Home » موسم سرما میں سیاست گرمی

موسم سرما میں سیاست گرمی

by ONENEWS

موسم سرما میں سیاست گرمی

اسلام علیکم پارے پارے دوستو سنائیں، کیسے ہیں؟ امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقینا ًخیریت سے ہی ہیں۔ جی دوستو دیکھیں تو میدان سیاست میں کتنی ہلچل مچی ہوئی ہے، حیران کن بات تو یہ ہے کہ دسمبر کے ٹھنڈے ٹھار موسم میں بھی میدان سیاست میں شدید گرمی ہے۔ جی اب میدان سیاست کی یہ گرمی نہ جانے کیا رنگ دکھائے گی، یہ بات وقت ہی بتائے گا۔ جی دوستو! ایک گرما گرم خبر اس ٹھنڈے موسم میں اپوزیشن جماعتوں کے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے سے متعلق بھی ہے اور یہ خبراخبارات نے بڑی بڑی شہہ سرخیوں میں شائع کی اور ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز بنی۔خبر کے مطابق محترمہ مریم نواز صاحبہ نے برملا ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیا کہ آٹھ دسمبر آریا پار، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے استعفوں کی تجویز پیش کر دی گئی اور کہا یہ جارہا ہے کہ یہ تجویز دراصل (ن) لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے جناب زرداری نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئیاسمبلیوں سے استعفیٰ دینے سے متعلق مہلت مانگ لی، تاہم اس بارے میں پی ڈی ایم کی قیادت آٹھ دسمبر کو اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرے گی اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا واقعی اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں سے استعفی دیں گی یا نہیں اور دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ واقعی میں تمام کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان استعفیٰ دیں گے اور اگر واقعی اسمبلیوں سے استعفیٰ دیا گیا تواس سے حکومت کی کرسی کتنی کمزور ہو گی۔

کچھ کہا نہیں جا سکتا یا پھر یوں کہہ لیں کہ اپوزیشن استعفیٰ دے کر حکومت کی کرسی کو مزید مظبوط کرنے جا رہی ہے، ابھی تومحض قیاس آرائی ہی ہو سکتی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک تو استعفے صرف دھمکی ہی ہو سکتی ہے دینا تو مشکل ہی ہے۔بہر حال بہت سے دوست کہتے نظر آرہے ہیں کہ استعفیٰ دینے سے کیا ہو گا یہ تو حکومت کو مکمل آزادی دینے کے مترادف ہو گا۔ بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ شائد اپوزیشن کے پاس تر پ کا پتا یہی تھا اسی لئے اپوزیشن کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمان کہتے نظر آرہے تھے کہ دسمبر میں حکومت رخصت ہو جائے اور شائد اپوزیشن کا خیال ہو کہ استعفیٰ دینے سے جناب کپتان کی کشتی میں سوراخ ہو جائے گا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے لانگ مارچ اور دھرنے کی بھی دھمکی دے دی ہے بہر حال پی ڈی ایم اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق لاہور میں ہونے والے جلسے کی بھرپور تیاری کر رہی ہے جبکہ حکومتی رہنما شور مچا رہے ہیں کہ جلسوں سے کرونا پھیل رہا ہے اس لئے اپوزیشن جلسے بند کردے، لیکن اپوزیشن تو جلسے جلوس کرنے پر بضد ہے اوراسیاپنا آئینی و قانونی حق مان رہی ہے۔

اب دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کے پے درپے حملوں سے اور ممکنہ استعفوں سے حکومتی قلعہ میں دراڑ پڑ سکے گی یا نہیں ظاہر ہے اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا، یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے۔ تو اسی لئے فی الحال اجازت چاہتے ہیں آ پ سے تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment