0

معزز ججز بھی دباؤ میں ہیں، مریم نواز

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کی طرح معزز ججز بھی دباؤ میں ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے میاں نواز شریف کی ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر ان کی قانونی ٹیم نے نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔

منگل کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت باقی نہیں۔ عدالت نے نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

مریم نواز شریف نے اس فیصلے کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ سیاستدانوں کی طرح معزز ججز بھی دباؤ میں ہیں۔ ان کے فیصلے کہہ رہے ہیں کہ وہ دباؤ میں ہیں۔ کیا معزز جج حضرات کو اس قسم کے عدلیہ دشمن واروں کے سامنے دیوار نہیں بن جانا چاہیے؟‘

مریم نواز کے مطابق ’نواز شریف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم اسی مقدمے میں ہے جس میں خود سزا دینے والے جج ارشد ملک نے نواز شریف کی نا صرف بیگناہی بلکہ بلیک میلنگ اور دباو میں زبردستی فیصلہ دلوائے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ جج صاحب کب کے گھر جا چکے مگر فیصلہ آج بھی جوں کا توں!‘

‘جج ارشد ملک کو تو گھر بھیج دیا گیا مگر اس سے یہ نہیں پوچھا کہ نواز شریف کو سزا کس کے کہنے پر دی؟ بلکہ نواز شریف کو ہی دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا؟ مقدمہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ جج کے اعترافِ جُرم کے بعد سزا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اگر سزا ہی قائم نہ رہتی ہو تو واپسی کیسی، گرفتاری کیوں؟’

انہوں نے کہا کہ ’بتاؤ کسی ایک کا نام جس کے لیے ایجنسیز پر مشتمل جے آئی ٹی بنی ہو ، جس کے لیے نیب ریفرنسز دائر کرنے کا حکم جاری ہوا ہو، جس کے لیے مانیٹرنگ ججز لگائے گئے ہوں ، جس نے بیٹی سمیت عدالتوں میں 150 سے زائد پیشیاں بُھگتی ہوں؟’

‘جو جیل کی کال کوٹھری میں جانے کے لیے اپنی 47 سالہ رفیقِ حیات کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر، اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے ناکردہ جرائم کی سزا کاٹنے وطن واپس آ گیا ہو اور قانون کے آگے پیش ہو گیا ہو۔ ایسے ہوتے ہیں مفرور اور اشتہاری؟’

مریم نواز نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا دوسرے معزز ججز کو جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرح انتقام کا نشانہ بننے سے بچانا نہیں چاہیے؟ اگر معزز جج صاحبان نے آج دباؤ کے خلاف اسٹینڈ نہ لیا تو یہ سلسلہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تک نہیں رکے گا بلکہ ہر وہ جج جو آئین اور قانون پر چلے گا اس ظلم و انتقام کی زد میں آئے گا۔’

‘معزز چیف جسٹس نے خود فرمایا کہ دباؤ کا شکار ججز عوام کو انصاف نہیں دے سکتے، ہمارے نظام انصاف کے بارے میں اس سے بڑی گواہی کیا ہوگی؟عوام تو کچھ عرصہ اور ناانصافی بھگت لیں گے لیکن معزز جج صاحبان کو بیرونی دباؤ سے کب اور کیسے نجات ملے گی؟’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں