Home » معاملات اور قیامت کی نشانیاں

معاملات اور قیامت کی نشانیاں

by ONENEWS

معاملات اور قیامت کی نشانیاں

“کیا ہم ا پنی زندگی میں کبھی خوشحالی، سکو ن واطمینان اور راحت حاصل کر سکیں گے یا پھر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم قیا مت کے با لکل قریب والے لو گ ہیں؟” میں نے یہ سوال چند روز پہلے ہی اللہ کے ایک نیک بندے سے ملاقات کے دوران کیا۔انھو ں نے میر ی طر ف دیکھا، آنکھوں سے آنکھیں ملائیں اورسا تھ ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔جواب میں کہنے لگے میں کا فی دنو ں سے قیامت کی نشانیوں کے با رے میں غوروفکر کر رہا تھا اور بہت تلاش کیا کہ کیا کو ئی نشانی مکمل ہو نے والی رہ گئی ہے۔مگر مجھے جنگ کے علاوہ، دجّال کا آنااور حضرت امام مہدی ؑ کی آمد کے علاوہ کو ئی روایت نہیں ملی کہ جس کا واقعہ ہو نا ابھی باقی ہو۔پھر میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہو ئے کہنے لگے کہ ایک بہت دلچسپ با ت جو میں نے ان احادیث اور روایات کو پڑھ کر سمجھی وہ تم کو بتا تا ہو ں۔”بخاری و مسلم” کی روایت ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میر ی جا ن ہے کہ زمانے باہم قریب ہو ں گے اور علم اٹھالیا جائے گا اور فتنوں کا ظہور ہو گا اور دلو ں پر بخل ڈالا جا ئے گا اور ہر ج کی اکثریت ہو گی۔

صحابہ ؓ نے پو چھا کہ یا رسول اللّہﷺ ہرج کیا ہے تو فر مایا “قتل و غارت”۔ بخاری کی روایات ہیں کہ قیا مت کی نشانیوں میں سے ہیں جب معاملات نااہل لو گوں کے حوالے ہو نے لگیں تو قیامت کا انتظا ر کرو۔پھر فرمایا کہ میری امت میں کچھ لو گ ایسے ہو ں گے جو ریشم،مے نوشی اور گانے بجانے کو حلال سمجھیں گے۔پھر فرمایا جنسی بے راہ رو ی عام ہو ں گی۔ “مسلم” میں ہے کہ خود غرضی اور لالچ معاشرے میں عام ہو ں گے۔اس کے علاوہ اور کئی روایات ہیں جیسے صرف جان پہچان کے لوگو ں کو سلام کیا جائے گا، رشوت تحائف کی شکل اختیار کر ے گی، لو گ معمولی قیمت پر اپنا ایمان فروخت کر یں گے، طلاق ایک معمولی بات سمجھی جائے گی،جب قیا مت بپاہو گی تو زناکاری لو گو ں کا معمول ہو گا، مر د عورتوں کے اور عورتیں مردوں کے روپ دھاریں گے، لوگ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہو ں گے، قیامت کی علامتوں میں سے ایک کم عمر لو گوں کے یہاں علم کی تلاش ہے، امین لوگوں پر تہمت لگائی جائے گی اور تہمت زدہ لوگ امین سمجھے جا ئیں گے،لوگو ں پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس بات کی پروا نہیں رہے گی کہ آیا کو ئی مالِ حلال کما رہا ہے یا حرام، آخری زمانے میں میر ی امت کے کچھ لو گ پالانو ں سے ملتی جلتی زینوں پرسوار ہو کر مساجد کے دروازوں پر اترا کریں گے۔

قیامت تب تک بپانہ ہوگی جب تک زلزلے بکثرت نہ ہونے لگیں،فر مایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ دنیا اس وقت تک فنانہ ہو گی جب تک لو گوں پر ایسا دن نہ آئے جس میں قاتل کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے مقتول کو کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ معلوم نہ ہو کہ اُسے کیوں قتل کیا گیا،لو نڈی اپنی مالکن کو جنم دے گی اور یہ کہ تو دیکھے گا کہ برہنہ پا، ننگ دھڑنگ، محتاج بکریاں چرانے والے، اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کریں گے،قیامت تب تک قائم نہ ہو گی جب تک زمانے آپس میں قریب نہ ہو جائیں، بس سال مہینے کے برابر ہو جائے گا اور مہینہ ہفتہ کے برابر، ہفتہ دن کے برابر، دن گھنٹے کے برابر اور گھنٹہ ایک چنگاری کی طرح جو چمک کر فوراً بجھ جاتی ہے۔اس طرح اور بھی بے شمار احادیث میر ی نظر سے قیامت کے با رے میں گزری ہیں مگر جو بات میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تین چیزیں جو کسی بھی انسان کو مکمل کرتی ہیں ایک اُس کا عقیدہ، دوسری چیز عبادات اور تیسری چیز ہو تی ہے معا ملات۔مگر جب میں نے ان تمام روایت پر غور کیا تو مجھے پتہ چلاکہ قیامت کی نشانیوں میں جتنی بھی نشانیاں ہیں،وہ 95% فیصد سے زیادہ معاملات پر ہی مشتمل ہیں۔ان تمام روایت کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی کے معاملات سے ہی جا کر ملتا ہے۔

بد قسمتی سے ان تما م چیزوں میں آج مسلمان سب سے پیچھے رہ گیا ہے اور Dealing یعنی معا ملات میں مکمل طور پر فیل ہو چکا ہے۔کسی دوسرے کے حقوق غصب کرنا، ڈاکہ ڈالنا، جھوٹ، وعدہ خلافی،بددیانتی اور ملاٹ مسلمانوں کی اکثریت کا معمول بن چکا ہے۔میں نے عر ض کیا حضور کیا ہم لو گ کبھی ٹھیک بھی ہو سکیں گے یا پھر ایسے ہی زندگی گزر جائے گی۔ یہ سن کر انھوں نے قہقہ لگایا اپنے بالوں کو چہرے سے پیچھے کیا اور کہنے لگے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔آپ کس کس ڈیپارٹمنٹ کو ٹھیک کر و گے،کس کس شعبے میں ایماندری کا بیج بوؤ گے۔ کچھ ڈیپارٹمنٹ کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہو تے ہیں،اُن میں ایک Education Department، دوسرا Medical Department اور تیسر ا Economic Department اور اسی طر ح Justice and Administration system ہو تے ہیں۔مگر آپ کو یہا ں سب کے سب کر پشن اور بے ایمانی سے بھر ے ہو ئے نظر آئیں گے۔

آ پ یہاں کی عدالتوں کا نظام ہی دیکھ لیں ایک ایک کیس پر کئی کئی سال لگ جاتے ہیں اور پھر بھی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔آٹا،چینی، پٹرول،گندم، سبزیاں وغیرہ کسی بھی روزمرہ کی ضروریات کے بارے میں آپ تحقیق کر لیں آپ کو کسی بھی طرح کی بہتری، ایمانداری اور خالص پن نظر نہیں آئے گا۔گورنمنٹ کے ہر فرد سے لے کر ایک عام شخص تک ہم سب کے ہاتھ کر پشن کے ساتھ رنگے ہو ئے ہیں۔جیسے کہا جاتا ہے کہ شیطان انسان کے خون کے سا تھ گردش کر تا ہے اسی طرح اب کرپشن بھی ہمارے خون میں سرایت کر چکی ہے۔حتی کہ ہم اپنے ایمان کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پوری دنیا میں لوگ اپنے کسی بھی مشہور دینی یا سماجی دن پر چیزیں سستی کر دیتے ہیں مگر ہم لو گ پورے سال میں سب سے زیادہ مہنگی چیزیں رمضان میں بیچتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے یا قوم کی زندگی اور مو جودگی کے لیے بہت ضر وری ہے کہ اُس میں ویلیوز کو فروغ دیا جائے اور اُس میں لو گو ں کی کر دار سا زی کی جائے۔ہر شخص ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے فر ائض کو انجام دیں۔اگر آج ہم اپنے معاملات اور کردار کو بہتر نہ کر سکے اور اس میں خالص پن شامل نہ کر سکے تو مجھے لگتا ہے کہ قیامت کو ہم خود سے دُور نہیں پائیں گے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment