Home » منبر ہے مر اتخت، مرا تاج علم ہے

منبر ہے مر اتخت، مرا تاج علم ہے

by ONENEWS

سن 2004 کی ایک سرد رات تھی جب کراچی کے علاقے گلبرگ میں واقع امام بارگاہ آل عبا میں پہلی بار میں نے دھان پان سے ایک شخص کو شرر بار لہجے میں تقریر کرتے ہوئے سنا۔ یہ شخص بلا کا مقرر تھا۔ آواز کا زیر وبم، الفاظ ادا کرنے کا سلیقہ، گفتگو اور ہاتھوں کی جنبش میں غضب کا تال میل اور ان سب سے بڑھ کر ابرو کے چڑھتے اترتے تیور، وہ بے مثال شخص بولتا چلا جارہا تھا اور میں سنے جارہا تھا۔ اسی بہاؤ میں رک کر اس شخص نے میر انیس کا شعر پڑھا؛

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

پانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں

یہ تھے علامہ ضمیر اختر نقوی۔ پاکستان کے شہر کراچی میں آباد جیتا جاگتا لکھنؤ۔ وہ بولتے تو ایسا لگتا تھا کہ کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئی زبان بول رہے ہیں۔ تیور بدلتے تو گویا بجلیاں سی کوندتی تھیں۔ وہ جب چلتے تو گویا وقت تھم سا جاتا۔ ایک بار انہیں پان کی گلوری بنا کر پیش کی تھی چند لمحے اس سے لطف کشید کرنے کے بعد کہنے لگے کہ تمھارے ہاں پان کون کھاتا ہے، میں نےجواب دیا کہ قبلہ کوئی نہیں تو حیران ہوئے اور کہنے لگےکہ پان لگانا ویسے تو ایک فن ہے لیکن ہر کسی کے ہاتھ میں ذائقہ نہیں ہوتا، تمھارے ہاتھ کے پان میں قدرتی طور ذائقہ ہے۔

Photo: Samaa Digital

یہ وہ ایام تھے جب جامعہ کراچی ہماری دوسری محبت کا درجہ پاچکی تھی اور گلشن اقبال میں واقع ان کا فلیٹ مجھے بالکل دور نہیں لگتا تھا۔ ایام عزا یعنی آٹھ ربیع الاول کے بعد کے دن اکثر فراغت کے دن ہوا کرتے تھے، ماتمی انجمنیں اپنی دو مہینے کی تھکن اتارا کرتی تھیں اور قبلہ اپنی رہائش گاہ پر محض اپنے عملے کے ساتھ موجود ہوا کرتے تھے، یا پھر چند ایک قریبی احباب۔ یہی وہ دن تھے جب ہم نے علم وہدایت اور تہذیب کے اس زندہ جاوید سرچشمے کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے اور علم وعرفان کے ایسے ناد رو نایاب موتی سمیٹے کہ ساری زندگی بھی لکھتا رہوں تو انشااللہ یہ فکری سرمایہ کم نہ ہوگا۔

ضمیر اختر کو بہت سے لوگ عالمِ دین سمجھتے ہیں جب کے وہ ایک ریسرچ اسکالر اور خطیب تھے، ان کا کام تاریخ کے دفاتر میں سے وہ گوہر نایاب تلاش کرنا تھا جن کے لیے اچھے وقتوں میں علما اپنی دستاریں محقق کے قدموں میں ڈال دیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے گستاخی کی انتہا کرتے ہوئے پہلی بار کسی واقعے کا حوالہ مانگا تھا تو مسکراتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے بتایا کہ جاؤ! فلاں شیلف میں فلاں کتاب لگی ہے وہ نکال کر لے آؤ۔ جب بھی کبھی ایسا موقع آیا تو مجال ہے جو کبھی کسی کتاب کا پتہ غلط بتایا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ انہیں اپنی لائبریری کی ہر کتاب حفظ تھی اور لائبریری بھی کیسی؟۔ پورا گھر ہی مکمل لائبریری۔ کوئی دیوار نظر نہیں آتی تھی بس شیلف تھے اور ان میں کتابیں تھیں۔ اور ہم جیسوں کا یہ حال ہے کہ گھر میں ادھر ادھر سےچند سو کتابیں جمع کرکے سمجھتے ہیں کہ کوئی بہت بڑاتیر مار لیا ہو۔ ان کے اپنے ایک کلام کا شعر سنیں ، کہتے ہیں کہ؛

وہ اور ہیں جو گم ہیں سرابوں کی فضا میں

میں سانس بھی لیتا ہوں کتابوں کی فضا میں

یہ تھا ان کا گھر اور اس گھر کا ماحول جہاں سے بلاشبہ سینکڑوں لوگوں نے علم کے موتی اکھٹے کیے ہیں۔ علامہ شب بیدار شخص تھے۔ رات گہری ہوجاتی تو ان کے اعصاب جاگ اٹھتے اور ایسے وقت میں وہ ایسے اسرار و رموز بیان کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ ایک مرتبہ جب میں اور علامہ طلال حسین رضوی ان کے گھر میں موجود تھے تو ایک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے کہ آج کے انسانوں کے ذہنی اور فکری مسائل کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم انسان اس تہذیبی ورثے کو رد کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ ہماری جبلت نے ہمیں سکھائے ہیں۔

اب سامنے مجھ جیسا نادان اور کم علم بیٹھا تھا سو بات سمجھ ہی نہیں آئی۔ اچھی بات یہ تھی کہ جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو پوچھ لیتا ہوں اسی عادت کے تحت پوچھ لیا کہ بھیا! میں سمجھ نہیں پایا کہ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔

اس نابغہ روزگار شخص نے آنکھوں کو اپنے مخصوص انداز میں گھما کر مجھے دیکھا جیسے میری جہالت پر افسوس کررہے ہوں اور پھر گویا ہوئے۔

دیکھو! ہمارا بدن اجزائے زمینی سے بنا ہے یعنی خاک ، پانی، خون اور گوشت سے لیکن اس بدن میں مقید روح یہاں کی نہیں ہے یہ عالم افلاک سے یہاں بھیجی گئی ہے عصر سے مغرب کے درمیان کا وقت ہم انسانوں پر بہت بھاری پن کے اثرات مرتب کرتا ہے کہ روح اس وقت اپنے اصل وطن کو یاد کرکے بے چین ہوتی ہے۔

روح کی بے چینی ہمارے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے اور ہم بوجھل پن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ہزاروں سال قبل کا ذہین انسان اس راز سے واقف ہوگیا تھا سو اس نے فنون لطیفہ کی بنیاد رکھی اور شام کا وقت قصے کہانیوں، دوستوں اور عزیز و اقارب سے ملاقات، کھیل تماشوں اور موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے متعین کیا گیا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔

جب مذاہب آئے تو انہوں نے بھی شام کے وقت روح کی اضطرابیت دور کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ اہتمام کیا جیسا کہ اسلام میں نمازِ عصر کا وقت۔ یہ عین وہی وقت ہے جب روح کا اضطراب شروع ہوتا ہے۔

سو فواد! اگر ہم شام کے اوقات میں اپنی روح کی تسکین کا سامان کرلیا کریں تو ہماری زندگیوں میں جویہ ذہنی اور فکری الجھنیں ہیں ان کا سدباب ہوجائے لیکن ہم دوڑ میں لگے ہیں پیسے کمانے کی اور جلد سے جلد آگے نکل جانے کی اور اس کے عوض ہم اپنی روح کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں۔

وہ یقیناً اپنے علمی مرتبے سے وابستہ تھے اور اس بات پر انہیں فخر بھی تھا کہ انہوں نے ساری زندگی پیسہ نہیں کمایا لیکن علم کے دریا ان کی زبان پر جاری رہتے ہیں اور اپنے اسی فخر کو انہوں نے اپنے ایک کلام میں کچھ اس طرح نظم کیا ہے؛

احساس کو تحریر کیا جس نے وہ میں ہوں

تحریر کو تقریر کیا جس نے وہ میں ہوں

ہر لفظ کو زنجیر کیا جس نے وہ میں ہوں

تاریخ کو تسخیر کیا جس نے وہ میں ہوں

ایسی کوئی بالغ نظری ہو تو دکھاؤ

ہمسر مرا دنیا میں کوئی ہو تو دکھاؤ

لکھنؤ سے کراچی تک

علامہ ضمیر اختر نقوی سن 1944 میں بھارت کے تاریخی شہر لکھنؤ میں سید ظہیر حسن نقوی کےگھر پیدا ہوئے۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی زبان پر عبور حاصل کیا۔ دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے انہوں نے لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیا اور گورنمنٹ جوبلی کالج، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل کی۔ انہیں اعزازی طور پر پی ایچ ڈی کی سند بھی حاصل تھی جس کی بنا پر وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ لگایا کرتے تھے۔

سن 1967 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور پھر مستقل طور پر کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ کئی سال رضویہ سوسائٹی میں مقیم رہے پھر وہاں سے انچولی منتقل ہوگئے اور بعد ازاں مرکز علوم اسلامیہ کی داغ بیل ڈالی تو گلشن اقبال میں واقع اس کے دفتر کو ہی اپنی اقامت گاہ بھی قرار دیا۔ لکھنؤ اور علامہ ضمیر اختر لازم و ملزوم تھے۔ آخری سانس تک وہ اپنی وضع کے ساتھ زندہ رہے۔ شیروانی اور سفید کرتا پاجاما اور ساتھ چلتا پاندان ان کی شناخت تھا۔

ضمیر اختر کی علمی میراث

ضمیر اختر 40 کے قریب کتب کے مصنف تھے جبکہ انکے سینکڑوں مجالس کے عشرے بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔ آپ نے مرثیہ نگاری کی تاریخ اور اردو زبان کے مشہور مرثیہ نویس میر انیس، مرزا دبیر اور جوش ملیح آبادی پر بھی کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ اردو ادب پر واقعۂ کربلا کے اثرات، تذکرہ شعرائے لکھنؤ، اقبال کا فلسفۂ عشق اور شعرائے مصطفیٰ آباد آپ کی اہم کتب ہیں۔ نثر نگاری اور ادبی تنقید بھی علامہ ضمیر اختر نقوی کے اہم موضوعات رہے ہیں۔ آپ نے عمران سیریز کے مصنف ابنِ صفی کی ناول نگاری پر بھی ایک کتاب تحریر کی۔ دو جلدوں پر مشتمل نوادراتِ مرثیہ نگاری علامہ ضمیر اختر نقوی کی اہم کتب میں سے ایک ہے جبکہ مذہبی اعتبار سے آپ نے خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت عباس علمدار علیہ سلام اور دیگر اہم اسلامی شخصیات کی سوانحِ حیات بھی تحریر کی ہیں۔

میر انیس کی حیاتِ نو

اردو شاعری میں میر انیس کو خدائے سخن کا مرتبہ حاصل ہے اور ان کے تحریر کردہ مرثیوں کے سبب اردو کبھی بھی ان کی شخصیت کو بھلا نہیں سکتی لیکن نوجوان نسل کو میر انیس کے مرتبے سے آشنا کرانے میں علامہ ضمیر اختر کی خدمات بے مثال ہیں۔ انہوں نے میر انیس پر متعدد کتب تحریر کیں جن میں میر انیس کی سوانح حیات، خاندانِ میر انیس کے نامور شعراء، ہر صدی کا شاعر اعظم میر انیس، میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال اورمیر انیس بحیثیت ماہر حیوانات شامل ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ وہ اکثر و بیشتر اپنی مجالس میں میر انیس کے مرثیے پڑھ کر سنایا کرتے اور جب میر انیس جیسے قادر الکلام شاعر کا مرثیہ ہو اور پڑھنے والا علامہ ضمیر اختر جیسا بلا کا مقرر تو سامعین کو ایسا لگتا کہ علامہ بول نہیں رہے بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے مناظر پیش آرہے ہیں۔ کراچی میں مجلسِ مرثیہ کی روایت تقریباً دم توڑ چکی تھی جس کے احیاء کا سہرا بھی یقیناً علامہ ضمیر اختر نقوی کے سر ہی ہے جس کے بعد عصر حاضر کے کئی شعرا دوبارہ مرثیہ گوئی کی جانب راغب ہوئے۔

ضمیر حیات

علامہ ضمیر اختر کی زندگی اور ان کے علمی کارناموں پر بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان سے وابستہ ڈاکٹر شوذب کاظمی نے ضمیر حیات کے عنوان سے ایک ضغیم تحقیقی مقالہ لکھا ۔ ڈاکٹر شوذب کاظمی اپنے تحقیقی مقالے ضمیر حیات میں لکھتے ہیں کہ معروف شاعر اور فلسفی رئیس امروہوی نے علامہ کی کتاب اردو غزل اور کربلا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ برادرِ عزیز جناب سید ضمیر اختر نقوی نے کربلا کے سلسلے میں ایک نئے موضوع کو تلاش و تحقیق کا نقطہ توجہ بنایا ہے۔ یعنی اردو غزل اور کربلا یہ گراں مایہ کتاب 6 ابواب پر مشتمل ہے۔ موضوع بھی انوکھا اور اندازِ بیاں بھی دلچسپ ہے۔

علامہ ضمیر اختر نقوی سے انتہائی رغبت رکھنے والے علامہ طلال حسین رضوی نے اس سانحے کے بعد راقم الحروف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین کرو! آج کراچی میں تہذیب عزاداری کا باب بند ہوگیا۔ ہم بھیا (ان کے قریبی لوگوں میں ان کی عرفیت) کو دفن کرکے نہیں آئے بلکہ اپنی تہذیب کو دفن کرکے آئے ہیں۔ ان کے بعد اب کون ہے جو عزاداری کے باریک نکتے ہمیں سمجھائے گا اور کون ہماری اغلاط پر ہمیں پیار بھرے لہجے میں ڈانٹ کر ہماری اصلاح کرے گا۔ طلال حسین رضوی نے کہا کہ آج ایک شخص ہم میں سے رخصت نہیں ہوا بلکہ ہمارا مربی، محسن، ہمارا شفیق باپ ہمارے سروں سے اٹھ گیا ہے۔ صرف ہم یتیم نہیں ہوئے بلکہ برصغیر کی عزادری یتیم ہوگئی ہے۔

ضمیر اختر ایک ہمہ جہت شخصیت اور مسلسل مصروف رہنے کے عادی تھے۔ پچاس سال تک بے تکان مجالس پڑھنے، کتابیں لکھنے اور نوجوانوں کو تہذیب سکھانے کے بعد بالآخرعلم و فن کے آسمان کا یہ سب سے روشن ستارہ 13 ستمبر 2020 کو غروب ہوا۔ ان کی تدفین کراچی ٹول پلازہ سے متصل قبرستان وادی حسین میں کی گئی۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد شامل تھے اور ہر آنکھ ان کے غم میں اشک بار تھی۔

انہی کے کلام پر اس تحریر کو مکمل کرتا ہوں کہ؛

خورشیدِ بلاغت میں ضیا ہے مرے دم سے

رنگین فصاحت کی قبا ہے مرے دم سے

تہذیب وتمدن میں جلا ہے میرے دم سے

روشن ادب وفن کی فضا ہے میرے دم سے

کاغذ ہی پہ کیا صرف قلم میں نے رکھا ہے

معیارِ خطابت کا بھرم میں نے رکھا ہے

منبر ہے مر اتخت مرا تاج علم ہے

مجلس مرا دربار ہے یہ جاہ و حشم ہے

قبضے میں مرے دولتِ قرطاس و قلم ہے

یہ اوج مقدر مرے مولا کا کرم ہے

یہ ملک اور اس ملک سے جو کچھ بھی ملا ہے

سب فخر سلیماں کی غلامی کا صلا ہے

.

You may also like

Leave a Comment