Home » مچھ کا سانحہ: چند تاثرات!

مچھ کا سانحہ: چند تاثرات!

by ONENEWS

مچھ کا سانحہ: چند تاثرات!

آرمی سروس کے دوران بلوچستان میں دوبار پوسٹنگ ہوئی۔ ایک بار ایک انفنٹری ڈویژن ہیڈکوارٹر میں اور دوسری بار سکاؤٹس کی ایک یونٹ (بٹالین) میں۔ کُل ملا کر تقریباً 6برس تک رقبے کے لحاظ سے پاکستان  کے اس سب سے بڑے صوبے میں سروس کرنا کئی اعتبارات سے معلومات افزائی کا سبب بنا۔ اگرچہ لاہور۔ کوئٹہ اور اسلام آباد- کوئٹہ کے درمیان کئی فضائی سفر بھی کرنے پڑے اور کئی بار ایرانی ملٹری افسروں کے ساتھ بطور انٹرپریٹر ہیلی کاپٹروں میں آنے جانے کے مواقع ملے۔ لیکن جو لطف ٹرین کے سفروں میں ملا وہ یادگار تھا۔ کئی بار ساہیوال (ان ایام میں منٹگمری) اور لاہور سے عوام ایکسپریس کے ذریعے کوئٹہ تک کے اسفار طے کئے۔ ائر کنڈیشنڈ کُوپے میں یہ طویل سفر کسی تھکاوٹ کا باعث نہیں بنتا تھا۔ گاڑی جب سبی پہنچتی تو سورج نکل رہا ہوتا۔ سبی سے کوئٹہ تک چڑھائی تدریجی نوعیت کی ہے لیکن مچھ سے چڑھائی زیادہ ہو جاتی ہے اور گاڑی میں مچھ ریلوے اسٹیشن سے دوسرا انجن بھی لگا دیا جاتا ہے جو کوئٹہ تک جاتا ہے۔ انجن کی تبدیلی کی وجہ سے مچھ ریلوے اسٹیشن پر 15،20منٹ تک گاڑی ٹھہرتی تھی اور کئی دفعہ تو ایک ایک گھنٹے تک رکنا پڑا تھا۔

مچھ میں دو مناظر مسافر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ ایک تو مچھ کی جیل ہے جس میں خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا اور پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ اور دوسرا منظر کوئلے کی کانوں (Mines) کا ہوتا تھا جو ریلوے لائنوں کے ساتھ ساتھ دور تک چلی جاتی تھیں۔ ان میں کام کرنے والے کان کن بطور خاص توجہ کا فوکس بنتے تھے۔ ایک تو ان بے چاروں کے چہرے بلکہ سارا سراپا کانوں کے اندر باہر آنے جانے سے کوئلے کی رنگت کی طرح سیاہ ہوتا تھا اور دوسرے ان کے منحنی جسم، پھٹے پرانے لباس اور سروں پر ٹوکریاں اٹھا کر باہر نکلنے کے مناظر دیکھ کر مجھے ہمیشہ کوفت ہوتی تھی۔ لیکن دنیا بھر میں جہاں جہاں کوئلے کی کانیں پائی جاتی ہیں وہاں وہاں یہی مناظر ناظر کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پھر ان کانوں میں اکثر دھماکے ہوتے رہتے ہیں اور خبر ملتی ہے کہ کان کا فلاں حصہ بیٹھ گیا ہے اور اس میں درجن بھر مزدور زندہ دفن ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ میں قیام کے دوران مجھے کئی بار کوئٹہ کے نواح میں واقع کوئلے کی کانوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہفتے میں دو بار ڈویژن کی طرف سے فوجی گاڑیاں ان کانوں میں جاتی تھیں اور کوئلہ بھر کے لے آتی تھیں۔ چونکہ گیس نہ تھی اس لئے تمام فوجی یونٹوں میں پتھر کا کوئلہ جلایا جاتا تھا اور گھروں میں بھی اسی کوئلے کی انگیٹھیاں جلتی تھیں۔ ہر بیڈ روم کے وسط میں ایک انگیٹھی رکھ دی جاتی تھی اس کی ٹین کی بنی چمنی  انگیٹھی سے لے کر چھت تک جاتی تھی اور چھت سے باہر نکل کر دھوئیں کے اخراج کا مداوا کرتی تھی۔ کوئلہ جتنا چمکدار ہوتا تھا اس کی آگ اور تپش اتنی ہی زیادہ ہوتی تھی اور دھواں بھی کم نکلتا تھا۔

یہ انگیٹھی ساری رات جلتی رہتی اور کمرے میں سونے والوں کو کسی بجلی وغیرہ کے ہیٹر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ بجلی کا بل ویسے بھی فوجیوں کی مالی استطاعت سے باہر ہوتا تھا۔ سردیوں میں یہ کوئلہ ہر آفسیر کو حسبِ ضرورت مفت فراہم کیا جاتا تھا۔ یہ انتظام و انصرام گیس کے آنے تک جاری رہا۔ گیس کوئٹہ میں  1985ء کے بعد آئی اور میری پوسٹنگ 1985ء کے اواخر میں راولپنڈی ہو گئی تھی۔ اس وقت تک گیس کے سلنڈر عام ہو چکے تھے لیکن پتھر کے کوئلے کی انگیٹھی پھر بھی کافی مدت تک زیرِ استعمال رہی۔ پتھر کا یہی کوئلہ جو کوئٹہ اور مچھ کی کانوں سے نکلتا تھا تو مال گاڑیوں کے ذریعے ملک کے شمالی حصوں میں قیام پذیر فوجی یونٹوں میں پہنچایا جاتا تھا۔ ایبٹ آباد، کاکول، مانسہرہ، شنکیاری، مری، نتھیا گلی، مردان، مالا کنڈ اور سوات سے چترال تک یہی کوئلہ استعمال ہوتا تھا…… یہ تفصیل اسی لئے لکھ رہا ہوں کہ سویلین قارئین کو معلوم ہو سکے کہ ان کانوں کے مزدوروں کا ملک کی افواج پر کتنابڑا احسان تھا اور نہ صرف یہ بلکہ سٹیل کے کئی کارخانوں اور دوسری فیکٹریوں میں بھی یہی کوئلہ استعمال ہوتا تھا…… اب سندھ میں اس کوئلہ کے ذخائر کثرت سے پائے جاتے ہیں اور یہ ایک الگ موضوع ہے…… سوال یہ ہے کہ ملک کی کانوں سے کوئلہ نکالنے والے ان مزدوروں کا حالِ زبوں ایک طرف اور ان کو دہشت گردوں کی طرف سے قتل کرنے کے المناک سانحے دوسری طرف آخر کس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو، ان کان کن مزدوروں کی رہینِ احسان ہے اور ان کے قتل پر سیاست کرنے والوں کی سفاکی اور دریدہ دہنی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

مچھ کے سانحے کے بہت سے پہلو ہیں …… اولاً یہ درست ہے کہ دس کان کنوں کو انتہائی درندگی سے قتل کرنا ایک مذموم ترین حرکت ہے۔

لیکن یہ باور کر لینا کہ ملک کا وزیراعظم ایسے اندوہ ناک حادثوں سے بے خبر اور بے حس ہے، اس سے بھی زیادہ مذموم حرکت ہے…… ثانیاً جو دس کان کن اس سانحے کی بھینٹ چڑھے ان میں سات کی لاشیں تو افغانستان نے طلب کر رکھی تھیں۔ اگر وہ افغانی ہزارہ وال تھے تو پاکستان میں کیا کررہے تھے؟ ان کے شناختی کارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہوئے تھے تو پھر افغان حکومت کا لاشوں کی واپسی کا مطالبہ چہ معنی دارد؟…… ثالثاً سینکڑوں کی تعداد میں ہزارہ زن و مرد جو سات روز تک منفی 8ڈگری سرد موسم میں دن رات وہاں بیٹھے رہے کیا مقتولین کے ورثاء تھے؟ ظاہر ہے ایسا نہیں تھا تو کیا باقی خواتین و مرد مرنے والوں سے محض اظہارِ یک جہتی کے لئے جمع ہوئے تھے؟…… رابعاً بلوچستان کے وزیراعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور دوسرے وفاقی وزرا جب بار بار احتجاج کرنے والوں کو باور کراتے رہے کہ ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں گے تو ان کی یہ ضد کہ وزیراعظم آئے اور ان کے سامنے وہی کچھ کہے جو صوبائی وزیراعلیٰ اور وفاقی وزراء کہہ رہے تھے کتنی صائب اور قابلِ اعتناء ضد ہے؟ جب مظاہرین کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ وزیراعظم کا یہاں آنا ایک بڑا سیکیورٹی رسک ہے تو اس پر یقین نہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں؟ وہ کون لوگ تھے جو وزیراعظم کی آمد پر اصرار کر رہے تھے؟…… خامساً جب آئے روز بلوچستان میں آرمی کے افسروں اور جوانوں کو شہید کیا جا رہا ہو تو ایسے میں سیکیورٹی تھریٹ پر کان نہ دھرنا آخر دوست کی طرفداری ہے یا دشمن کی؟…… سادساً نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا فوری طور پر اکٹھا ہو کر ان ہزارہ مصیبت زدگان سے اظہار یکجہتی کرنا اور ساتھ ہی حکومت کو بے حسی کا طعنہ دینا اور وزیراعظم کو بالخصوص نشانے پر رکھنا کیا مظاہرین کو نظر نہیں آ رہا تھا؟ کیا وہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ ملک کی سیاسی فضاء کس قدر چارجڈ (Charged) ہے اور ایک دم مریم صفدر، بلاول بھٹو اور ان کے ساتھ تمام بڑے بڑے اپوزیشن لیڈروں کا اجتماع کس غرض سے ہو رہا ہے؟ کیا وزیراعظم نے بارہا یہ نہیں کہا تھا کہ وہ کوئٹہ ضرور آئیں گے لیکن ان کی آمد کو لاشوں کے دفنانے یا نہ دفنانے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے؟

میں سمجھتا ہوں کہ مظاہرین نے اگر آٹھویں روز وہی کچھ کرنا تھا جو حکومت پہلے روز کہہ رہی تھی تو ان لوگوں نے اپنا کیس خود ہی کمزور کر لیا۔ جوں جوں دن گزر رہے تھے پاکستان کا سوادِ اعظم یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ مسئلہ انسانی نہیں سیاسی ہے…… شیعہ سنی فساداست کا ذکر تو حکومت اور خود وزیراعظم نے بہت پہلے کر دیا تھا۔ اصل معاملہ CPEC سے شروع ہوا جو اپوزیشن کے ان زعما تک جا پہنچا جن پر کرپشن کے الزام تھے اور جو مفرور ہو کر لندن میں بیٹھے تھے یا پاکستانی جیلوں میں بند تھے۔ اب PDM کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور رہی سہی کسر چند دنوں اور ہفتوں میں پوری ہو جائے گی۔ آپ دیکھتے رہیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیسے ہوتا ہے……اپوزیشن کا ہدف عوامی لاشیں گرانا تھا اور یہی ہدف بھارت کا بھی تھا۔ لیکن ہم سب نے دیکھا کہ حکومت (اور فوج) نے کس استقلال، برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن کا ہدف خانہ جنگی تھا لیکن PDM کے تمام جلسوں اور ریلیوں میں ایک واقعہ بھی ایسا رونما نہ ہوا جو خون آلود ہوتا، جس میں لاشیں گرتیں، جس میں اپوزیشن کو موقع ملتا کہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرے۔ بعض ٹی وی چینل تیغ و تفنگ نکال کر بیٹھے رہے لیکن ’تماشا‘ نہ ہوا۔

اور ہوتا کیسے جب قوم کی اکثریت یہ جان چکی ہو کہ پاکستان کا اصل المیہ کیا ہے تو پھر اپوزیشن چاہے کچھ بھی کرلے۔ اس کی آرزوئیں پوری نہیں ہو سکتیں۔

مچھ سانحے میں سیکیورٹی اور سیاست کا مقابلہ تھا جس میں سیاست ہار گئی اور سیکیورٹی کی جیت ہوئی۔ سیکیورٹی والوں نے ہی وزیراعظم کو کہا تھا کہ ابھی کوئٹہ جانے کا وقت نہیں …… بلوچستان کی سیاست اور سیکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ مجھے کوئٹہ کے قیام کے دوران کئی بار ہزارہ ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا۔ ہزارہ والوں کی زبان فارسی ہے جس کا میں انٹرپریٹر تھا اس لئے لوگوں سے گفتگو کرنے اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے میں آسانیاں تھیں۔ میں نے ان ایام میں بھی ایک ہزارہ رہنما سے سوال کیا تھا کہ کوئٹہ میں کوئی پنجابی ٹاؤن، بلوچی ٹاؤن، براہوی ٹاؤن اور پشتون ٹاؤن کیوں نہیں اور ہزارہ ٹاؤن کیوں ہے تو اس نے مجھے ایک عجیب و غریب نظر سے دیکھا تھا…… مجھے لگا تھا کہ اس نے شائد اپنے سینے کا راز میرے سینے میں دیکھ لیا تھا!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment