Home » مودی کے دو بلنڈرز!

مودی کے دو بلنڈرز!

by ONENEWS

کئی بار سوچتا ہوں کہ آج کے دور کی تاریخِ ہندوستان جب آنے والی کسی صدی میں لکھی گئی تو وہ پردھان منتری مودی کے دور کو کس نام سے یاد کرے گی اور مورخ، نریندر مودی کے دور کو کسی مقام پر Place کرے گا۔ کئی بار یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر پاکستان کا آرمی چیف 2019ء میں جنرل قمر جاوید باجوہ نہ ہوتا تو برصغیر جوہری جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے نجانے آنے والے کتنے برسوں تک سلگتا رہتا۔ 26فروری (2019ء) کو مودی نے ایل او سی عبور کرکے جو ناقابلِ یقین اقدام اٹھایا تھا اور اپنی ائر فورس کو بالاکوٹ پر حملے کے لئے بھیجا تھا کہ جاؤ وہاں پاکستانی دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دو تو وہ کس قسم کا خودکش اقدام تھا؟ اگر عمران خان بھی اپنی فضائیہ کو جوابی کارروائی کے لئے دلی اور آگرہ بھیج دیتا تو باہمی جوہری بربادی میں کیا کسر باقی رہ گئی تھی؟

یہ بھی سوچتا ہوں کہ انڈیا کا موجودہ ڈیفنس چیف جنرل بپن راوت کیا اتنا ہی اندھا تھا اور اس نے جوہری تاریخ کا کوئی ابتدائی مطالعہ بھی نہیں کیا ہوا تھا کہ مودی کے احکامات بجا لانے میں اتنا آگے نکل جاتا جہاں سے واپس آنے کی مہلت صرف اور صرف پاکستان کے سیاسی اور عسکری لیڈروں کی لاجواب سٹرٹیجک بصیرت کی مرہونِ احسان تھی وگرنہ تو……

یہ سوال دوبارہ کر رہا ہوں اور حیران ہو رہا ہوں کہ کیا انڈین آرمڈ فورسز کے کسی چیف نے جوہری تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا تھا؟ کون نہیں جانتا کہ 16جولائی 1945ء کو امریکہ نے نیو میکسیکو میں پہلا اور تاریخ ساز جوہری تجربہ کیا تھا جس کا کوڈ نام ”ٹرنٹی“ (Trinity) تھا اور پھر 20دن بعد 6اگست 1945ء کو ہیروشیما پر پہلا اور 9اگست 1945ء کو دوسرا جوہری بم گرایا تھا…… 16جولائی 1945ء کو دنیا بھر کے مورخین جوہری دور کا یوم آغاز تصور کرتے ہیں۔جاپان جو 5اگست 1945ء تک اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر اور ہٹ دھرم سمجھتا تھا اس کے شہنشاہ ہیروہیٹونے امریکہ کی طرف سے جوہری حملوں کے بعد گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔

کیا مودی کو کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اگر جاپان کے پاس ان ایام میں کوئی چھوٹا موٹا جوہری پروگرام بھی زیرِ ترتیب ہوتا تو امریکہ ہرگز یہ اندھا دھند اقدام نہ اٹھاتا۔لیکن اس کے بعد آنے والے صرف دو عشروں میں دنیا کے چار ممالک نے کامیاب جوہری تجربات کر لئے…… روس، برطانیہ، فرانس اور چین جوہری قوت بن گئے۔ ان پانچوں جوہری تجربات میں ہر ملک نے الگ الگ ٹیکنالوجی استعمال کی، ہر ایک کا طریقہ مختلف تھا اور ہر بم کی ژیلڈ (Yield) مختلف تھی۔(ژیلڈ کوئی انگریزی زبان کا نیا لفظ نہیں تھا۔ اس کا سویلین مفہوم ”پیداوار“ تھا۔ آج بھی ہم کہتے ہیں کہ فلاں بیج کے استعمال سے فلاں فصل (گندم، چاول، مکی وغیرہ) کی ژیلڈ فی ایکڑ زیادہ یا کم ہوتی ہے)۔

اگرچہ ان پانچوں جوہری ممالک کی ٹیکنالوجی اور ژیلڈ مختلف تھی لیکن اس نئے ہتھیار کی عالمگیر تباہی اور بربادی سے کسی کو بھی انکار نہیں تھا۔ پہلے پہل تو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس چاروں مغربی طاقتیں کہلاتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ فن اور یہ ٹیکنالوجی صرف یورپ اور امریکہ کی سفید فام اقوام کے خصوصی تصرف میں رہے گی۔ لیکن جب 1964ء میں چین کی زرد فام قوم نے بھی جوہری بم کا تجربہ کر لیا تو تب ’سفید فامی‘ کا نشہ امریکی اور یورپی اقوام کے سر سے نکل گیا۔ چنانچہ ان پانچ جوہری ممالک کا ایک خصوصی کلب بن گیا جس میں جوہری بموں کے استعمال کے طور طریقوں اور قوانین و ضوابط کا ایک الگ کتابچہ مرتب کر لیا گیا۔

چونکہ یہ جوہری ہتھیار عالمگیر بربادی اور ہلاکت کے نقیب تھے اس لئے بین الاقوامی برادری ان کے استعمالات کے سلسلے میں بڑی چوکس اور خبردار رہی۔ وہ جاپان کا حشر دیکھ چکی تھی اور دوسرا جاپان بننے کو تیار نہ تھی۔ ان جوہری ہتھیاروں کو سٹرٹیجک سلاحِ جنگ کا نام دیا گیا اور ان کے استعمال کے لئے سخت ترین شرائط طے کی گئیں۔ اس وقت یہ خیال کیا گیا کہ اگر کسی بھی دو ملکوں کے پاس یہ بم ہوں تو ان کی ہوش ربا اور عالمگیر قوتِ تباہ کاری کے طفیل وہ دونوں ممالک انہیں استعمال نہیں کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں فرض کر لیا گیا کہ ان جوہری بموں کی موجودگی، اہلِ بم اقوام کو کسی بھی روائتی جنگ سے باز رکھے گی کیونکہ روائتی جنگ بالآخر غیر روائتی جنگ (جوہری جنگ) پر منتج ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ سوویٹ یونین اور امریکہ دنیا کی دو سپرپاور کہلاتی رہیں اور ”باہم خودکشی“ (MAD) کا خوف ان دونوں سپرپاورزکا محافظ بنا رہا۔

لیکن پھر امریکہ میں بھی ایک نریندر مودی پیدا ہو گیا۔ اس کا نام جان ایف کینیڈی تھا! اس نے اکتوبر 1962ء میں کیوبا میں روسی جوہری تنصیبات کو ہٹانے کے سوال پر اس وقت کے رشین لیڈر خروشچیف سے ٹکر لے لی۔ کیوبا، امریکی سرزمین سے صرف 90میل دور ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ یہ جوہری سٹینڈ آف صرف 13دن تک موجود رہ سکا اور 14ویں روز روس (سوویٹ یونین) نے اپنے میزائل کیوبا سے ہٹا لئے۔ (لیکن یہ بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ امریکہ نے بھی اپنے میزائل ترکی سے ہٹا لئے تھے)

نریندر مودی نے اوائل 2019ء میں پاکستان میں بالاکوٹ پر حملہ کرکے یہی خطرہ مول لے لیا تھا لیکن 27فروری کو پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کا جو حشر کیا، اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی وزیراعظم نے علاقائی جوہری جنگ کے امکانات کا ذکر اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں بھی کیا لیکن دنیا نے اس کا ”چنداں“ نوٹس نہ لیا…… یہ کہنا تحصیلِ حاصل ہوگا کہ مئی 1998ء میں ایشیاء کی دو ہمسایہ اقوام بھی جوہری میدان میں کود پڑیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی جانی دشمن تھیں، ہیں اور ہمیشہ رہیں گی…… یہ ایک عجیب و غریب صورتِ حال ہے۔ مئی 1999ء میں کارگل وار چھڑ گئی تھی لیکن چونکہ دونوں ممالک جوہری ردا اوڑھ چکے تھے اس لئے اس کا دائرہ صرف ایل او سی تک محدود رہا۔ اس وقت باجپائی انڈیا کے وزیراعظم تھے۔ لیکن پورے 20 برس بعد نریندر مودی نے تو بی جے پی کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ دنیا آج مودی کی پارٹی کو RSS کا تتمہ اور ہندوتوا کا تکملہ گردانتی ہے…… مودی نے یہ ناقابلِ یقین رسک کیوں لیا اور اس کی پشت پر کون سی بین الاقوامی قوتیں تھیں، اس پر بحث ہوتی رہے گی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی اور ہندوستانی جوہری وارہیڈز اور ان کو دشمن پر گرانے / پھینکنے کے سہ گانہ ڈلیوری سسٹم (گراؤنڈ، ایئر اور نیول) ایک ایسی تلوار ہے جو نہ صرف ان دونوں ممالک کے سروں پر لٹک رہی ہے بلکہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

نریندر مودی کی دوسری بلنڈر اس کی داخلی بلنڈر کہی جائے گی۔

اس بلنڈر میں مودی نے اپنی ایک ایسی اقلیت کو للکارا ہے جس کا فیصلہ کسی بھی وقت کسی بڑے اندرونی دھماکے (Implosion) کا باعث بن سکتا ہے۔ ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی تحریک اب ملک گیر تحریک میں تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ سکھ نہایت بے دھڑک، ہٹ دھرم، ضدی اور بلنٹ اقلیت ہیں۔ اس کا ثبوت اندرا گاندھی کے دور میں پوری دنیا کو مل چکا ہے۔ میں حیران ہوں کہ چلو پاکستان پر 26فروری 2019ء کو حملے کی پشت پر تو شاید کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہو گا لیکن نومبر 2020ء سے شروع ہونے والی کسان تحریک کی پشتیبانی کون کر رہا ہے؟ ہندوستان کے سکھوں نے اب تک اپنے اٹل استقلال اور مستقل مزاجی کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔ اب ان سکھوں کے ساتھ انڈیا کے ہندو کسان بھی زرعی اصلاحات کے خلاف اٹھ چکے ہیں۔ لیکن مودی کو اپنی ہندوجاتی کے متزلزل ارادوں کا پتہ ہے۔ ہندو ایک نیم عسکری اکثریت ہے جس کا مقابلہ سکھوں کی سرتاپا عسکری اقلیت سے ہے۔

ہندوستان کی گزشتہ ایک ہزار برس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس پر عسکری اقلیت کی حکمرانی رہی ہے۔ یہ اقلیت پہلے مسلم عربوں کی تھی، پھر مسلم غزنویوں، غوریوں، تغلقوں، خلجیوں اور مغلوں کی تھی اور آخر میں عیسائی انگریزوں کی تھی۔ انڈیا کی ہندو اکثریت کے لہو میں سکھوں کی اقلیت کا سامنا کرنے کا یارا نہیں اور نریندر مودی کا تعلق کسی جنگجو مرہٹہ یا سکھ یا ڈوگرہ اقلیت سے نہیں۔ اس کا تعلق تو اس اکثریت سے ہے جو غلام ابنِ غلام ہے۔ عصرحاضر نے اگرچہ ذات پات کی تمیز ختم کر دی ہے اور ملٹری ٹیکنالوجی کو نسلی تفاخر پر برتری دے دی ہے لیکن یہ فوقیت ابھی ہندو قوم کی رگ و پے میں سرائت نہیں کر سکی۔ اس کے لئے ایک آدھ صدی کا عرصہ کافی نہیں، کئی صدیوں کا دورانیہ درکار ہے……اگر مودی نے اس حقیقت کا عرفان پانا ہے تو افغانستان کی تاریخ ایک کھلی کتاب ہے!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment