Home » ملک اشرافیہ کے باپ کا ہے!

ملک اشرافیہ کے باپ کا ہے!

by ONENEWS

ملک اشرافیہ کے باپ کا ہے!

کپتان نے میرے دل کی بات کہہ دی ہے ”یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں“ میرے جیسے پاکستانیوں کو ساری زندگی یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان عوام کا نہیں بلکہ خواص کا ہے جنہوں نے اسے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے، اب ملک کے وزیر اعظم نے اگر یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں تو یک گونہ خوشی ہوئی ہے کہ پہلی بار اعلیٰ منصب پر بیٹھے ہوئے حکمران نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان کو کچھ لوگ اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں، جبکہ یہ ان کی نہیں عوام کی جاگیر ہے۔ کچھ لوگ اب یہ بھی کہیں گے کہ عمران خان نے ایسا کون سا کام کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہو کہ ملک اب کسی کے باپ کا نہیں رہا، عوام کا ہو گیا ہے ایک ڈائیلاگ کی حد تک یہ بہت جاندار جملہ ہے مگر ایسے ڈائیلاگ تو عوام سلطان راہی کی فلموں میں بھی بہت سنتے رہے ہیں ان سے فرق تو کوئی پڑا نہیں بلکہ جو پاکستان کو اپنی خاندانی جاگیر سمجھتے ہیں، وہ مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ اس حوالے سے تو پاکستان نے بہت ترقی کی ہے۔ قائد اعظمؒ کی رحلت کے بعد سے ملک جس تنزل کا شکار ہوا اس میں اگر کسی بات کو عروج حاصل ہوا تو وہ یہی ہے کہ یہاں ملک کے باپ دادا پیدا ہو گئے۔ جنہوں نے اس کا نظام  ہائی جیک کیا۔ اس کے قانون کے کس بل نکالے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ جو کچھ بھی ملے ان کے توسط سے ملے اور عوام ایک غلام کی شکل میں زندہ رہیں۔

کہنے کو یہ جملہ بہت پر کشش ہے۔ عام پاکستانی کو سہانے سپنوں میں لے جاتا ہے۔ جہاں وہ خود کو آسمان پر اڑتا محسوس کرتا ہے اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ آزاد پرندے کی طرح کہیں بھی اڑ سکتا ہے۔ احساس تحفظ اور قانون کی عملداری اسے ایک ایسی زندگی سے ہمکنار کرتی ہے، جس میں ہر روز مرنا نہیں پڑتا، قدم قدم پر ظلم اور زیادتی برداشت کرنے کی ذلت نہیں اٹھانی پڑتی جہاں اسے لگتا ہے کہ وہ ایک آزاد ملک کا شہری ہے اور آئین و قانون کی چھتری اس کے تحفظ کی نگہبان ہے مگر جلد ہی اس کے یہ سارے خواب زمینی حقیقتوں کی وجہ سے چکنا چور ہو جاتے ہیں اسے سرکاری دفتروں، تھانوں، کچہریوں اور با اثر افراد کے ڈیروں پر اس احساس غلامی اور کم مائیگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں اشرافیہ نے بائیس کروڑ عوام کو مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ انصاف کے لئے کچہری میں دھکے کھاتا ہے تو تھانے میں پولیس کے چھتر اس کا مقدر بنتے ہیں وہ سر جھکا کے جینا سیکھ لے تو اسے زندہ رہنے کی اجازت مل جاتی ہے مگر جونہی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ پاکستان کا آزاد شہری ہے، اس کے بھی حقوق ہیں، یہ ملک اس کا بھی ہے تو جنہوں نے یہ ملک ٹھیکے پر لے رکھا ہے، یا جو اسے اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں وہ اس کی طبیعت صاف کر کے ایسی ہر غلط فہمی دور کر دیتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے یہ کہہ تو دیا کہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں، مگر وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے ان کے یہ کہہ دینے سے ملک کا اسٹیٹس نہیں بدل جائے گا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایسی کون سی چیز ہے جس نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان میں تمام شہریوں کو برابری کا احساس ہوا اور یہ لگے وہ ملک میں آزاد اور خود مختار ہیں، ملک پر اگر کسی ارب پتی کا حق ہے تو اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جو پانچ ڈالر روزانہ کماتا ہے۔ یہ چیز ہے قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی۔ وہاں جمہوریت بھی خاص طبقے کا شغل نہیں اور نہ ہی اس کی آڑ میں اقلیت اپنے فیصلے مسلط کرتی ہے۔ اگر پاکستان میں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہ بنے تو پھر یہاں آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہ کام تو کپتان نے کیا ہے اور نہ ان سے پہلے کے حکمرانوں نے، کیونکہ یہ کام کرنے سے اقتدار کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے، وہ تمام کروفر، وہ تمام حاکمانہ جاہ و جلال اور وہ سب اللے تللے جو ہمارے ہاں اشرافیہ اپنا حق سمجھتی ہے، ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ کچھ تو یہاں کسی نے ہونے نہیں دیا نہ ہونے دے گا۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کا ملک پر قبضہ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اشرافیہ میں وہ تمام طبقے باہم یکجا ہو گئے ہیں جنہوں نے اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ کوئی بھی شکل ہو وہ ایک دوسرے کو بچانے کے لئے دوڑے آتے ہیں ان کا ہدف صرف عوام ہوتے ہیں کیونکہ وہ انہی کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں انہیں کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزارنے کی مہلت بھی صرف اس لئے دیتے ہیں کہ ان کی زندہ لاشوں پر ان  کے محل استوار ہیں۔

چلیں جی کپتان کا اس بات پر بھی شکریہ کہ انہوں نے اتنا تو کہا اگر وہ اتنا بھی نہ کہتے تو عوام نے ان کا کیا بگاڑ لینا تھا تاہم ان سے دست بستہ یہ عرض کرنے کی جسارت کیا ہو سکتی ہے کہ حضور صرف آپ کے کہہ دینے سے یہ ملک عوام کی جاگیر نہیں بن جائے گا بلکہ اشرافیہ کے باپ کی ملکیت ہی رہے گا۔ ہاں اگر آپ اپنے دعوے اور منشور کے مطابق نظام انصاف میں اصلاح کرتے، پولیس نظام میں بہتری لاتے تو شاید اشرافیہ کا زور کسی حد تک ٹوٹ جاتا، مگر کپتان جی آپ تو اس طرف گئے ہی نہیں آپ نے تو اسٹیٹس کو اپنا لیا پولیس آج بھی اشرافیہ کی باندی ہے اور کچہریوں میں آج بھی پیسے والوں کو فوری انصاف مل جاتا ہے عام آدمی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر انصاف کی راہ دیکھتے دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ کسی طاقتور کے مقابلے میں کیا کوئی کمزور انصاف لے سکتا ہے، کوئی ایک بھی پاکستانی ایسا ڈھونڈ دیں جو اس کا جواب اثبات میں دے سکتا ہو اب ایسے میں کپتان کی یہ بات کیسے مان لیں کہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں، باپ کا ہے کپتان جی اشرافیہ کے باپ کا!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment