Home » ملتان کا جلسہ سیاسی لاٹری اور گیلانی خاندان

ملتان کا جلسہ سیاسی لاٹری اور گیلانی خاندان

by ONENEWS

ملتان کا جلسہ، سیاسی لاٹری اور گیلانی خاندان

ملتان میں ایک ہی دن تقریباً ایک ہی وقت پر دو ریلیاں نکلیں، ایک ریلی کو گزارنے کے لئے پولیس راستے صاف اور دوسری کو روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی۔ اب اگر کوئی حکومتی وزیر مشیر کہے کہ پیپلزپارٹی کی ریلی کو اس لئے روکا گیا کہ کورونا پھیلنے کا خدشہ تھا تو اس کی یہ بقراطی کون مانے گا، کیونکہ دوسری طرف ایم ڈی اے کا چیئرمین بنانے پر تحریک انصاف کے رہنما رانا عبدالجبار جنہیں شاہ محمود قریشی کا سب سے چہیتا سمجھا جاتا ہے، عہدے کا چارچ سنبھالنے کے بعد ریلی کی شکل میں جا رہے تھے۔ اگر ریلی نکالنے پر پابندی تھی تو پھر اس کی اجازت کس خوشی میں دی گئی؟ بھلا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالنے کے لئے بھی ریلی کے ساتھ جاتا ہے۔

یہ کیا بھونڈا مذاق ہو رہا ہے اس حکومت کے دور میں جو یہ نعرہ لگا کر آئی تھی کہ نیا پاکستان بنائے گی اور پرانے پاکستان کی ساری خرابیاں دفن کر دے گی۔ ملتان میں 30 نومبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ ہو رہا ہے اور اسے روکنے کے لئے غالباً انتظامیہ کو ٹاسک دیا گیا ہے، لیکن ریلی نکالنے پر اگر سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو شاہ محمود قریشی کے لاڈلے رانا عبدالجبار کو کیوں نہیں کیا گیا، جنہوں نے نیو ملتان سے ایم ڈی اے چوک تک ریلی نکالی، ٹریفک جام کی اور کورونا کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہوئے۔ اس قسم کی حماقتیں حکومتی دعوؤں اور اقدامات کو مذاق بنا دیتی ہیں۔ ابھی چند ہی روز پہلے وزیر اعلیٰ کی معاون اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی فاتحانہ انداز سے اپنے آبائی شہر گئیں، ان کی آمد پر ایک بڑا استقبالی جلوس نکلا۔ وہ اس جلوس میں بھی خطاب کے دوران یہ کہتی رہیں کہ اپوزیشن کو سیاست کی پڑی ہے، لوگوں کی جانوں سے کوئی غرض نہیں، کیا کسی نے ان سے باز پرس کی کہ انہوں نے وزیر اعظم کے اس حکم کی پروا کیوں نہیں کی، جو انہوں نے جلسے جلوسوں کو روکنے کے ضمن میں جاری کیا ہے۔؟

ملتان میں گویا یوسف رضا گیلانی خاندان کی تو سیاسی لاٹری نکل آئی ہے، علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری سے اس خاندان کا نام بھی اب ”شہیدوں“ کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے، مجھے تو یوں لگتا ہے کہ پولیس یا انتظامیہ میں کوئی اس خاندان کا خیر خواہ موجود ہے جس نے اس موقع پر سید یوسف رضا گیلانی کو پورے ملک میں حکومت کا سب سے بڑا مخالف ثابت کر دیا ہے،  جن کے تینوں بیٹے ایک مقدمے میں نامزد کر دیئے گئے ہیں اور ایک کو حوالات میں بند بھی کر دیا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی جو 30 نومبر کے ملتان جلسے کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ ہیں، پچھلے کئی ہفتوں سے اس جلسے کی تیاری میں سرگرم تھے، جگہ جگہ کارنر میٹنگز بھی کر رہے تھے اور سیاسی و قوم پرست سرائیکی تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی، مگر رنگ کچھ چڑھ نہیں رہا تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اس جلسے کی کامیابی کا سہرا صرف  ان کے سر ہے۔ گزشتہ دنوں جب مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں ملتان آئی تو اس نے گیلانی ہاؤس کا بھی دورہ کیا، ملاقات بھی کی، مگر جب پریس کانفرنس کا وقت آیا تو سید یوسف رضا گیلانی اندر چلے گئے اور رانا ثناء اللہ کا ساتھ مخدوم احمد محمود نے دیا۔

گزشتہ سے پیوستہ روز عوام کو  30 نومبر کے جلسے کی  دعوت دینے کے لئے ایک ریلی نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ یہ ریلی بلا رکاوٹ نکلتی تو اس کا کسی نے نوٹس بھی نہیں لینا تھا مگر جب پولیس نے اسے گھنٹہ گھر چوک پر روکا تو گویا بات بن گئی۔ پورے ملک میں میڈیا کے ذریعے یہ بریکنگ نیوز چلنے لگی کہ ملتان جلسے کو روکنے کے لئے پولیس نے کریک ڈاؤن کر دیا ہے۔ کارکن گرفتار ہوئے تو علی موسیٰ گیلانی انہیں چھڑانے کے لئے تھانہ چہلیک پہنچے، جہاں انہیں بھی گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ بس پھر کیا تھا ہر طرف گیلانی خاندان کا ڈنکا بجنے لگا۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے ٹویٹ آگئے، جن میں علی موسیٰ گیلانی کو گرفتار کرنے کی مذمت کی گئی اور اسے خوفزدہ حکومت کا گھٹیا عمل قرار دیا گیا۔ پتہ نہیں اس میں حکومت کا ہاتھ تھا یا ملتان کی بے تدبیر پولیس اور انتظامیہ کا، البتہ بات حکومت کے گلے پڑ گئی کہ وہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے خوفزدہ ہو گئی ہے، میڈیا بار بار یہ بھی دکھاتا رہا کہ ایک طرف پی ٹی آئی کے حامیوں کی ریلی پولیس کی نگرانی میں جا رہی ہے اور دوسری طرف پیپلزپارٹی کی ریلی کو پولیس بزور طاقت روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملتان میں کورونا کی صورتِ حال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے۔ جس  روز یہ ریلیاں نکل رہی تھیں، اسی دن ملتان میں تحریک انصاف کے بانی رکن جاوید حیدر گردیزی اور ایک سینئر صحافی آصف علی فرخ نشتر ہسپتال میں کورونا کے باعث دم توڑ گئے۔ ملتان کا جلسہ اس سنگین صورت حال کی سنگینی کو کتنا بڑھائے گا اس بارے میں سب کو تشویش ہے مگر جب خود حکومتی آشیر باد سے ریلیاں نکلیں گی تو کون مانے گا کہ کورونا ان جلسے جلوسوں سے بڑھ سکتا ہے؟ پھر تو یہی کہا جائے گا کہ حکومت صرف اپنے مخالف جلسوں کو روکنے کے لئے کورونا کا پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ اس بات کا ذکر تو انہی کالموں میں پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے کہ ملتان کی انتظامیہ پی ٹی آئی کے مقامی عہدیداروں خصوصاً شاہ محمود قریشی کی آلہ کار بنی ہوئی ہے، حالانکہ اسے اپنے دماغ سے کام لینا چاہئے۔ ریلی سے ایک روز پہلے جب پی ڈی ایم جلسے کے لئے پیپلزپارٹی کے عہدیدار عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی اور علی حیدر گیلانی کے ہمراہ جو سید یوسف رضا گیلانی کے فرزند ہیں، قلعہ کہنہ قاسم باغ گئے تو گیٹ کو تالے لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے چوکیدار کو بلایا تو اس نے کہا چابیاں اس کے پاس نہیں ہیں حالانکہ چابیاں ہمیشہ چوکیدار کے پاس ہی ہوتی ہیں اس پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر تالے توڑ دیئے اور زبردستی قلعہ کہنہ قاسم باغ میں داخل ہو گئے۔ اس قانون شکنی پر تیس کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، گویا سیاسی اشتعال بڑھانے کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment