Home » ملکہ کوہسار کی خوبصورتی سیاحوں کیلئے باعث کشش ہے

ملکہ کوہسار کی خوبصورتی سیاحوں کیلئے باعث کشش ہے

by ONENEWS

ملکہ کوہسار کی خوبصورتی سیاحوں کیلئے باعث کشش ہے

اسلام علیکم پارے پارے دوستو سنائیں کیسے ہیں؟ امید ہے کہ اچھے ہی ہو نگے جی ہاں ہم آجکل اسلام آباد میں موجود ہیں اور جب اسلام آباد میں ہوں اور ملکہ کوہسار مری کی سیر کرنے کا خیال دل میں نہ ابھرے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جی ہاں بتلاتے چلیں کہ مری پاکستان کا معروف و مشہور ترین سیاحتی مقام ہے اور دنیا بھر کے سیاح  مری کا رخ کرتے ہیں -مری جسے ملکہ کوہسار بھی کہا جاتا ہے اور ہر سال جب بھی مری میں برف پڑتی ہے تو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور عوام جوق در جوق مری پہنچ جاتی ہے جی ہاں سیاح اسی خوبصورتی کی کشش میں کھنچے چلے آتے ہیں مری کا موسم دنیا بھر میں مشہور ہے اور ہم جب بھی اسلام آباد آتے ہیں مری کی سیر ضرور کرتے ہیں اور اس دفعہ تو تقریبا چار سے پانچ مہینے بعد اسلام آباد کا رخ کیا تھا کیونکہ کورونا کی وجہ سے لاہور کیا گھر سے ہی باہر نہ نکلے تھے اور اب موقع ملا تو اسلام آباد پہنچ گئے –

جی یہ بھی بتلا دیں کہ اسلام آباد میں زندگی کا طویل حصہ گزارا اور یاد ہے کہ جب بھی رات کو دفتر سے فرصت ملتی تو فٹ سے مری پہنچ جاتے اور مری ہم جی ٹی روڈ سے ہی جاتے تھے یہ تو میاں صاحب کی مہربانی ہوئی اہلیان مری پر کہ مری  جانے والوں کو بھی موٹروے پر سفر کرنا نصیب ہوا اور یقینا اسلام آباد مری کے ساتھ بہت سی حسین و خوشگوار یادیں بھی وابستہ ہیں اور انہی بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے مری کا رخ کرتے ہیں اور اس دفعہ جب ہم اسلام آباد پہنچے تو جناب مصطفی، اسد، عبداللہ اور انکی امی جان ہمراہ نہ تھیں سے اس لئے پنڈی سے عزیزم خرم ملک، راجہ اسرار اسد بھائی اور صدیق صاحب کو مری کی سیر کے لئے تیار کیا اور طے کردہ پروگرام کے مطابق صدیق سیالوی صاحب، ملک صاحب اور دیگر دوستوں کے ساتھ صبح صبح مقرر شدہ وقت پر میری رہائش گاہ پہنچ گئے اور ہم نے گاڑی کا رخ مری کی طرف موڑ لیا-

گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پہ خرم ملک موجود تھے تقریبا گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم مری جھیکا گلی سے ہوتے ہوئے بھوربن پہنچ گئے جہاں نوید عباسی جو روزنامہ طاس اسلام آباد کے بیورو چیف ہیں نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں فارسٹ ریسٹ ہاوس بھوربن لے گئے- جہاں خوبصورت نظارے ہمارے منتظر تھے جگہ جگہ برف ہی برف نظر آئی اور ہم سب خوب جی بھر کے برف میں کھیلتے رہے- صدیق صاحب اور اسد بھائی تو باقاعدہ برف میں کشتی کرتے رہے، جب سب تھک گئے تو جی بھر کے سیلفیاں بنوائیں اور تصویریں بھی اتاریں – تصویریں بنوانے کے بعد ہم وہاں سے نکلے تو نوید بھائی ہمیں لے کر مقامی ہوٹل چلے گئے جہاں پرتکلف کھانے کا اہتمام تھا،جسکے بعد ہم سب نے اسلام آباد واپسی کا ارادہ کیا- براستہ موٹروے ایکسپریس وے راستے میں ہنسی مزاق کرتے واپس اسلام آباد پہنچے، رات کے تقریبا نو بج رہے تھے اور ہم نے رہائش گاہ پر جانا ہی بہتر سمجھا، وہاں پہنچے تو تھکاوٹ کے باعث اپنے دوستوں کو خدا حافظ کیا اور نیند کی وادی میں ڈوبنے کی کوشش کرنے لگے لیکن مری بھوربن کے نظارے اور برف کے مناظر کسی فلم کی طرح ذہن میں گھوم رہے تھے اور اسی سوچ میں نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں پہنچ گئے کچھ خبر ہی نہ ہوئی- تو فی الوقت اب اجازت آپ سے چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکغا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment