بندہ ون وے آئے بھی تو ستے خیراں ہوتی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری جس شد و مد سے لاہور آ کر جاتی عمرہ کی طرف منہ کر کے گا رہے ہیں من جامن جا بالم من جا، نہ ٹھکرا میرا پیار، چاہے ان کے لہجے میں نور جہاں جتنی نغمگی ہو۔ چھوٹے بھیا نہیں مانیں گے۔ انہیں پتہ ہے کہ مڑ کے کردا پھراں ٹکورتے فیدہ کی۔ اس لئے بلاول سے لیکر مولانا فضل الرحمٰن تک اپنی چوٹی ایڑی کا زور لگا لیں شہباز شریف ان کی باتوں میں آنے والے نہیں۔ فقیر سنتا سنگھ سے بولا بابا دس روپے کا سوال ہے۔ سنتا بولا ہاں ہاں پچھو ہو سکدا اے مینوں جواب آندا ہو۔ لیکن یہ ہمارے خادم اعلیٰ سابق ہیں یقین کریں انہیں سارے سوالوں کے جواب آتے ہیں۔ لیکن وہ در وٹ کے بیٹھے رہیں گے۔ کیونکہ انہیں پتہ ہے جیہڑا بولے گا اس کا کنڈہ نیب یا کوئی اور ہی کھولے گا۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment