0

مودی اور عالمی امن ان ٹربل

مودی اور عالمی امن ان ٹربل

ہندوستان، مودی کا ہندوستان لاریب ایک بڑی جمہوریت اور معاشی طاقت ہے ہندو تاریخ میں مودی اپنا مقام بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہی نہیں بلکہ برسرِ پیکار ہیں انہوں نے ہندو اکثریت کو یہ باور کرا دیا ہے کہ وہ ان کے لیڈر ہیں اور ہندو کو عظمتِ رفتہ سے وابستہ کرنے کا ذریعہ ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ نے سفید اور مذہبی گورے امریکی کو یقین دلا دیا ہے کہ وہ اس کے آدرشوں کے محافظ و نگہبان ہی نہیں بلکہ ان کی حاکمیت اعلیٰ قائم کرنے کے لئے بہترین آپشن ہیں۔ نریندر مودی اچانک قیادت کے منظر پر نہیں اُبھرے۔ ہندو کی عظمت اور حاکمیت کو مسلم اور مستحکم کرنے کا خیال انہیں اچانک نہیں آیا۔ ان کی مسلم دشمنی کسی خاص واقع یا حادثے کی پیداوار نہیں ہے انہوں نے یہ تجرد کی زندگی کسی سانحے کے نتیجے میں اختیار نہیں کی بلکہ ان کی شخصیت اور ان کی حالیہ مہم جوئی کے پیچھے نصف صدی سے زیادہ کی سیاسی جدوجہد اور فکری و نظری ارتقاء کار فرما ہے ہندوستان، ہندوؤں کا ہے۔ یہاں اس بھارت میں ہندو مذہب کی حاکمیت قائم کرنے والی جماعت آر ایس ایس کے ساتھ ان کا ابدی تعلق ہے ہمیں لگتا ہے کہ مودی ایک جاہل چا ئے بنانے والا مجرد شخص ہے لیکن اس نے نہ صرف سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلکہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی قوم کو عملاً یقین دلا دیا کہ وہ ایک نظریاتی سیاستدان اور اعلیٰ درجے کا منتظم اور رہنما بھی ہے جو آر ایس ایس کے نظریات کو عملی شکل بھی دے سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی ہندو نے مودی کو دو مرتبہ بھارت کی قیادت سونپ کر ان کی صلاحیت و سیادت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

گجرات میں مسلم کش فسادات میں ملوث ہونے کے باعث، امریکہ نے مودی کے بطور وزیر اعلیٰ امریکہ داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن جب متعصب ہندوؤں نے مودی کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر بٹھا دیا تو امریکی صلیبی/ صہیونی لابی نے اسے اپنا دوست بنا لیا تاکہ عالمی بساطِ سیاست میں اسے استعمال کیا جا سکے۔ دوسری طرف نیتن یاہو، ریاست اسرائیل کو ایک صہیونی ریاست بنانے پر ایسے ہی یکسو ہیں جیسے مودی بھارت کو ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ دشمنی دونوں کا مشترکہ نصب العین ہے نیتن یاہو اور مودی دونوں مسلمانوں کو صرف فکری طور پر ہی اپنا یعنی یہودیت اور ہندو توا کا دشمن نہیں سمجھتے بلکہ ان کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے عملاً بھی کوشاں ہیں ان دونوں کو متعصب صلیبی حکمران ٹرمپ کی فکری اور عملی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

سیاست حاضرہ کے مطابق نیتن یاہو یکم جولائی کو مغربی کنارے کو ریاست اسرائیل میں ایسے ہی ضم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جیسے مودی سرکار نے مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر لیا ہے کیونکہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل کے لئے صہیونی منصوبے کے مطابق مغربی کنارہ اس کا حصہ ہے گویا یروشلم سارے کا سارا یروشلم ریاست اسرائیل کا حصہ بن جائے گا۔ نیتن یاہو پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے چکے ہیں اور امریکہ نے ان کے اس غیر فطری مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل بھی کر دیا ہے۔

مودی کا مسلم کش رویہ اور پھر اقوام عالم کی قراردادوں کے برعکس جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر نا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے عالمی تنہائی کا شکار ہے پھر اس نے ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے بھارت میں شہریت کا متنازعہ قانون بھی نافذ کر دیا جس کے باعث پورے ہندوستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے ان مظاہروں میں صرف مسلم اور دیگر اقلیتیں ہی نہیں بلکہ سیکولر ہندو بھی شامل ہیں معاملات خاصے بگڑ رہے ہیں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی اپوزیشن پارٹیاں ان معاملات میں مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لیکن مودی سرکار اپنے نظریات کے مطابق ہندوستان کو عظیم تر بنانے کی ہندوتوا پر آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے بھارتی اپوزیشن پارٹیاں ان کی ایسی تمام پالیسیوں کو بھارتی ریاستی یکجہتی کے خلاف سمجھتی ہیں بلکہ بھارتی سیکولر آئین کی روح کے منافی تصور کرتی ہیں لیکن معاملات آگے ہی بڑھتے بڑھتے نازک مراحل میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے ساتھ مودی سرکار حالتِ جنگ میں ہے۔ لائن آف کنٹرول پر معاملات گرم ہیں بھارتی فضائیہ پاکستان پر حملہ آور ہو چکی ہے گزشتہ دنوں بھارت سرکار نے پاکستان پر ایک بار پھر جعلی سرجیکل سٹرائیکس کا ڈرامہ سٹیج کر کے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن اسے کامیابی نہیں ہو سکی۔

چین کے ساتھ لداخ میں بھی معاملات گرم کئے جا چکے ہیں نیپال جیسے کمزور ملک کے ساتھ بھی مودی سرکار کی چھیڑ چھاڑ نے خطے میں بد امنی کی فضا کو فروغ دیا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ چائے بیچنے والے مودی نے دو ایٹمی مملکتوں کے ساتھ پنگا لے رکھا ہے ہمارے یہاں ایسا تاثر قائم ہے کہ مودی ایک بے وقوف، ان پڑھ، مجرد چائے بیچنے والا ”جھوٹا“ہے جو بھارتی ریاستی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ ہمیں ایسے لگتا ہے کہ وہ بچگانہ حرکتیں کر رہا ہے لیکن بات اتنی بھی سادہ نہیں ہے مودی اتنا بھی احمق نہیں ہے جیسا ہم سمجھ رہے ہیں۔

ذرا عالمی بساطِ سیاست پر نظر ڈالیں۔ پوری دُنیا پر کورونا وائرس چھایا ہوا ہے۔ امریکی عالمی سیادت خطرے میں نظر آ رہی ہے، چین اس کے لئے ایک حقیقی چیلنج بن چکا ہے، افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکی پسپائی پر امریکہ نے خود مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، خطے میں بھارت کا پاکستان کے خلاف لگایا گیا ایک مورچہ ختم ہو گیا ہے۔بھارت سرکار افغانستان میں اپنی سٹرٹیجک اہمیت کھو چکی ہے،افغانستان اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور ایسے ہی قوم دشمن افراد یا گروہوں کا نہیں، طالبان اور ان جیسے محب قومی افغانوں کا ہے جس میں مکار پاکستان دشمن بھارت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔دوسری طرف سی پیک کے ذریعے چین جیسی عالمی طاقت پاکستان کی پشت پناہ بن چکی ہے ایسے میں امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں مودی خطے میں صہیونی صلیبی بساطِ سیاست کے مہرے کے طور پر کام کر رہا ہے تو ایسا سب کچھ کرنے میں اس کے تجارتی مفادات بھی ہیں۔پاکستان کے ساتھ بگاڑ تو ہندو اسٹیبلشمنٹ کی گھٹی میں پڑی ہے، چین کے ساتھ پنگا لینا حادثاتی نہیں،بلکہ مودی سرکار کی جمع تفریق کے بعد لانچ کی گئی چال ہے، جس طرح اسرائیل ”یروشلم سارے کا سارا ہمارے“ کا دعویدار ہے اور اس پر عمل کرنے کے لئے یکسو ہے، بالکل اسی طرح مودی سرکار“کشمیر سارے کا سارا ہمارا ہے“ کے نعرے کو عملی شکل دینے کے لئے یکسو نظر آ رہا ہے۔

پاکستان کے ری ایکشن کو بھارت کا اہمیت نہ دینا قابل ِفہم لگتا ہے، کیونکہ پاکستان معاشی و سیاسی لحاظ سے کمزور پوزیشن میں ہے،لیکن چین کے ساتھ بھارتی مڈ بھیڑ یقینا ”بیرونی آشیر باد“ کے ساتھ ہے۔امریکہ اسرائیل کے نظریاتی ہی نہیں، سیاسی مفادات بھی بھارت سرکار کے ساتھ مل رہے ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کا اسرائیلی حکمرانوں اور کشمیری مسلمانوں کا مودی سرکار کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہونا مشترکہ مفادات میں شامل ہے۔ خطے میں چین کو گھیرنے کے لئے مودی سرکار کو استعمال کرنا امریکہ ہی پالیسی ہے جیسی بھارت و اسرائیل کی ہے۔مودی سرکار بھول پن یا حماقت سے عالمی امن کو خطرے میں نہیں ڈال رہی ہے،بلکہ یہ سوچی سمجھی عالمی منصوبہ سازی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں