0

مولانا فضل الرحمن دہری حکمت عملی کا شکار ہوئے؟

مولانا فضل الرحمن، دہری حکمت عملی کا شکار ہوئے؟

غالباً چار سال ہو گئے، جب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن سے سر راہ ملاقات ہوئی،  تب سے اب تک بہت وقت گذر گیا اور حالات تبدیل ہو گئے۔2016ء میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی دعوت پر دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ہم بھی بجٹ سیشن کی کارکردگی دیکھنے کے لئے مدعو کئے گئے تھے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر کے بعد روایت کے مطابق اجلاس ملتوی ہوا تو ہم سب دوست بھی باہر آئے،جونہی عمارت کے مرکزی دروازے پر پہنچے تو سامنے موجود میڈیا کے دوستوں میں ہلچل ہوئی، ہم نے پلٹ کر دیکھا تو یہ سب اپنے مولانا فضل الرحمن کی آمد کا سلسلہ تھا، جو اس دور میں قومی اسمبلی کے رکن ہی نہیں،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ ہم تھوڑے ایک طرف رُک کر کھڑے ہو گئے۔مولانا قریب آئے تو کیمرے اور رپورٹر ان تک جا پہنچے، اسی اثناء میں ان کی نظر ہم لوگوں پر پڑی، ہم نے کہا ”حضرت بہت رش لے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ اور بشاشت عود کر آئی اور انہوں نے ہم سے کہا کیسے ہیں،

اور کب آئے، ہم نے مختصراً بتایا کہ بجٹ سیشن کے لئے آئے ہیں، انہوں نے پلٹ کر دعوت دی، ساتھ آ جائیں گھر چل کر باتیں کریں گے۔ کافی دیر بعد ملاقات ہوئی ہے، ہم نے مجبوراً معذرت کی کہ دوستوں کے ساتھ آئے تو پروگرام بھی طے تھا۔ بہرحال وہاں موجود میڈیا کے دوستوں نے زیادہ گفتگو نہ کرنے دی اور تابڑ توڑ سوالات شرع کر دیئے، ہم اپنی گاڑی کی طرف چلے آئے، ملاقات کے حوالے سے اس کو چار سال ہو گئے اور اب تک حالات نے کئی کروٹیں لی ہیں، آج کل مولانا ایوان سے باہر ہیں کہ وہ2018ء میں انتخاب نہیں جیت سکے تھے۔ بہرحال ان کے بھائی اور جماعت کے حضرات ایوانوں میں موجود ہیں اور وہ خود سیاست میں سرگرم، ان کی لاہور آمد ہوتی رہتی ہے، ہم نے کئی بار ارادہ باندھا کہ ان کے ساتھ بات کی جائے،لیکن موقع نہ مل سکا۔بہرحال ان کی سرگرمیوں سے آگاہ ہیں اور آج کل ان کے بارے میں میڈیا میں جو تبصرے ہوتے ہیں وہ بھی سنتے، دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے دوست ان پر ”ترس“ کھانے لگے ہیں۔

جن مولانا فضل الرحمن کو ہم جانتے ہیں، وہ بڑے ”ہوشیار اور خبردار“ قسم کی شخصیت ہیں اور ہمیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ  وہ قابل ِ رحم حالت تک پہنچ گئے ہیں، عوامی سطح پر ان کی جماعت کو بلوچستان، کراچی اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور پنجاب میں بھی ان کے چاہنے والے ہیں۔ البتہ دھرنے کے بعد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی دہری حکمت عملی کا شکار ہو گئے ہیں، کہا تو یہ جاتا ہے کہ ان کو اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے نیچے سے سیڑھی کھینچنے والی حمایت ملی، تاہم ہمارا یقین اور خیال مختلف ہے کہ مولانا کچی گولیاں نہیں کھیلتے وہ میدانِ سیاست میں ہیں تو اس کے سارے پہلوؤں سے بھی واقف ہیں۔ ان کو طاقت کے منبع کا بھی بخوبی علم ہے اور ان کی اپنی رسائی بھی ہے اسی لئے تو دھرنے کے دِنوں میں وہ بہت پُراعتماد تھے اور پھر شاہراہ دستور تک نہ پہنچنے کا عمل اور باہر بڑے چوک(پشاور موڑ) پر دھرنا دینے سے بھی ہمارے دوست طرح طرح کی خبریں تلاش کر رہے تھے اور پھر دھرنا اچانک ختم ہوا، تو راز ہی رہ گیا کہ چودھریوں نے کہا، یقین دلایا اور کیا کسی کا پیغام تھا کہ دھرنا ختم کیا گیا۔

یہ بھی کسی روز آشکار  ہو جائے گا،لیکن اس سے مولانا کی سیاست کو نقصان ہوا، اور اب وہ کل جماعتی کانفرنس اور متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی سے اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ وہ منور ظریف والی ”عدالت“ کا نشانہ بن گئے۔ ”توں ڈھائی جا، توں بنائی جا“ اور شاید اسی حکمت عملی نے دھرنا حکمت عملی فلاپ کی کہ اس سے جاری نظام کو جاری رکھنا مقصود تھا، حالانکہ مولانا جب میدان میں تھے تو پارلیمینٹ جاری حکمرانی کے لئے یکسو نہیں تھی، جیسا کہ وزیراعظم عمران خان کے دھرنا کے وقت ”جمہوریت بچانے“ کے لئے متحد ہو گئی تھی اور تب ایمپائر کی انگلی  کھڑی نہیں ہو سکی تھی، موقع2018ء میں ہی دیا گیا اور انتخابات کے ذریعے ملا کہ مہر بھی لگ جائے، لہٰذا ہمیں یہ باور کرنا پڑتا ہے کہ مولانا کو بھی نئی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑا جو ظاہر بھی ہے کہ جب پردے میں رہ کر نظام چل سکتا ہو تو پردہ  ہٹانے کی کیا ضرورت ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ فضا مولانا فضل الرحمن کے حق میں نہیں، ان کی کل جماعتی کانفرنس، متحدہ اپوزیشن اور مشترکہ تحریک کی تجویز بھی عمل  پذیر نہیں ہو پا رہی، خود ان کے بقول رکاوٹ دونوں بڑی جماعتیں اور ایک ”مفاہمت پسند“ رہنما ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں کہ جن پتوں پر تکیہ تھا وہ اب ٹھنڈی ہوا دینے لگے ہیں، بلاول تو سرگرم تھے کہ اب قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف بھی قرنطینہ سے باہر نکل آئے ہیں، شاید کشتی خدا پر چھوڑ دوں کی نوبت آ گئی ہے، اِس لئے مولانا پھر سے زیادہ سرگرم ہوتے نظر آئیں گے، وہ بھولے تو ہیں،لیکن اتنے بھی بھولے نہیں کہ اپنے ساتھ ہونے والی ”واردات“ کو سمجھ نہ پائے ہں، اب ان کی اپنی حکمت عملی بھی تبدیل ہو گی  اور وہ”آہستہ مگر مسلسل“ چلتے رہو والی گیم شروع کریں گے اور پھر یہاں متحدہ اپوزیشن محاذ یا جماعت بنتے دیر کب لگتی  ہے۔ بس وقت اور اشارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِن شاء اللہ حضرت مولانا فضل الرحمن سے ملاقات بھی ہوگی۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں